جنگ ختم۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد

بدھ کی علی الصبح وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر ایران امریکا جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے دنیا کو نوید دی کہ امریکا اور ایران نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ لبنان اور دیگر تمام مقامات سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں اس دانشمندانہ اقدام کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمام تنازعات کو حل کرنے کے لئے ایک حتمی معاہدے پر مزید گفت و شنید کی غرض سے امریکا اور ایران کے وفود کو جمعہ 10 اپریل 2026ء کو اسلام آباد مدعو کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پوری امید ہے کہ اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اور ہم آنے والے دنوں میں مزید اچھی خبریں شیئر کرنے کے خواہشمند ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا بے پایاں شکر اور اس کا خصوصی کرم ہے کہ ایک نہایت خطرناک اور تباہ کن جنگ، جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے قریب پہنچ چکی تھی، اب اختتام کی جانب گامزن ہے۔ یہ ایک عظیم سفارتی کامیابی ہے، جس میں پاکستان کی انتھک، مخلصانہ اور دانشمندانہ کوششوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان کی بھرپور سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں اس مہلک جنگ کے تمام فریق امریکا، ایران اور اسرائیل بالآخر دو ہفتوں کیلئے جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے بڑی راحت اور امید کی کرن ہے۔ یہ جنگ جس رخ پر آگے بڑھ رہی تھی، اس نے پوری دنیا کو شدید تشویش، اضطراب اور بے چینی میں مبتلا کر دیا تھا۔ بالخصوص امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلسل سخت اور خطرناک دھمکیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ اور سنگین بنا دیا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی بھی فریق ہار ماننے کو تیار نہیں اور ہر ایک دوسرے کو مکمل تباہ کرنے کے درپے ہے۔ جنگ کی یہ شدت اور اس کا بڑھتا ہوا دائرہ اس بات کا عندیہ دے رہا تھا کہ اگر اسے فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ ایک عالمی تباہی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔اس کے اثرات صرف فریقین تک محدود نہیں رہے تھے، بلکہ اس کے مہلک سائے پوری دنیا پر پھیلنے لگے تھے۔ ہر نیا حملہ پہلے سے زیادہ خطرناک ردعمل اور سنگین نتائج کو جنم دے رہا تھا۔ دنیا ایک ایسی آزمائش میں مبتلا تھی جہاں ہر لمحہ کسی بڑے سانحے کا خدشہ موجود تھا۔ عالمی معیشت شدید دباؤ میں آ چکی تھی۔

آج کی دنیا کی معیشت کا دارومدار تیل پر ہے اور جیسے ہی جنگ کا آغاز ہوا اس کا پہلا نشانہ بھی تیل ہی بنا۔تیل کے ذخائر، تنصیبات، پیداوار اور ترسیل سب حملوں کی زد میں آ گیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آیا بلکہ عالمی معیشت لرز کر رہ گئی۔ مہنگائی، بے یقینی اور معاشی عدم استحکام نے دنیا بھر کے عوام کو پریشان کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگی کارروائیوں میں اضافے کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع بھی بڑھتا جا رہا تھا اور یہ خدشہ شدت اختیار کر رہا تھا کہ کہیں یہ جنگ مزید پھیل کر ایک وسیع علاقائی یا حتیٰ کہ عالمی جنگ کی شکل اختیار نہ کر لے۔ایسے نازک اور خطرناک وقت میں پاکستان نے جس بصیرت، تحمل اور حکمت کا مظاہرہ کیا، وہ قابل تحسین ہی نہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔ پاکستان شروع دن سے ہی امن کا داعی رہا ہے۔ اس نے نہ صرف خود کو اس جنگ سے دور رکھا بلکہ تمام فریقین کو بھی صبر و ضبط سے کام لینے اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تلقین کرتا رہا۔ پاکستان نے عملی اقدامات کے ذریعے پل کا کردار ادا کیا، جو متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے میں کامیاب ہوا۔ پاکستان کو اپنی پوزیشن کی حساسیت کا بخوبی ادراک تھا۔ سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کے باعث یہ خدشہ موجود تھا کہ اگر جنگ مزید شدت اختیار کرگئی تو پاکستان کیلئے خود کو اس تنازع سے الگ رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے نہایت محتاط اور متوازن پالیسی اپنائی۔ اس نے کردار سے واضح کیا کہ وہ مسلم دنیا کو باہمی تصادم کا شکار نہیں دیکھنا چاہتا۔ ایران کو سعودی عرب پر حملوں سے باز رہنے کی تنبیہ بھی اسی حکمت عملی کا حصہ تھی۔

خدا نخواستہ اگر مسلم ممالک اس جنگ میں الجھ جاتے، جیسا کہ اس کی پوری منصوبہ بندی کی جا چکی تھی، تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہوتے اور اس کا فائدہ یقینی طور پر اسلام دشمن قوتوں خاص طور پر اسرائیل کو ہوتا۔ پاکستان نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے انتہائی بردباری اور تدبر کے ساتھ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔ بدھ کی صبح جب جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا تو ساری دنیا نے سکھ کا سانس لیا، جو چند گھنٹے پہلے تک ”ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم” کی تصویر بنی نہایت پریشانی حالی سے اس سارے منظر کو دیکھ رہی تھی اور دعا کر رہی تھی کہ تباہی ٹل جائے۔ یہ جنگ بندی اگرچہ فی الحال دو ہفتوں کیلئے ہے، لیکن اس دوران باقاعدہ مذاکرات کے ذریعے ایک مستقل اور پائیدار امن معاہدے کی راہ ہموار کی جائے گی۔ جمعہ 10 اپریل کو اس حوالے سے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نہایت اہمیت کے حامل ہیں، جہاں فریقین آمنے سامنے بیٹھ کر مسائل کے مستقل حل کی طرف بڑھیں گے۔

دنیا آج جس دور میں داخل ہو چکی ہے، وہ شعور، تعلیم اور تہذیب کے عروج کا دور کہلاتا ہے۔ اس دور میں جنگیں اور خونریزی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہئیں۔ انسان نے اپنی تاریخ میں بدترین کشت و خون اور تباہی اور المیے ہی دیکھے ہیں۔ یہ سلسلہ اگر آج کے اس دور تہذیب و تنویر میں بھی جاری رہتا ہے تو اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہوگا کہ آج کے ”مہذب” انسان اور جنگل کے درندے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ مسائل کو طاقت اور قتل و خون کی بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔ ایک مہینے سے زائد جاری رہنے والی دور جدید کی اس تباہ کن ترین اسمارٹ جنگ میں اب تک یہی سامنے آیا ہے کہ جارح اور حملہ آور طاقتوں کو رسوائی، بدنامی اور انسانیت کو ابتلائے آزار کرنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ پاکستان نے اپنی صلاحیتوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست ہے بلکہ عالمی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے، یہ صرف پاکستان کی نہیں، پوری دنیا کی کامیابی ہے اور انسانیت کی فتح ہے، پاکستان کے اس کردار نے جارح قوتوں کو بھی موقع دیا ہے کہ وہ حقیقت کا ادراک کریں اور ضد، انا اور ہٹ دھرمی کو ایک طرف رکھ کر کھلے دل کے ساتھ انسانیت کے مفاد کو سامنے رکھ کر مستقل امن کا انتخاب کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آنے والے مرحلے کو بھی کامیابی سے ہمکنار کرے اور دنیا کو جنگوں، خونریزی اور تباہی سے محفوظ رکھے، آمین۔