غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کردہ 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ اس مرحلے میں غزہ کی پٹی کے لیے ایک ٹیکنوکریٹک انتظامیہ کی تشکیل، تعمیر نو کے عمل کا آغاز اور اسلحہ برداری کے خاتمے جیسے اقدامات شامل ہیں۔وٹکوف نے وضاحت کی کہ دوسرے مرحلے کی بنیاد غزہ کی پٹی میں ایک عبوری فلسطینی ٹیکنوکریٹک انتظامیہ کے قیام پر ہے جسے قومی کمیٹی برائے انتظام غزہ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی اسلحہ برداری کے خاتمے کے عمل کا آغاز کرے گی جس میں غیر قانونی اور غیر مجاز انفرادی اسلحہ بھی شامل ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ ہمہ گیر تعمیر نو کے منصوبوں پر عملی کام شروع کیا جائے گا۔امریکی حکام نے کہا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس میں جو بھی شامل ہوگا اس کا فیصلہ صدر ٹرمپ خود کر رہے ہیں۔

مصر، قطر اور ترکیہ نے فلسطینی ٹیکنوکریٹس کمیٹی کے مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے جو ڈاکٹر علی عبد الحمید شعث کی سربراہی میں غزہ کی انتظامیہ سنبھالے گی۔قاہرہ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ 15 ارکان پر مشتمل انتظامی کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق ہو گیا ہے اور انہیں امید ہے کہ اس کا جلد باضابطہ اعلان کیا جائے گا تاکہ معاہدے کی باقی شقوں پر عمل درآمد کیا جا سکے اور کمیٹی کو غزہ پٹی بھیجا جا سکے جہاں وہ عوامی اور روزمرہ امور کی نگرانی سنبھالے گی۔ حماس نے بھی غزہ کا انتظام چلانے کے لیے مقامی ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کا خیر مقدم کیا ہے۔

غزہ جنگ بندی کے دوسرے کا آغاز اس لحاظ سے حوصلہ افزا امر ہے کہ فی الوقت غزہ پر دوبارہ جارحیت مسلط کرنے کے نیتن یاہو کے عزائم ناکام ہوگئے ہیں اور غزہ کے بیس لاکھ سے زائد شہریوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے کو بھی راستہ ملتا دکھائی نہیں دیتا۔ غزہ کی مزاحمتی تحریک حماس کی یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ اس نے مذاکرات کے دوران ثابت قدمی کا مظاہرہ کرکے غزہ میں مقامی افراد پر مشتمل ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کا اپنا مطالبہ منوا لیا ہے جو حماس کی جگہ غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔ یاد رہے کہ حماس غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے تمام مراحل میں اپنے اس موقف کا اعادہ کرتی رہی ہے کہ وہ غزہ میں مستقل قیام امن اور پائے دار جنگ بندی کے لیے غزہ کا کنٹرول چھوڑ نے کو تیار ہے بشرطیکہ اس کی جگہ آنے والی انتظامیہ فلسطینی گروہوں کے نمایندہ افراد پر مشتمل ہو جبکہ امریکا اور اسرائیل نے غزہ پر آتش و آہن کی بارش برسانے کے باوجود حماس کو خود سرنڈر کروانے میں ناکامی کے بعد یہ کوشش کی تھی کہ یہ کام امن فورس کے نام پر باہر سے لائی جانے والی دیگر ممالک کی افواج کے ذریعے بزور قوت سرانجام دیا جائے۔فلسطینی مزاحمتی تحریکوں نے صبر آزما اور اعصاب شکن حالات کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے اصولی موقف پر استقامت دکھائی اور اب بالآخر جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ اس واضح تاثر کے ساتھ شروع ہورہا ہے کہ غزہ کی مزاحمت اس وقت بھی اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑی ہے اور اس نے اپنے بنیادی موقف پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔اسرائیل اب بھی یقینی طور پر کوشش کرے گا کہ وہ جنگ بندی کے اس دوسرے مرحلے پر بھی دھوکا دینے کی کوشش کرے اور فلسطینی مزاحمتی تحریک کو زبردستی اپنی شرائط پر لانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے آزمائے جیساکہ اس نے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزیوں کی صورت میں کیا تاہم فلسطینی مزاحمتی تحریک نے اگر پہلے مرحلے میں تمام تر صہیونی اشتعال انگیزیوں کے باوجود ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور نظم و ضبط برقرار رکھا ،بالکل اسی طرح دوسرے مرحلے میں بھی وہ اسرائیل کو معاہدے سے بھاگنے نہیں دیں گے اورایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست جس کا دار الحکومت القدس الشریف ہو، کے قیام کی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

اس امر میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ فلسطینی مقاومت کو 7اکتوبر 2023ء کے طوفان اقصیٰ آپریشن کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے اور فلسطینی عوام کو آزادی اور خودمختاری کے اپنے پیدائشی انسانی حق کے حصول کی جدوجہد میں بے پناہ قربانیاں دینا پڑی ہیں،ایسی قربانیاں جن کا تصور کرتے ہوئے بھی انسان لرز جاتا ہے اور حالیہ انسانی تاریخ میں کسی قوم کی جانب سے اپنی آزادی و خودمختاری کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر جانی و مالی قربانیاں دینے کی مثال نہیں ملتی تاہم فلسطینیوں کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں گئی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سوا دو برسوں کے دوران فلسطینیوں کا مقدمہ جس قوت اور شدت کے ساتھ عالمی ضمیر کی عدالت میں اٹھ گیا ہے اور جس انداز سے صہیونی درندگی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوئی ہے،اس نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی منزل بہت قریب کردی ہے۔آج ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت کو عالمی سطح پر جس طرح سے سمجھا اور محسوس کیا جارہا ہے، آج سے سوا دو برس پہلے اس کا تصور بھی ،موجود نہیں تھا۔ بہت سے عالمی مبصرین کے مطابق فلسطینی مقاومت نے مسلح جدوجہد کے ذریعے جتنا کچھ حاصل کیا ہے،وہ گزشتہ پون صدی کی سیاسی جدوجہد میں حاصل نہیں کیا جاسکا تھا اور اب وہ وقت آگیا ہے جب فلسطینی کی سیاسی قیادت سفارت کاری کے میدان میں اس جدوجہد کو آگے بڑھانے کی صلاحیت کا ثبوت دے اور عالمی رائے عامہ کے موجودہ مثبت رجحانات کو فلسطینی کاز کو کامیابی کی منزل سے ہم کنار کرنے کے لیے بروئے کار لائے۔

غزہ جنگ بندی کو دوسرے مرحلے تک لے جانے میں قطر، مصر اور ترکیہ جیسے اسلامی ممالک نے اہم کردار ادا کیا جس کو سراہا جانا چاہیے تاہم اب ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ تمام اسلامی ممالک جنگ بندی کو پائے دار بنانے اور غزہ کی تعمیر نو وہاں کے عوام کی امنگوں کے مطابق یقینی بنانے کے لیے بھی فکر مندی کا مظاہرہ کریں۔ سعودی عرب اور قطر جیسے سرمایہ دار اسلامی ممالک غزہ کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے خود سرمایہ کاری کریں اورغزہ میں تعمیر نو کے نام پر استعماری قوتوں کو اپنے مفادات کا جال بچھانے کا موقع نہ دیا جائے ۔فلسطینی دھڑوں کو بھی چاہیے کہ وہ باہمی اتحاد کا مظاہرہ کریں اور غزہ میں سیکیورٹی کے معاملات سنبھالنے کے لیے مقامی نوجوانوں پر مشتمل فورس تشکیل دی جائے تاکہ کسی کو قیام امن کے نام پر وہاں غیر ملکی افواج باہر سے لانے کا جواز نہ مل سکے۔غزہ میں ایک کامیاب اور نمایندہ حکومت کا قیام ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے خشت اول کا کردار ادا کرسکتا ہے۔