درخت یا انسان؟

حضرت مسیح علیہ السلام کا پہاڑی و عظ بہت مشہور ہے اور اس وعظ کا ایک جملہ کلاسیکی اہمیت حاصل کر چکا ہے۔ اپنے وعظ میں حضرت مسیح نے اپنے مخاطبین کے قول و عمل کے تضاد کو واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ” تم اونٹ کو نگل جاتے ہو اور مچھر کو چھاننے بیٹھ جاتے ہو”۔ہمارا حال بھی کچھ اسی طرح ہے۔ ہم ایک ایسے دورِ تضاد میں جی رہے ہیں، جہاں مصلحتوں کے دبیز پردوں نے ہماری بصارتوں کو دھندلا دیا ہے۔ ہم وہ لوگ بن چکے ہیں جو کسی پیاسے کی موت پر تو خاموش رہتے ہیں، لیکن اگر پانی کا پیالہ چھلک جائے تو دہائیاں دینے لگتے ہیں۔ ہمارا نظامِ عدل، ہماری انتظامی ترجیحات اور ہماری سماجی نفسیات اسی مشہور جملے کا نوحہ ہیں۔

لاہورجیسے شہر میں کبھی فضائیں رشک کرتی اور ہوائیں اٹکھیلیاں کرتی تھیں مگر آج یہ شہر زہریلے دھویں کی لپیٹ میں ہے۔ یہاں فیکٹریاں صرف مصنوعات نہیں بناتیں، بلکہ دن رات انسانی پھیپھڑوں کی موت کا سامان بھی تیار کر تی ہیں۔ یہاں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ مائیں اپنے لعل کھو دیتی ہیں، بچے یتیم ہو جاتے ہیں، لیکن ریاست کے ایوانوں میں مکمل خاموشی چھائی رہتی ہے۔ نہ کسی کی ترجیح بدلتی ہے، نہ کسی کی آنکھ کھلتی ہے۔ یہ وہ ”اونٹ” ہے جسے سارا نظام بڑی سہولت سے نگل رہا ہے مگر نہ حکومت کی ترجیح بدلتی ہے، نہ ریاست کی آنکھ کھلتی ہے۔دوسری طرف اگر کسی یونیورسٹی کے گراؤنڈ سے،چند بوڑھے، نقصان دہ اور ایسے درختوں کو کاٹ دیا جائے جو اپنی طبعی عمر پوری کر چکے ہوں، طلبہ کے لیے خطرہ اور سیکورٹی کے مسائل پیدا کر رہے ہوں تو اچانک پورا نظام بیدار ہو جاتا ہے۔ نوٹسز، انکوائریاں اور معطلیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ جہاں ہزاروں انسان گندے پانی،ملاوٹ شدہ دودھ، ناقص گوشت،دونمبر دوائیوں اور ملاوٹ شدہ خوراک سے مررہے ہوںتب مکمل خاموشی چھائی رہے، لیکن صرف چند بے جان لکڑیوں کے کٹنے پر آسمان سر پر اٹھا لیا جائے؟

درختوں کی حفاظت بلاشبہہ ایک مقدس فریضہ ہے، لیکن کیا انسان کی حرمت اس سے کم تر ہے؟ کیا حضرت مسیح نے پہاڑی وعظ میں ہم جیسی قوموں کو ہی مخاطب کرکے کہا تھا کہ یہ اونٹ کو نگل جاتے ہیں اور مچھر کو چھاننا شروع کر دیتے ہیں؟درختوں کی حفاظت یقینا ضروری ہے مگر کیا انسانی جان کی حرمت اس سے کم قیمتی ہے؟ کیا وہ موٹرسائیکلیں، رکشے اور لوکل ٹرانسپورٹ جو روز انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں کسی نوٹس کے مستحق نہیں؟ترجیحات کا یہ الٹ پھیر ہی ہمارے اجتماعی زوال کی علامت ہے۔مسئلہ درخت نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی ترجیحات کا تعین غلط کر رکھا ہے۔

اس سارے معاملے کا سب سے تکلیف دہ پہلو وہ کردار کشی ہے جو ایک ایسے شخص کی کی جا رہی ہے جس کا وجود خود علم کی آبیاری کے لیے وقف ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ ایسا نام جو متانت، دیانت،کردار، اخلاق اور اعلیٰ ظرفی کا استعارہ ہے۔شیخ زید اسلامک سینٹر ان کی خدمات کا گواہ ہے۔ اس سینٹر کے درودیوار پر ان کی خدمات کے نقوش جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ انہوں نے اپنے دورِ انتظام میں ادارے کو وہ رونق بخشی جو برسوں کی بنجر زمین کو نصیب ہوتی ہے۔ ان کا تدریسی ریکارڈ ان کی علمی بلندی کا گواہ ہے اور سیرتِ طیبہ پر ان کے کام کو قومی سطح پر سراہا گیا ہے۔ جس شخص نے اپنی زندگی کے بہترین سال ”رحمة للعالمین” کے اسوہِ حسنہ کی ترویج میں گزار دیے ہوں، کیا وہ شخص کسی منفی یا تخریبی عمل کا حصہ بن سکتا ہے؟ڈاکٹر عبداللہ وہ انسان ہیں جو سیرت کی روشنی میں شجر کاری کو صرف سمجھتے ہی نہیں بلکہ انہوں نے عملی طور پر اس سنٹر کی سرزمین کو ہرا بھرا کیا ہے۔ انہوں نے بارہا شجر کاری مہمات کی قیادت کی ہے۔ ان جیسے علم اور ماحول دوست انسان کے لیے ایک درخت کا کٹنا کوئی انتظامی ضرورت توہو سکتی ہے کوئی ذاتی مفاد یا شجر دشمنی ہرگز نہیں۔

اصل حقیقت جسے دانستہ طور پر پسِ پشت ڈال دیا گیا وہ یہ ہے کہ شیخ زید اسلامک سینٹر کی مغربی دیوار کے ساتھ موجود درخت ذاتی شوق، بدنیتی یا ماحول دشمن سوچ کے تحت نہیں کاٹے گئے بلکہ یہ ایک ناگزیر انتظامی اور حفاظتی ضرورت تھی۔ پچھلی شدید بارشوں کے دوران یہ مغربی دیوار تقریباً دو سو فٹ کے رقبے تک زمین بوس ہو چکی تھی اور اس کے گرنے کی بنیادی وجہ وہ گھنے درخت تھے جن کی جڑیں وقت کے ساتھ ساتھ دیوار کے اندر تک سرایت کر چکی تھیں۔ یہ جڑیں اندرونی طور پر دیوار کو کھوکھلا کر چکی تھیں، جس کے نتیجے میں دیوار اپنی مضبوطی کھو بیٹھی تھی اور بارش کے دباؤ نے اسے گرا دیا تھا۔ دیوار کے گرنے کے بعد صرف انفراسٹرکچر کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ ایک سنجیدہ سیکیورٹی رسک بھی پیدا ہو چکا تھا کیونکہ یونیورسٹی اور اسلامک سینٹر جیسے حساس تعلیمی و فکری ادارے کے لیے کھلی سرحد اور غیر محفوظ دیوار کسی بھی لمحے بڑے حادثے کا سبب بن سکتی تھی۔ چنانچہ دیوار کی ازسرِنو تعمیر کے لیے اس کا باقی ماندہ حصہ گرانا ناگزیر تھا اور وہ درخت جن کی جڑیں اس انہدام کی اصل وجہ بن چکی تھیں انہیں کاٹنا ایک مجبوری تھی ۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس پورے پس منظر، تکنیکی رپورٹ اور زمینی حقیقت کو سمجھے بغیر سوشل میڈیا پر ایک جذباتی اور سطحی بیانیہ تشکیل دیا گیا جس میں معاملے کو اس طرح پیش کیا گیا گویا کسی ایک فرد نے ذاتی اختیار کے تحت درختوں کا قتلِ عام کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد عبداللہ ایک استاد ہیں، کوئی لینڈ ڈویلپر یا کنٹریکٹر نہیںہیں اور ان کے فیصلے ادارے کی سلامتی، طلبہ و اساتذہ کے تحفظ اور انفراسٹرکچر کی بحالی سے جڑے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں انتہائی بدقسمتی سے سیاق و سباق، نیت اور ضرورت کو سمجھے بغیر الزام تراشی کو ترجیح دی جاتی ہے اور یوں ایک انتظامی فیصلے کو اخلاقی جرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے جس کا نقصان فرد سے زیادہ اداروں اور سنجیدہ مکالمے کو پہنچتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر کسی انتظامی ضرورت کے تحت،چند بوڑھے درختوں کو کاٹ دیا گیا تو کیا اس کے نتیجے میں ایسے انسان کی کردار کشی کی جائے گی جس نے ہزاروں طلبا کے ذہنوں میں علم کے بیج بوئے؟ کیا ہم اتنے غیر معقول ہو چکے ہیں کہ ہم درختوں کی لکڑی تو دیکھ رہے ہیں مگر اس استاد کا قد نہیں دیکھ پا رہے جو خود ایک سایہ دار شجر بن کر نسلوں کی پرورش کر رہا ہے؟ہم لاہور ہائی کورٹ کے معزز ججز، شہر کی قابل احترام انتظامیہ اور پنجاب یونیورسٹی کے معزز وائس چانسلرسے کہنا چاہتے ہیں کہ کیا ایک استاد جس کا پورا ماضی داغ سے پاک ہو،جس کا کردار صاف اور شفاف ہو، جس کے سینکڑوں شاگرد آج خود استاد بن چکے ہوں اور وہ ہزاروں طلباء کا استاد ہو،وہ اس سلوک کا مستحق ہو سکتا ہے جو آج اس کے ساتھ کیا جا رہا ہے؟ڈاکٹر عبداللہ جیسے لوگ معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں اورریاست کی ذمہ داری ان اثاثوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے نہ کہ انہیں داغدار کرنا نہیں۔درختوں کی حفاظت ضرور کیجیے، لیکن پہلے ترجیحات تو درست کیجیے۔پہلے ان انسانوں کو تو احترام دیجیے جنہوں نے ان درختوں کے سائے میں بیٹھ کرنئی نسل کو شعور کی منزلیں طے کروانی ہیں۔ہمیں امید ہے کہ عدل کے ایوانوںاور اقتدار کے محلات میںہماری یہ گزارشات ضرور سنی جائیں گی۔