دہشت گردی کے خلاف مؤثر قومی بیانیہ ناگزیر ہے

جمعہ کو وزیر اعظم ہاؤس میں قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے نہ تھی۔ ملک میں دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، خوارج ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ہے، ہمارے دشمنوں کے ذریعے انہیں وسائل پہنچ رہے ہیں، دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جو وسائل عطا کئے ہیں وہ شاید ہی کسی ملک کے پاس ہوں، وسائل کو اگر استعما ل کریں تو ہمارے تمام مسائل ختم ہوجائیں گے۔ اس موقع پروفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ شرکاء اجلاس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتہاپسندی اور فکری دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا اور پیغامِ پاکستان کو تعلیمی و سماجی سطح پر عام کیا جائے گا۔

وطن عزیز پاکستان کو اس وقت جن خطرناک چیلنجوں اور مشکلات کا سامنا ہے، ان میں امن و امان کا مسئلہ سرفہرست ہے اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جس سطح کی قومی یکجہتی، یکسوئی اور فکرمندی کی ضرورت ہے وہ اس وقت نظر کہیں نہیں آتی ۔ ایک طرف حال یہ ہے کہ پاکستان کے دو صوبے بد امنی،دہشت گردی اور تخریب کاری کی آگ میں جل رہے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر ہمارے جوان، بچے ،بزرگ اورعام شہری دشمن قوتوں کے آلہ کار دہشت گردوں کے ہاتھوں لقمہ اجل بن رہے ہیں، ہماری املاک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، ہماری معیشت اور تجارت کے ساتھ کھلواڑ کی جارہی ہے اور دوسری طرف ہماری بے فکری بلکہ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے ہاں کے بہت سے ذمہ دار سیاسی و مذہبی حلقے بھی انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے الٹا اس بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں جو وطن عزیز پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے مخصوص قوتوں نے مخصوص گروہوں کے ذریعے پھیلایا ہوا ہے۔ ایک جانب خیبرپختونخوا میں اسلام، شریعت اور جہاد کے نام پر بے گناہ لوگوں کا خون بہایا جارہا ہے اور کچھ خام دل ودماغ والے لوگوں نے شریعت کے خود ساختہ تصور کے تحت فساد مچایا ہوا ہے جس کے شر سے وہاںسیکیورٹی فورسز کے جوان ہی نہیں بلکہ عام شہری اور سنجیدہ و فہمیدہ علماء کرام بھی محفوظ نہیں ہیں تو دوسری جانب بلوچستان میں حقوق اور قوم پرستی کے نام پر وفاق پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کو ہوا دی جارہی ہے اور مقامی نوجوانوں کے ذہنوں میں ملک کے خلاف نفرت کا زہر بھراجا رہا ہے۔ دونوں جگہ شورش پھیلانے والے عناصر کو سرحد پار افغانستان سے اسلحہ، فنڈز اور افرادی قوت فراہم کی جارہی ہے۔

اس امر پر کسی باشعور پاکستانی کو شک نہیں ہے کہ پاکستان کے خلاف اس ساری مہم جوئی کے پیچھے ہمارے ازلی دشمن بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے مگر محب وطن پاکستانیوں کے لیے انتہائی دکھ اور تکلیف کی بات یہ ہے کہ اس مہم جوئی میں بھارت اکیلا نہیں ہے بلکہ کابل میں قائم وہ حکومت بھی اس میں برابر کی شریک ہے جس کو اہل پاکستان اپنا خیرخواہ اور ہمدرد سمجھتے تھے اور جس کی اتحادی افواج کے خلاف جدوجہد کی کامیابی کے لیے اہلیان پاکستان کی اکثریت نہ صرف دعائیں مانگا کرتی تھی بلکہ اس سرزمین کے ہزاروں کڑیل جوانوں نے اس جدوجہد میں افغانوں کا ساتھ دے کر اپنی جانیں تک گنوائی تھیں۔ آج اس حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ خیر خواہی، شکر گزاری اور تعاون کے جذبے کا مظاہرہ کرنے کی بجائے پاکستان کے دشمنوں کی زبان بولی جارہی ہے اور یہاں تک کہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں پر قبضے کے عزائم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی کے زمانے میں کابل سے پاکستان کے خلاف اتنی نفرت کا اظہار نہیں کیا جاتا تھا جتناکہ آج ”امارت اسلامیہ” کے کارپردازان اور وزرا کی جانب سے زہر افشانی کی جارہی ہے۔ بات اگر یہیں تک محدود ہوتی توبھی کوئی بات تھی، وہاں سے پاکستان میں کارروائیاں کرنے کے لیے باقاعدہ تشکیلات کی جارہی ہیں اور مصدقہ اطلاعات کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبة اللہ کی جانب سے 37پاکستانی اضلاع میں باضابطہ شیڈو نظم قائم کیا جا چکا ہے۔ وہاں کے تعلیمی اداروں میں افغانستان کا اٹک تک پھیلا ہوا نقشہ بچوںکے ذہنوں میں بٹھایا جاتا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات سے چشم پوشی کرناخود کشی کے مترادف ہوگا۔ ہمیں اس بارے میں بہر حال آنکھیں کھولنا ہوں گی اورافغانستان میں کاشت کی جانے والی نئی زمینی حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا۔

اس کے لیے پاکستان کی حکومت، فوج، میڈیا، سیاسی جماعتوں اور بالخصوص مذہبی طبقات کو بیداری کا ثبوت دینا ہوگا۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان کے ساتھ گفتگو میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ خوش آیند ہیں۔ ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اب ایک منظم بیانیے کی تشکیل ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے موقع پرجامعة الرشید کے سرپرست اعلیٰ حضرت مفتی عبدالرحیم نے بالکل درست کہا ہے کہ ریاست پاکستان اور حکومت کی طرف سے مضبوط قومی بیانیہ عوام تک جانا چاہیے، جو سہولت کاری بھی ہو رہی ہے چاہے وہ سیاسی، مذہبی سطح پر ہویا تعلیمی اداروں کی طرف سے ہو اس کا خاتمہ ضروری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کو درپیش بیرونی حمایت یافتہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی سطح پر بھی یکسوئی و یکجہتی ناگزیر ہے اور مذہبی سطح پر علماء کرام کا بھی تاریخ کی درست میں آکھڑا ہونا ضروری ہے۔ سیاسی سطح پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایک پیج پر آنا چاہیے۔ خیبرپختونخوا کی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف گومگو کی پالیسی ترک کرنا ہوگی اور واضح لائن لینا پڑے گی۔ پاکستان کے مذہبی حلقوں نے اگر ماضی میں طالبان کی حمایت کی تھی تو اسلامی نظریے اور امہ کے فلسفے کے تحت کی تھی، آج اگر طالبان نے حکومت میں آنے کے بعد اسلامی پاکستان کی جگہ ہندوتوا کے نظریے کی علم بردار اور مسلمانوں کی قاتل بھارتی حکومت کو اپنا ان داتا بنالیا ہے اور وہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کی جڑیں کاٹنے کے درپے ہیں تو وہ جواز خود ہی ختم ہوگیا ہے جس کی بنا پر ہم ان کی حمایت کرتے تھے۔ آج بھی اگر وہ دشمنوں کی پراکسی کا کردار چھوڑ کر سنجیدہ کردار ادا کرنے پر آمادہ ہوں تو ان کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں مگر ان کی موجودہ ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی پاکستان کے عوام کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ہمیں اب کسی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔