امریکی کانگریس اور روس و چین ٹرمپ کا ہاتھ روکیں!

ان سطور کی تحریر کے وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے بدھ (آج) کی صبح تک دیے گئے الٹی میٹم کے پورے ہونے تک فریقین کسی نہ کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ایک بار پھر دھمکی آمیز اور سخت زبان استعمال کیے جانے کے بعد بہت سے مبصرین ثالثی کی کوششوں کی ناکامی کا خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں۔

قبل ازیں واشنگٹن اور تہران میں جاری کشیدگی کے درمیان خطے میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان، مصر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک ڈرافٹ پیش کیا ہے، لیکن دونوں طرف سے ملاجلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران نے تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے عارضی اور غیر موثر قرار دیا ہے، جبکہ امریکا نے اسے اہم مگر ناکافی قدم قرار دیا ہے۔ خطے میں جاری فوجی کارروائیاں شدت اختیار کر چکی ہیں، شہری علاقوں میں ہلاکتیں اور تباہی معمول بن گئی ہے، اور عالمی برادری تشویش کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کی جانب نگاہیں جمائے ہوئے ہے۔ پاکستان، مصر اور ترکیہ کی ثالثی کے باوجود، معاہدے کی کامیابی ابھی بھی غیر یقینی ہے، اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیج فارس سے لے کر اردن اور لبنان تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے ایک اہم سفارتی پیشکش کی ہے، جسے بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے”اسلام آباد اکارڈ” کے نام سے رپورٹ کیا ہے۔ اس فریم ورک کے مطابق دو مراحل پر مشتمل منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس میں پہلے مرحلے میں فوری عارضی جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل جنگ بندی اور جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی تجویز شامل ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس منصوبے میں ابتدائی طور پر 45 روزہ جنگ بندی زیر غور ہے، جس کے دوران دونوں فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی پر مذاکرات جاری رہیں گے۔ منصوبے کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات بھی طے کیے جائیں گے، جن میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی محفوظ آمد ورفت اور جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق ضمانتیں دینا شامل ہے۔ مجوزہ حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہو سکتی ہے۔ اگر مذاکرات کو مزید وقت درکار ہوا تو عارضی جنگ بندی کو بڑھانے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطی اسٹیو وٹکوف، اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔

عالمی مبصرین کے مطابق اس وقت مشکل اور پیچیدگی یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایک جانب ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کا اعتراف کر رہے ہیں اور مذاکرات کی کامیابی کی توقع بھی ظاہر کر رہے ہیں تو دوسری جانب ان کی جانب سے ایران کو تباہ کرنے، اس کے تمام پاور پلانٹس اور پلوں کو بموں سے اڑا دینے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے بارے میں انتہائی گھٹیا اور بے ہودہ زبان بھی استعمال کر چکے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ یا تو امریکی صدر ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں اور وہ نیتن یاہو کی خواہش اور فرمائش پر ایران کے خلاف جارحیت بہرصورت جاری رکھنا چاہتے ہیں جس کے دوران مذاکرات کا ڈول محض وقت حاصل کرنے کے لیے ڈالا گیا ہے یا پھر ریاستہائے متحدہ امریکا کے صدر جنگ میں مسلسل ہزیمتیں اٹھانے کے بعد اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں جس کے بعد وہ مضحکہ خیز حد تک متضاد رویوں کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔ یہ محض کوئی تنقید یا طنز نہیں بلکہ خود امریکا کے بہت سے سنجیدہ حلقوں نے ٹرمپ کی ذہنی کیفیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ یہاں تک کہ ایران کے خلاف غیر اخلاقی بیان پر سینئر امریکی سیاست دانوں نے ٹرمپ کو ”پاگل” قرار دیا ہے۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ٹرمپ ذہنی عدم توازن کا شکار اور خطرناک ہوچکے ہیں ، کانگریس کو کوئی اقدام کرنا ہوگا ، ابھی اور اسی وقت کرنا ہوگا۔ سینیٹ میں اقلیتی قائد چک شومر نے کہا ہے کہ ایسے میں جب سب لوگ ایسٹر منانے جا رہے ہیں ٹرمپ سوشل میڈیا پر بے قرار پاگل کی طرح بکواس کر رہے ہیں۔ خود ٹرمپ کی سابق زبردست حامی ٹیلر گرین نے کہا ہے کہ ٹرمپ پاگل ہو چکے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کا ہر وہ شخص جو خود کو مسیحی سمجھتا ہے اسے صدر کے پاگل پن میں مداخلت کرنی چاہیے۔ امریکی سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ اگر وہ ٹرمپ کی کابینہ میں ہوتے تو ایسٹر کی ان چھٹیوں میں امریکی آئین میں 25ویں ترمیم لاگو کرنے کے لیے قانون دانوں سے بات کر رہے ہوتے ، 25ویں ترمیم کے تحت صدر کی معذوری کی صورت میں کابینہ کے اکثریتی فیصلے سے اس کے اختیارات نائب صدر سنبھال سکتا ہے۔ دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سربراہ انیئس کالامار نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو نفرت انگیز قرار دے دیا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایرانی پلوں، بجلی گھروں کو تباہ کرنے کے بعد سب سے پہلے متاثر شہری ہوں گے، نہ بجلی، نہ پانی اور حملوں سے بچنے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ جنیوا کنونشن کے مطابق بجلی گھروں اور پلوں سمیت عوامی سہولیات کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے۔

اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی صحت سے متعلق مذکورہ خدشات میں کسی حد تک بھی صداقت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے امن واستحکام کا مستقبل انتہائی سنجیدہ اورحقیقی خطرے سے دوچار ہے۔ اگر امریکی کانگریس اور وہاں کے ذمہ دار سیاست دانوں نے اس خطرے کا بروقت سدباب نہیں کیا اور مشکوک ذہنی کیفیت کے شکار ٹرمپ کو عالم انسانیت کی تقدیر سے کھیلنے دیا تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے نتیجے میں دنیا میں کہاں کہاں کتنی خرابی اور فساد برپا ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی کانگریس اور روس و چین جیسی عالمی طاقتوں کو اب وقت ضائع کیے بغیر مداخلت کرنا ہوگی اور ٹرمپ کو دنیا کا امن تباہ کر دینے والے مزید احمقانہ فیصلے اور اقدامات کرنے سے روکنا ہوگا۔