پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے مابین اسلام آباد میں 603 ملین ڈالر (ایک کھرب سے زائد) مالیت کے تین قرض معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ معاہدے کے تحت اسلامی ترقیاتی بینک ایم 6 سکھر تا حیدرآباد موٹروے منصوبے کیلئے 475 ملین ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرے گا۔ پاکستان کا اسلامی ترقیاتی بینک کے ساتھ انتہائی غریب اور سیلاب متاثرہ گھرانوں کو غربت سے نکالنے کا پروگرام شروع کرنے کا بھی معاہدہ ہوا۔ پروگرام کا مقصد انتہائی غریب خاندانوں کو نقد امداد پر انحصار سے نکال کر پائیدار روزگار، معاشی خودمختاری اور مضبوط معاشی بنیاد فراہم کرنا ہے۔منصوبہ ملک کے 25 اضلاع میں نافذ کیا جائے گا۔ آزاد جموں و کشمیر میں اسکول سے باہر بچوں کے منصوبے کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک 10 ملین ڈالر فراہم کرے گا۔
اسلامی ترقیاتی بینک اور پاکستان کے مابین اسلام آباد میں 603 ملین ڈالر مالیت کے تین قرض معاہدوں پر دستخط بلاشبہ ایک اہم اور خوش آئند پیشرفت ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان شدید مالی دباؤ، بڑھتے ہوئے قرضوں، کم زرِ مبادلہ کے ذخائر اور کمزور معیشت جیسے چیلنجز سے دوچار ہے، عالمی اور اسلامی مالیاتی اداروں کی جانب سے معاونت نہ صرف فوری ریلیف کا ذریعہ ہے بلکہ یہ بین الاقوامی اعتماد کا اظہار بھی ہے۔ اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے بنیادی ڈھانچے، غربت کے خاتمے اور تعلیم جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان پر دنیا کا اعتبار قائم ہے۔ ان معاہدوں میں سب سے نمایاں ایم 6 سکھر تا حیدرآباد موٹروے منصوبے کیلئے 475 ملین ڈالر کی مالی معاونت ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ٹرانسپورٹ اور تجارتی لاگت پہلے ہی زیادہ ہے، وہاں موٹرویز صنعتی سرگرمیوں، تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ میں بہت اہم ہیں۔ بہتر سڑکیں صرف سفر کو آسان نہیں بناتیں بلکہ معیشت کے پہیے کو بھی تیز کرتی ہیں، کیونکہ اشیاء اور خدمات کی ترسیل میں وقت اور لاگت کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح غریب اور سیلاب متاثرہ گھرانوں کو غربت سے نکالنے کیلئے اسلامی ترقیاتی بینک کے تعاون سے شروع ہونے والا پروگرام بھی اہم ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی نکتہ پائیدار روزگار، معاشی خودمختاری اور مضبوط معاشی بنیاد کی فراہمی ہے۔ اس منصوبے کو دیانتداری اور شفافیت کے ساتھ نافذ کیا گیا تو 25 اضلاع میں ہزاروں گھرانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔
آزاد کشمیر میں اسکول سے باہر بچوں کیلئے 10 ملین ڈالر کی معاونت بھی تعلیم جیسے بنیادی شعبے میں بہترین سرمایہ کاری ہے۔ پاکستان کو جن طویل المدتی مسائل کا سامنا ہے، ان میں ایک بنیادی مسئلہ تعلیم اور انسانی وسائل کی کمی ہے، چنانچہ ایسے منصوبے وقتی فوائد سے کہیں بڑھ کر نسلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ تمام پہلو اپنی جگہ، مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ یہ معاونت دراصل قرض ہے، اور قرض بہرحال واجب الادا ہوتا ہے۔ اگرچہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے دیے جانے والے قرض عام تجارتی قرضوں سے مختلف نوعیت رکھتے ہیں اور ان کی واپسی کا طریق کار بھی نسبتاً نرم ہوتا ہے، لیکن آخری تجزیے میں یہ قرض ہی کی ایک شکل ہیں۔ اس لیے حکومتِ پاکستان کو ذمہ داری سمجھ کر قبول کرنا چاہیے۔ اس وقت پاکستان کا مجموعی قرض ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ جون 2025 تک مجموعی قرض اور واجبات تقریباً 94 کھرب روپے، یعنی جی ڈی پی کے 82 فیصد سے زائد ہو چکے ہیں۔ ایسے حالات میں مزید قرضوں کے حصول میں غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جو اپنے نظام کو چلانے کیلئے کسی نہ کسی درجے میں بیرونی مالی معاونت کا سہارا نہ لیتا ہو۔ پاکستان کی تاریخ میں ساٹھ کی دہائی اس کی واضح مثال ہے، جب سندھ طاس معاہدے کے بعد ورلڈ بینک کی بھاری مالی امداد سے صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس وقت ادارہ جاتی نظم و نسق نسبتاً مضبوط اور کرپشن کم تھی، جس کے نتیجے میں امداد کا درست استعمال ممکن ہوا اور ملک میں حقیقی ترقی کی بنیاد پڑی۔
اس تناظر میں اسلامی ترقیاتی بینک کی اس معاونت کی افادیت بھی تب ظاہر ہو سکتی ہے جب اس کا استعمال شفاف، منظم اور نتیجہ خیز ہو۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اسلامی ترقیاتی بینک اور دیگر عالمی ادارے پاکستان کو قرض دینے پر آمادہ ہیں، کیونکہ یہ اعتماد اس بات کی علامت ہے کہ وہ پاکستان کی معیشت میں قرض کی واپسی کی صلاحیت دیکھتے ہیں۔ یہ اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ معیشت مکمل طور پر مفلوج نہیں بلکہ کسی نہ کسی حد تک سروائیو کر رہی ہے، تاہم معیشت کی دستاویزی گروتھ اور حکومتی دعوؤں کے باوجود اس کے ثمرات عام آدمی کی زندگی میں تاحال نمایاں نہیں ہو سکے۔ اس لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ ترقیاتی قرضوں کو اس انداز میں استعمال کیا جائے کہ ان کے اثرات زمینی سطح پر محسوس ہوں۔ اس سلسلے میں انتظامی کنٹرول، شفافیت اور احتساب کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر شفافیت، ادارہ جاتی اصلاحات اور سخت نگرانی کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ قرضے ترقی کی بجائے ناقابلِ برداشت بوجھ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
بزرگ علمائے دین کی رحلت
گزشتہ دنوں ملک کی ممتاز دینی درسگاہ دار العلوم کراچی کے بزرگ استاد مولانا حسین قاسم کے امتحانی ڈیوٹی کے دوران اچانک انتقال کے بعد ملک کی ایک اور نامور درسگاہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے بزرگ استاد، استاذ الحدیث مولانا قاری مفتاح اللہ بھی منگل کی صبح حرکت قلب بند ہونے سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ایک حدیث شریف میں بزرگوں اور بڑوں کے وجود کو خیر و برکت کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ ایسے میں بزرگان دین کا دنیا سے اٹھ جانا یقینا خیر و برکت کے اٹھ جانے کا سبب ہے اور یہ بڑا دینی اور روحانی نقصان ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں پے در پے کئی بزرگ علمائے دین کا انتقال ہوا، جو دینی اور روحانی اعتبار سے بڑا گھاٹا، خسارہ اور خلا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مرحوم بزرگان دین کی جملہ دینی، علمی اور روحانی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے، آمین۔

