وینزویلا آپریشن میں جو کچھ ہوا وہ تو ہر اعتبار سے غلط، غیر اخلاقی، غیر جمہوری ہے ہی، مگر اس آپریشن میں ایک بڑی اہم اور نئی بات بھی سامنے آئی، جو شاید کچھ عرصہ مزید پس پردہ رہ جاتی۔ وینزویلا اٹیک میں بچ جانے والی ایک وینزویلین گارڈ نے انکشاف کیا کہ حملہ آور امریکی فوجیوں نے ایک ایسا ہتھیار استعمال کیا جس سے گولی چلی، نہ دھماکا ہوا، مگر ہمارے سر کے اندر گویا بلاسٹ سا ہوا، ہم چکرا کر گر گئے اور اکثر کے ناک یا منہ سے خون بہنے لگا، لہو کی قے آئی اور کئی گارڈمزاحمت کیے بغیر بے ہوش ہوگئے۔ اس آپریشن کی تفصیل بتاتے ہوئے وائٹ ہاس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے یہ دعوی کیا تھا کہ آپریشن میں ایک ایسا ہتھیار استعمال ہوا جو بڑاخطرناک اور نیا تھا۔ بعد میں معروف امریکی اخبار نیویارک پوسٹ اور گارڈین سنڈے نے اس وینزویلن گارڈ کا انٹرویو چھاپ دیا جس سے اندازہ ہوا کہ واقعی کچھ نیا اور عام ہتھیاروں سیزیادہ خطرناک ایجاد ہوچکا ہے۔
نیویارک پوسٹ نے مختلف ماہرین سے پوچھا تو انہوں نے اسے سونک ویپن کا نام دیا جس میں الٹراسونک شعاں کی طرز کی بہت طاقتور نظر نہ آنے والی شعائیں پھینک کر مخالف کا اعصابی نظام درہم برہم کر دیا جاتا ہے۔ اب صدر ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس کا اعتراف کر لیا۔ 2دن قبل صدر ٹرمپ نیوز نیشن کے پروگرام کیٹی پیولچ ٹونائٹ میں مہمان تھے۔ وہاں ان سے سوال پوچھا گیا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ خلاف معمول کچھ محتاط نظر آئے، انہیں شاید سیکورٹی ماہرین نے یہ بریف کیا ہوگا کہ اس بارے میں زیادہ نہ بولیں، مگر ٹرمپ بہرحال ٹرمپ ہی ہیں، فخر اور تکبر کے پیکر۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں میں بات نہیں کرنا چاہتا۔ یہ کسی اور کے پاس نہیں ہے لیکن ہمارے پاس ایسے ہتھیار موجود ہیں جن کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں۔ ٹرمپ نے اگلے سوال پر کہا کہ میرے خیال میں بہتر یہی ہے کہ ان چیزوں پر بات نہ کی جائے، لیکن ہمارے پاس حیران کن حد تک طاقتور ہتھیار موجود ہیں۔ انہوں نے اس کارروائی کو ایک شاندار حملہ بھی قرار دیا۔ میزبان کیٹی پیولچ نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا امریکی عوام کو اس ہتھیار کی طاقت کے بارے میں فکرمند ہونا چاہیے، تو صدر نے بھنویں اچکاتے ہوئے جواب دیا: ہاں، شاید۔
پروگرام تو ختم ہوگیا، مگر دیگر سپرپاورز جو امریکی صدر کے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ کو مانیٹر کرتی ہیں اور ان کاتجزیہ کرنے کے لیے سینکڑوں ماہرین بیٹھے ہوتے ہیں، ان میں ہلچل مچ گئی۔ گزشتہ روز روس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس آلے کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق ماسکو نے اپنی خصوصی سروسز کو ٹرمپ کے بیانات کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ روسی ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر وضاحت درکار ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کے پاس ایک خفیہ سونک ہتھیار موجود ہے جسے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے قبضے کے وقت استعمال کیا گیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا ہی کچھ 6سال قبل گلوان انڈو چائنا بارڈر پر لڑائی میں بھی ہوا جب چینی فوجیوں نے مبینہ طور پر ایک ایسا پراسرار ہتھیار استعمال کیا جس کے بعد درجنوں انڈین فوجی اپنی چیک پوسٹ چھوڑ کر بھاگ نکلے، ان میں سے بعض لڑکھڑاتے ہوئے گہری کھائیوں میں جا گرے۔ یہ وہ لڑائی ہے جس پر ابھی سلمان خان کی نئی فلم بھی آنے والی ہے۔ اس فلم میں تو نجانے کیا کیا جھوٹ بولا جائے گا مگر حقیقت یہ ہے کہ گلوان لڑائی میں کئی انڈین فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ تب یہ بازگشت سنائی دی کہ چینی فوج نے کوئی پراسرار خفیہ ہتھیار استعمال کیا۔
کچھ عرصے بعد ایک چینی پروفیسر نے اپنے ایک آرٹیکل میں باقاعدہ یہ دعوی کیا چین نے مائیکرو ویو ریز کو بطور ہتھیار استعمال کیا تھا جس سے بھارتی فوجیوں کو سمجھ میں نہ آنے والا زبردست جسمانی اور نفسیاتی شاک پہنچا۔ اس آرٹیکل کی انڈین فوج اور میڈیا نے زبردست تردید کی، شاید وہ اپنی شکست کو چھپانا چاہتے تھے۔ حال ہی میں ایک امریکی سینیٹر ہیگرٹی نے اپنی آفیشل اسپیج میں یہی بات دہرا دی کہ چین نے مائیکرو ویو ریز استعمال کر کے انڈین فوجیوں کو دھچکا پہنچایا تھا۔
اب یہ معلوم نہیں کہ امریکی فوج پہلے سے ایسے خفیہ نادیدہ ہتھیاروں پر کام کر رہی تھی یا انہیں چینی ہتھیار کی سن گن ملی اور اس کے بعد یہ پراسیس تیز ہوگیا۔ اطلاعات بہرحال یہ ہیں کہ صرف سونک ویپن ہی نہیں بلکہ امریکی فوج کے پاس بعض دیگر جدید ترین تباہ کن ہتھیار بھی موجود ہیں جو گولی چلاتے ہیں نہ گیس پھینکتے ہیں، بس نظرنہ آنے والی شعاوں کے ذریعے کام ہوجاتا ہے۔
خاکسار نے اپنے خاصے گھنٹے اس پر تحقیق میں لگائے اور یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ ان ہتھیاروں کو ڈائریکٹڈ انرجی ویپن (Directed Energy Weapons) کہا جاتا ہے۔ یعنی لیزر ویپنز، مائیکرو ویو ویپن، سونک ویپنز۔ ان کے اہداف 4ہیں۔ دماغ، اعصب، کمیونی کیشن، فیصلہ سازی (مخالف چکرا جاتا ہے کہ کیا کرے کیا نہ کرے۔)
سادہ عام فہم زبان میں یہ وہ ہتھیار ہیں جو روشنی کی رفتار سے حملہ کرتے ہیں۔ ان کی تفصیل جان لیں:
لیزر ویپنز: یہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ڈرونز یا میزائلوں کے سینسرز کو جلا کر انہیں اندھا کر دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خلیج میں موجود امریکی بحری بیڑوں پر یہ نصب اور مکمل آپریشنل ہیں۔ دوسرا مائیکرو ویو ویپن: یہ دماغ اور اعصابی نظام پر اثرکرتا ہے۔ انسان کے کھڑے رہنے کا توازن بگڑتا، اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، ردعمل متاثر ہوتا ہے۔ اس کی ایک اور زیادہ خطرناک شکل بھی امریکی بنا چکے ہیں یعنی ہائی پاور مائیکرو ویو: یہ ویپن بنکرز کے اندر موجود الیکٹرانکس کو تباہ کرنے کے لیے بہترین ہیں۔ یہ لہریں دیواروں کے اندر سے گزر کر کمپیوٹرز اور سرورز کو پگھلا دیتی ہیں، جس سے بنکر میں موجود قیادت کی اپنے ڈیٹا بیس تک رسائی ختم ہو جائے۔ تیسرا ہے سونک ویپن: ان کی شدید ڈائریکشنل ساونڈ ہے جو سنائی نہیں دیتی۔ اس لیے کہ انسانی کان ایک خاص رینج سے زیادہ آواز سن ہی نہیں سکتے۔ جانور خاص کر کتے سن لیتے ہیں، اسی لیے وہ زلزلے کی سنائی نہ دینے والی آوازیں پہلے سے سن کر گھبرا جاتے ہیں۔ ان سے خوف، کنفیوژن اور پینک پیدا ہوتا ہے۔ انہیں ہجوم یا سیکورٹی کو مفلوج کرنے کے لیے برتا جاتا ہے۔
ان کی 2ذیلی اقسام ہیں: انفراسونک: یہ بہت کم فریکوئنسی کی لہریں ہوتی ہیں جو انسانی کان سن نہیں سکتے لیکن جسم اسے محسوس کرتا ہے۔ یہ لہریں انسانی اندرونی اعضا میں تھرتھراہٹ پیدا کرتی ہیں، جس سے شدید خوف، متلی، قے اور ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ الٹرا سونک: یہ بہت اونچی اور تیز آواز کی لہریں ہوتی ہیں۔ لرایڈ LRAD ایک ایسی ہی صوتی توپ ہے جو ایک مخصوص سمت میں اتنی شدید آواز بھیجتی ہے کہ ہدف بننے والے شخص کے کان کے پردے پھٹ سکتے ہیں یا وہ شدید درد کی وجہ سے بے ہوش ہو سکتا ہے۔ ایک اور مبینہ طور پر امریکی فوج کا تیار کردہ ہتھیار الیکٹرومیکنیٹک پلس بھی ہے۔ اس سے کمیونی کیشن، ریڈار، ڈیجیٹل نظام ناکارہ ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ یہ ہتھیار جسم کو نہیں توڑتے بلکہ یہ مخالف فوج کے اعصابی نظام کو توڑتے ہیں۔ یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ان ہتھیاروں کا کوئی توڑ بھی نہیں۔ ماہرین نے ان کے لیے کاونٹر اسٹریٹجی بھی بتائی ہے اور کچھ مفید ٹپس بھی ایکسپرٹس بتاتے ہیں۔ اس پر بھی ان شاء اللہ بات کرتے ہیں، مگر اگلی نشست میں۔

