رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
فلسطین کا ساحلی شہر غزہ محض ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ ہزاروں برسوں پر محیط ایک تہذیبی داستان ہے، جس کی جڑیں 5000 سال سے بھی زیادہ قدیم تاریخ میں پیوست ہیں۔ قدیم زمانے میں یہ شہر ایک بلند فصیل سے گھرا ہوا تھا جس کی بلندی تقریباً 30 میٹر تک پہنچتی تھی اور اس میں 8 بڑے دروازے تھے جو طلوعِ آفتاب کے ساتھ کھلتے اور غروبِ آفتاب پر بند کردیے جاتے۔ یہ شہر نہ صرف دفاعی لحاظ سے اہم تھا بلکہ قدیم تجارتی قافلوں کا مرکزی سنگم بھی تھا جہاں افریقہ اور ایشیا کی راہیں ملتی تھیں اور مختلف تہذیبیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتی تھیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں غزہ نے بے شمار حملے جھیلے اور اندازوں کے مطابق اسے 46 مرتبہ تباہ کیا گیا مگر ہر بار یہ شہر اپنی راکھ سے دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا۔ تاہم حالیہ تباہی کو ماہرین ایک مختلف نوعیت کی تباہی قرار دیتے ہیں جو محض عمارتوں کے انہدام تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی اور ثقافتی شناخت کو مٹانے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
غزہ کا تاریخی تسلسل صدیوں پر محیط ہے جہاں مملوک، ایوبی اور عثمانی ادوار کی نشانیاں اب بھی اس کی زمین میں دفن ہیں، مگر برطانوی انتداب، اعلانِ بالفور اور بعدازاں 1948 ء اور 1967 ء کے واقعات نے اس خطے کو مسلسل سیاسی اور عسکری کشمکش میں مبتلا رکھا۔ 2007 ء کے بعد سے جاری محاصرہ اس کشمکش کو ایک ایسے مرحلے میں داخل کیا جہاں یہ محاصرہ صرف جغرافیائی یا معاشی نہیں بلکہ ثقافتی بھی بن گیا۔ ثقافتی محاصرے کے اثرات نہایت گہرے اور ہمہ گیر ثابت ہوئے۔ فنکاروں اور ادیبوں کو بیرونِ ملک تقریبات میں شرکت سے محروم رکھا گیا، کتابوں کی ترسیل پر پابندیاں عائد کی گئیں اور کئی اہلِ قلم کو گرفتاریوں اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے حالات میں بعض ادیبوں نے فرضی ناموں سے لکھنا شروع کیا جبکہ دیگر نے جلاوطنی اختیار کر کے بیرونِ ملک سے اپنی آواز بلند کی۔ یہ دباو صرف افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ ثقافتی ادارے بھی اس کا نشانہ بنے۔ مختلف فوجی کارروائیوں کے دوران آرٹس مراکز، فنون کے ادارے، لائبریریاں اور ثقافتی مراکز تباہ کیے گئے جنہیں غزہ کی اجتماعی یادداشت کا امین سمجھا جاتا تھا۔ اس کے باوجود ادیبوں اور فنکاروں نے خاموشی کے ساتھ اپنی مزاحمت جاری رکھی، تحریروں اور فن کے ذریعے اپنی شناخت کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کیخلاف مہم جوئی میں ناکامی، اسرائیلی وزیراعظم کو شدید دباؤ کا سامنا
اکتوبر 2023ء کے بعد شروع ہونے والی نسل کشی نے اس تمام صورتحال کو ایک نئے اور انتہائی سنگین مرحلے میں داخل کردیا جسے ماہرین ثقافتی نسل کشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس دوران تاریخی مقامات کو مسمار کردیا گیا، نایاب مخطوطات جل کر خاک ہوگئے یا ملبے تلے دب گئے اور ہزاروں سال پرانی تہذیبی پرتیں یکسر ختم ہونے لگیں۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق غزہ میں موجود 283 تاریخی مقامات میں سے 90 فیصد سے زیادہ کو شدید نقصان پہنچا یا مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔ المسجدالعمری اور قصرالباشا جیسے اہم تاریخی مقامات بھی اس تباہی سے محفوظ نہ رہ سکے۔ قصرالباشا کے عجائب گھر سے ہزاروں نوادرات غائب ہوگئے جن میں قیمتی مخطوطات اور تاریخی نسخے شامل تھے، جیسے مزامیرِ داود اور ایک عثمانی دور کا قرآنِ مجید۔ اس تباہی کے دوران ایک چھوٹا سا رضاکار گروہ بھی سامنے آیا جس نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود ثقافتی ورثے کو بچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بمباری کے دوران بھی تاریخی عمارات کی دستاویز بندی کی اور کچھ حصوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کی۔ اسی طرح بعض مقامات جیسے قدیم بازاروں کے حصے وقتی طور پر بچائے گئے، اگرچہ بعد میں وہ بھی دوبارہ نشانہ بنے۔
ثقافتی نقصان صرف عمارات تک محدود نہ رہا بلکہ تحریری ورثہ بھی شدید متاثر ہوا۔ غزہ کے مختلف اداروں میں محفوظ سینکڑوں مخطوطات اور ہزاروں تاریخی اخبارات تباہ ہوگئے۔ ایک ادارے کے پاس موجود تقریباً 228 نایاب مخطوطات کا بڑا حصہ ضائع ہوگیا جو چودہویں سے بیسویں صدی تک کے علمی سرمائے پر مشتمل تھا۔ ان حالات میں بعض افراد نے ذاتی سطح پر اس ورثے کو بچانے کی کوشش کی۔ ایک خاتون محقق، جو ایک ثقافتی ادارے کی نگران تھیں، جب اپنے تباہ شدہ شہر واپس آئیں تو اپنے گھر کے بجائے سب سے پہلے اپنے ادارے کا رخ کیا۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ ہزاروں کتابیں اور مخطوطات ملبے میں دب چکے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے محدود ساتھیوں کے ساتھ مل کر درجنوں مخطوطات کو ملبے سے نکالا اور محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ غزہ کی لائبریریوں کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا۔ مرکزی عوامی کتب خانوں کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا اور ہزاروں کتابیں ضائع ہو گئیں۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد عالمی سفارت کاری کا نیا مرکز
تحقیق اور علمی کام کے لیے ضروری مواد مٹ جانے سے علمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نقصان صرف مادی نہیں بلکہ فکری بھی ہے، کیونکہ اس سے آنے والی نسلوں کا علمی تسلسل متاثر ہوتا ہے۔اس تمام تباہی کے درمیان ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا اور وہ تھا ڈیجیٹلائزیشن کا عمل۔ غزہ کی بلدیہ نے چند سال قبل اہم سرکاری ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا شروع کیا تھا جس کے باعث تقریباً 95 فیصد اہم ڈیٹا محفوظ رہ گیا۔ اس میں جائیدادوں کے ریکارڈ، نقشے اور دیگر اہم دستاویزات شامل تھیں، جو بصورتِ دیگر مکمل طور پر ضائع ہوسکتی تھیں۔ تاہم اس کے باوجود خدشہ برقرار ہے کہ باقی ماندہ ریکارڈ بھی خطرے میں ہے کیونکہ تباہ شدہ عمارات کسی بھی وقت مزید گر سکتی ہیں جس سے حقوق کی یادداشت بھی مٹنے کا اندیشہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ایک اور پہلو بھی نمایاں ہوا اور وہ ہے علمی اور فکری شخصیات کا نقصان۔ اس جنگ کے دوران سینکڑوں اساتذہ، ادیب، فنکار اور صحافی جان سے گئے جسے ماہرین ایک منظم کوشش قرار دیتے ہیں تاکہ معاشرے کی فکری بنیاد کو کمزور کیا جا سکے۔بین الاقوامی قوانین کے مطابق ثقافتی ورثے کو نشانہ بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے مگر اس کے باوجود غزہ میں ہونے والی تباہی اس حد تک وسیع اور گہری ہے کہ اسے محض اتفاقی نقصان قرار دینا ممکن نہیں۔
غزہ کی یہ داستان ایک شہر کی نہیں بلکہ ایک تہذیب کی بقا کی کہانی ہے جہاں ملبے کے نیچے صرف عمارتیں نہیں بلکہ تاریخ، شناخت اور یادداشت دفن ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود چند ہاتھ اب بھی مٹی سے صفحات نکال رہے ہیں، گرد صاف کررہے ہیں اور اس امید کو زندہ رکھے ہوئے ہیں کہ شاید یہ تہذیب ایک بار پھر اپنی راکھ سے جنم لے سکے۔ اس ضمن میں خواتین پیش پیش ہیں۔ وہ ملبے تلے دبی تہذیبی یادداشت کی باقیات کو جمع کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ جامع العمری جو غزہ کی سب سے قدیم مسجد ہے، جس کی تعمیر زمانہ رسالت سے بھی قبل بازنطینی دور میں ہوئی تھی۔ اس کے ملبے سے اب تک 147 مخطوطات کو نکال چکی ہیں۔

