امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں طیارہ بردار جنگی بحری جہاز روانہ کردیاہے جس سے جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایرانی حکام نے ا مریکی اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے انتباہ جاری کیاہے کہ ایران پر امریکی حملے کا ممکنہ جواب دیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق عرب ممالک، عراق اور بعض نیٹو ارکان علاقائی کشیدگی کو کم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ان کا کہناہے کہ جنگ کی صورت میں علاقائی امن شدید متاثر ہوگا لہذا کشیدگی بڑھانے کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ بتایا جارہاہے کہ ایران نے حملہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا کے ساتھ مذاکرت پر آمادگی کا اظہار کیاہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ ہوئی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ ہی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست، تجارت اور امن پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور جنگ کا دائرے ناقابلِ تصو ر حد تک بھی پھیل سکتاہے۔
ایران کے خلاف امریکا کے جارحانہ رویے کو اسرائیل کی خواہش اور دباؤ کا نتیجہ قرار دیاجارہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق وہ ایران کے عوام کو جبر سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سے ایران میں خراب معاشی صورت حال کے خلاف عوام کی ایک بڑی تعداد کے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس میں مبینہ طورپر ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔ ایرانی حکام ان مظاہروں کو بیرونی مداخلت اور سہولت کار ی سے تعبیر کررہے ہیں جبکہ امریکا چاہتا ہے کہ یہ مظاہرے جاری رہیں تا کہ بین الاقوامی قوتوں کو انسانی حقوق کی آڑ میں ایران کی مذہبی حکومت کے خلاف عملی اقدام کو موقع مل سکے۔ سلامتی کونسل کی جانب سے ایران میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں اور حکومتی ردعمل پر تنقید کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں انسانی حقوق کمیشن کے تحت تحقیقات کا عندیہ بھی دیا گیاہے۔ یہ امر قابل ہے کہ امریکا جمہوریت، آزادی، انصاف، انسانی حقوق اور خواتین کے تحفظ کے نام پر پہلے بھی مختلف ممالک کے خلاف کارروائی کرچکاہے۔ ماضی میں افغانستان کے حوالے سے بھی یہی پالیسی اختیار کی گئی تھی تاہم اس وقت امریکا افغانستان کی مذہبی حکومت کو بھاری امداد فراہم کررہا ہے جبکہ افغان حکومت نہ تو جمہوریت پر قائم ہے اور نہ ہی وہاں عوام کو وہ آزادی حاصل ہے جو مغربی تصورِ حیات یا امریکی مطالبات کی صورت میں بالخصوص عوام کو ملنی چاہیے۔ افغانستان کی موجودہ قیادت ایک طرف کٹر مذہبی رویے کا اظہار کررہی ہے تو دوسری جانب اس کے طرزِ عمل سے پڑوسی ممالک کی ناک میں دم ہوچکاہے۔ پاکستان ہی نہیں مشر ق وسطیٰ کی ریاستیں بھی دہشت گردی، دراندازی اور منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کی پشت پناہی کی وجہ سے افغان حکومت سے نالاں دکھائی دیتی ہے لیکن امریکا نے جو بزعمِ خود انسانی حقوق کا ٹھیکے دار اور دنیا کے ہر معاملے میں ٹانگ اڑانا اپنا فرض منصبی سمجھتاہے، جنوبی اور وسط ایشیا کے امن سے متعلق اس اہم ترین معاملے سے لاتعلقی اختیار کررکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کاروں کو ایران کے خلاف امریکی رویہ ہاتھی کے دانتوں جیسا معاملہ دکھائی دیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایران کے خلاف امریکی کارروائی سے خطے میں واقعی امن و سلامتی کا قیام عمل میں آسکے گا یا صورت ِحال پہلے سے بھی بدتر ہوجائے گی ؟اس حوالے سے بھی عراق اور افغانستان کی مثال کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکا نے افغانستان اور عراق کے خلاف رواں صدی کی بڑی جنگیں امن، سلامتی، انسانی حقوق اور عوام کی آزادی نیز دہشت گردی کے خاتمے اور اقوامِ عالم کو عسکریت پسند گروہوں سے نجات دلانے کے نام پر برپا کی تھیں لیکن لاکھوں انسانی جانوں کے نقصان اور کھربوں ڈالر کے ضیا ع کے باوجود وہ مقاصد حاصل نہ ہوسکے۔ افغانستان آج بھی عسکریت پسند گروہوں کا مرکز ہے جہاں سے پاکستان پر دن رات حملے کیے جارہے ہیں اور خود کش حملہ آوروں کی ایک فوج پاکستان پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہے جبکہ علاقائی ممالک کے امن و سلامتی کو بھی افغانستان سے شدید تحفظات لاحق ہیں۔کیا یہی تاریخ ایران کے ساتھ بھی دہرائے جانے کی تیاری کی جارہی ہے ؟کیا ایران پر حملے سے انسانی حقوق کا تحفظ ممکن ہوسکے گا؟یا یہ کارروائی بذاتِ خود عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے کیوں کہ محض خدشات اور اقدام کے خوف سے اگر بڑی طاقتوں کو کسی بھی ملک پر حملے کا جواز فراہم کردیا جائے تو قوانین عملی طورپر معطل ہوجائیں گے اور الفاظ کمزور اقوا م کے خلاف شکنجہ کسنے اور ان پر بالادستی قائم رکھنے کا ایک حربہ ہی سمجھا جائے گا جیسا کہ اس وقت دنیا میں یہی تاثر عام ہوتا جارہا ہے۔
ملک کے بعض دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر امریکی حملے کے پس پردہ اسرائیلی خواہش دراصل ایران کو سبق سکھانے سے زیادہ پاکستان کے خلاف گھیرا ڈالنے کا منصوبہ معلوم ہوتاہے۔ معرکہ ٔ حق میں پاکستان کی بھارت کے خلا ف تاریخی فتح نے اسرائیل کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے کیوں کہ جوہری قوت رکھنے والے ایک مسلم ملک کے پاس ایسی عسکری ٹیکنالوجی کی موجودگی جو بھارت جیسے ملک کو گھٹنوں کے بل بٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہو، اسرائیل کے گریٹر پلان کو عملی طورپر ناکام کردینے کا مکمل سامان ہے۔ پاک، سعودی عرب دفاعی معاہدے نے وسیع تر منصوبے پر پانی پھیر دیاہے اور ترکیہ کی اس معاہدے میں شمولیت حقیقی معنوں میں اسرائیلی حکام کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی ہوگی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے خلاف اسرائیل اور بھارت مشترکہ صف بندی کرچکے ہیں جبکہ ”لویہ افغانستان ” کاخواب دکھا کر انھوں نے افغان حکومت کو بھی اپنی صف میں کھڑا کرلیاہے، ان حالات میں ایران میں رجیم چینج کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کی افواج بھارت اور افغانستان کے بعد اب ایران کی سرحد پر بھی پاکستان کی مخالفت میں موجود ہوں گی جو کہ بہر حال پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ ترین صورت حال ہوگی۔
یہ حالات یقینا مملکت ِ خداداد پاکستان کی قیادت کے لیے ایک کڑا امتحان ہیں جن کی سفارت کاری کا ڈنکا ان دنوں پوری دنیا میں بج رہاہے۔ سفارتی محاذ پر سرگرمی سے کام کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو یہ مدعیٰ بھی اٹھانا چاہیے کہ جنگ کی بجائے امن و سلامتی کی فضا کو ترجیح دی جائے اور جبر سے نجات کے عنوان کے تحت نہ تو ایرانی عوام کا خون بہایا جائے او رنہ ہی علاقائی ممالک کے تجارتی، اقتصادی اور سیاسی مفادات کو تباہ کرنے کی کوشش کی جائے۔

