عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت بنائے گئے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کرلی۔ رپورٹ کے مطابق اس بات کا اعلان یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز جاری بیان میں کیاجس میں کہا گیاکہ متحدہ عرب امارات غزہ بورڈ آف پیس میں فعال شمولیت اور عملی شراکت کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل مراکش کے بادشاہ نے بھی امن بورڈ میں شرکت کی دعوت قبول کرنے کا اعلان کیا، جبکہ سعودی کابینہ نے بھی غزہ امن بورڈ کی حمایت کردی ہے۔
غزہ میں گزشتہ برس جو جنگ بندی دنیا کے شدید دباؤ کے نتیجے میں ممکن ہو سکی تھی، حقیقت یہ ہے کہ وہ محض ایک عارضی توقف تھی، یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد سے اب تک اسرائیل نے یکطرفہ طور پر سینکڑوں بار جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ بہرکیف جنگ بندی مذاکرات میں جو نکات طے پائے تھے، ان میں سب سے اہم اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا، قیدیوں اور میتوں کا تبادلہ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل اور اس کے بعد تین سے پانچ برس کے دوران بین الاقوامی نگرانی میں غزہ کی تعمیر نو اور نظم و نسق کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم کا قیام شامل تھا۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں آج غزہ امن بورڈ اور اس کے کردار پر بحث ہونی چاہیے۔ جنگ بندی کے دوران سب سے نازک اور فیصلہ کن مسئلہ حماس کو غیر مسلح کرنا تھا۔ حماس نے ابتدا ہی سے اس شرط کو مسترد کیا کہ وہ غیر مشروط طور پر اپنے ہتھیار ڈال دے اور خود کو اسرائیل کے حوالے کر دے۔ مزاحمت نے واضح کردیا تھا کہ اس کے سامنے آزادی اور شہادت کے علاوہ کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے، تاہم شدید بین الاقوامی دباؤ، علاقائی ثالثی اور انسانی المیے کے پیش نظر حماس نے بالآخر ایک مشروط آمادگی ظاہر کی کہ اگر غزہ کا نظم و نسق ایک بااختیار فلسطینی کمیٹی کے سپرد کیا جائے، تو مزاحمتی قوتیں اپنے ہتھیار اسی فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کر سکتی ہیں۔ اسرائیل نے اس تجویز کو بھی رد کر دیا، کیونکہ اس کا ہدف محض حماس کو غیر مؤثر کرنا نہیں بلکہ فلسطینی مزاحمت کے تصور کو ہی ختم کرنا تھا، مگر اسرائیل اپنی اس خواہش میں بری طرح ناکام رہا۔
جنگ بندی کے اعلان کے بعد جس اگلے مرحلے کی امید کی جا رہی تھی، وہ عملاً شروع ہی نہیں ہو سکا۔ چند ہی مہینوں کے دوران اسرائیل سینکڑوں مرتبہ جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیاں کر چکا ہے۔ انسانی امداد کی ترسیل، جو معاہدے کا بنیادی جز تھی، آج بھی اسرائیلی کنٹرول اور رکاوٹوں کا شکار ہے۔ امدادی قافلے روکے جا رہے ہیں، سرحدی راستے بند رکھے جا رہے ہیں اور غزہ کی آبادی کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو جب بھی سیاسی یا عسکری ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہ محدود یا کھلی خونریز کارروائیاں جاری رکھتا ہے۔ جنوبی غزہ میں گزشتہ دن ہی آبادی کو جبری انخلا کا حکم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو جنگ بندی کے بعد پہلی بار اس شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ ان تمام خلاف ورزیوں کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی اور بے عملی ایک تلخ حقیقت ہے۔ امریکی انتظامیہ، جس نے جنگ بندی میں کلیدی کردار کا دعویٰ کیا تھا، عملاً اسرائیلی اقدامات سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ہی صوابدید سے غزہ امن بورڈ کے قیام کا اعلان کر دیا اور خود کو اس کا چیئرمین مقرر کر لیا۔ چارٹر کے مطابق یہ بورڈ تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں استحکام، قانونی طرز حکمرانی اور دیرپا امن کے قیام کے لیے بنایا گیا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت امن سازی کے فرائض انجام دینے کا پابند ہے، تاہم اسی چارٹر میں چیئرمین کو غیر معمولی اختیارات بھی دیے گئے ہیں، جن میں ذیلی ادارے قائم کرنے، ختم کرنے یا ان میں ترمیم کرنے کا مکمل اختیار شامل ہے۔ یہ اختیارات خود بخود اس بورڈ کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتے ہیں۔ بورڈ میں شمولیت کیلئے مختلف ممالک کو دعوت دی جا رہی ہے اور بعض نے اسے قبول بھی کر لیا ہے۔ عرب امارات کا اس میں شامل ہونا، ہنگری کی غیر مشروط حمایت، اٹلی اور کینیڈا کی مشروط آمادگی، اور فرانس کا انکار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں غزہ کا مسئلہ محض انسانی یا اخلاقی نہیں بلکہ گہرے سیاسی اور معاشی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔
پاکستان کو بھی اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، مگر پاکستان کا محتاط رویہ قابلِ فہم اور قابلِ ستائش ہے۔ ماضی قریب میں ترکیہ اور پاکستان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی فوج کا حصہ بنیں گے، جو امن قائم کرے گی لیکن اس پیشکش کے ساتھ مزاحمتی قوت کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری بھی منسلک تھی، جسے پاکستان نے دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ وہ کسی ایسے فوجی یا نیم فوجی عمل میں شریک نہیں ہو سکتا جس میں فلسطینیوں کے خلاف اسلحہ استعمال کرنے کا امکان ہو۔ فیلڈمارشل عاصم منیر کو براہ راست دی گئی دعوت کے باوجود اسی اصولی موقف پر قائم رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس معاملے میں وقتی سفارتی فوائد پر اصولوں کو قربان کرنے کیلئے تیار نہیں۔ غزہ امن بورڈ کا موجودہ کردار اگر محض تعمیر نو کی نگرانی، امدادی سرگرمیوں کی شفافیت اور بین الاقوامی تعاون تک محدود رہے تو یہ ایک مفید اور مثبت فورم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ جس انٹرنیشنل اسٹیبلٹی فورس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، وہ اصل تشویش کا باعث ہے۔ اگر اس کا مقصد فوجی طاقت کے ذریعے فلسطینی مزاحمت کا خاتمہ اور حماس سمیت دیگر تنظیموں کو غیر مسلح کرنا ہوا، تو یہ پورا عمل فلسطینی عوام کے خلاف ایک نئے دباؤ اور جبر کی صورت اختیار کر لے گا۔
اسی تناظر میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی فیصلے سے قبل او آئی سی، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ایران اور ترکیہ سے قریبی اور بامعنی مشاورت کرے۔ پاکستان کی شمولیت صرف اسی صورت میں قابلِ قبول ہونی چاہیے جب اس سے واقعی ستم رسیدہ فلسطینی عوام کو فائدہ پہنچے، نہ کہ غاصب اسرائیل کی پوزیشن مضبوط ہو۔ کسی ایسے فورم کا حصہ بننا جو بالواسطہ یا بلاواسطہ اسرائیلی مفادات کو تقویت دے اور فلسطینی جدوجہد کو کمزور کرے، پاکستان کی تاریخی پالیسی، عوامی جذبات، قومی امنگ اور اخلاقی ذمہ داریوں کے منافی ہوگا۔

