چھٹی قسط:
ایک دفعہ ایسا ہوا۔ لطیفہ بھی درمیان میں ایک ہو جائے۔ میں نے کہا پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے تو سورہ فاتحہ کا ترجمہ جاننا شرط نہیں ہے۔ یہاں تو وزارتِ داخلہ کے لیے سورہ اخلاص پڑھ لینا شرط نہیں ہے۔ تو میں نے ایک مجلس میں، مذاکرات کی مجلس تھی، میں نے ایک واقعہ سنایا۔ میں نے کہا، جس پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے سورہ فاتحہ کا ترجمہ شرط نہیں ہے، اس پارلیمنٹ کو قرآن و سنت حوالے کرو گے کہ تعبیر کرو اور تشریح کرو، تو وہ کیا کریں گے؟ مثنوی کا میں نے ایک واقعہ سنایا۔ مولانا روم نے مثنوی میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ لکھا ہے۔ پرانے زمانے میں چھاپہ خانے تو ہوتے نہیں تھے، قرآن پاک ہاتھ سے لکھے جاتے تھے، ایک صاحب نے کسی خوشنویس سے کہا، یار مجھے قرآن پاک کی ضرورت ہے، ایک لکھ دو۔ اس نے کہا، لکھ دوں گا۔ دو مہینے لگیں گے، تین مہینے لگیں گے۔ لکھ دیا۔ جب حوالے کیا تو اس نے کہا یار دھیان سے لکھا تھا؟ اس نے کہا، پورے دھیان سے۔ غلطیاں ولطیاں چیک کر لیں؟ اس نے کہا، پکی طرح۔ تسلی سے لکھا ہے نا؟ اس نے کہا، ہاں۔ اس نے کہا، بلکہ دو چار غلطیاں تھیں، وہ میں نے صحیح کر دی ہیں۔ جس قرآن کو دیکھ کر میں نے یہ لکھا ہے نا، اس میں دو چار غلطیاں تھیں، وہ میں نے یہاں صحیح کر دی ہیں۔ اس نے کہا، اچھا! کون سی؟
اس نے کہا، اس میں لکھا تھا ”وعصیٰ اٰدم ربہ فغویٰ” (طہ) میں نے کہا یار، عصا تو موسٰی کا تھا، آدم کا تو نہیں تھا۔ کیوں جی، ڈنڈے والا پیغمبر کون تھا؟ ایک ڈنڈے والا پیغمبر تھا، ایک ڈنڈے والا خلیفہ تھا۔ ڈنڈے والا پیغمبر کون تھا؟ موسیٰ علیہ السلام۔ میں نے کہا، یار یہ کیا لکھا ہوا ہے، عصا آدم کا تو نہیں تھا، عصا کس کا تھا؟ تو میں نے لکھ دیا ”وعصیٰ موسیٰ ربہ فغویٰ”۔ غلطی صحیح کر دی میں نے۔
کہا، دوسری غلطی، اس میں لکھا تھا ”ولقد نادانا نوح فلنعم المجیبون” (الصافات)۔ تو میں نے کہا، نوح تو پیغمبر تھے، پیغمبر نادان نہیں ہوتا، تو میں نے لکھ دیا ”ولقد دانا نوح فلنعم المجیبون”۔
ایک تیسری غلطی بھی تھی، اس میں لکھا تھا ”وخر موسیٰ صعقا” (الاعراف)۔ میں نے کہا یار خر تو عیسٰی کا تھا، موسٰی کا تو نہیں تھا۔ خرِ موسیٰ مشہور ہے یا خرِ عیسیٰ مشہور ہے؟ تو وہ بھی میں نے ٹھیک کر دیا ”وخر عیسٰی صعقا”۔
ایک غلطی اور تھی، میں نے دیکھا قرآن پاک میں جگہ جگہ فرعون کا نام بھی ہے، شیطان کا نام بھی ہے۔ میں نے کہا قرآن میں ان کا کیا کام ہے! قرآن پاک کی تلاوت پہ تو ہر حرف پہ دس نیکیاں ملتی ہیں۔ فرعون کا نام لینے پر کتنا ثواب ملتا ہے؟ قرآن پاک میں فرعون کا نام لینے پر ثواب ملتا ہے کہ نہیں ملتا؟ کتنا ملتا ہے؟ اور شیطان کا نام لینے پر، ابلیس کا بھی؟ میں نے کہا یار، قرآن میں اس کا کیا کام! ہر حرف پہ کم از کم دس نیکیاں پڑھنے والے کو، دس نیکیاں سننے والے کو، بیس نیکیاں۔ تو مجھے نہیں اچھا لگا، میں نے سارے بدل دیے۔ ایک کی جگہ تمہارے باپ کا نام لکھ دیا، ایک کی جگہ اپنے باپ کا نام لکھ دیا۔
میں نے اس کو سوال کیا، ہمارے دوست تھے، فوت ہو گئے بیچارے، وزیر قانون تھے، ہم نے اکٹھے جیل بھی گزاری ہے۔ میں نے کہا بھئی، یہ بتاؤ، ہم اختیار دے دیتے ہیں، یہ بتاؤ، نام کس کس کے آئیں گے؟ اس نے تو آسانی سے ایک کی جگہ اپنے باپ کا نام لکھ دیا، ایک کی جگہ لکھوانے والے کا نام لکھ دیا کہ تمہارے باپ کا نام۔
تو میں نے آپ سے یہ عرض کیا ہے کہ اجتہاد کے نام پر آج کی جو دھماچوکڑی ہے، وہ آپ کا اصول الشاشی والا اجتہاد نہیں ہے۔ یہ اجتہاد کس کا ہے؟ جو مسیحی دنیا سے انہوں نے مستعار لیا ہے۔ کچھ نے پاپائے روم سے صوابدیدی اختیار کے نام پر، اور کچھ نے مارٹن لوتھر سے کامن سینس کے نام پر۔ اور ہم اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے؛ میں ایک بات گزارش کرنا چاہوں گا آپ حضرات سے بطور خاص۔ ہماری ایک کمزوری کہہ لیں یا کوتاہی کہہ لیں، ہم عام آدمی اور پڑھے لکھے آدمی کے سامنے جب دین کی تعبیر اور تشریح کی بات کرتے ہیں تو ہم اپنی مخصوص اصطلاحات میں کرتے ہیں۔ ہم اپنا مطلب سمجھا نہیں پاتے۔ یہ اصطلاحات درس اور تدریس کے دائرے میں تو ٹھیک ہیں لیکن عام آدمی کے سامنے عام آدمی کی زبان میں بات کریں۔ عام پڑھے لکھے لوگوں کے سامنے آج کی زبان میں بات کریں۔ اپنا مطلب جب تک آپ سمجھائیں گے نہیں، فرق واضح نہیں کریں گے، اس وقت تک الجھن دور نہیں ہوگی۔
ایک دفعہ ایسا ہوا، میرے ایک محترم بزرگ تھے، فوت ہو گئے ہیں، پھوپھی زاد بھائی تھے، طالب علمی کا زمانہ تھا، جمعہ پڑھاتے تھے ایک جگہ گوجرانوالہ میں، ایک دن جمعے میں مجھے ساتھ لے گئے کہ آج میری تقریر سنو۔ میں نے کہا، سن لیتا ہوں۔ میرا شاید کافیہ کا سال تھا، طالب علمی کا سال تھا۔ تقریر فرمائی انہوں نے آدھ پون گھنٹہ۔ شام کو مجھ سے تقریر پہ تبصرہ پوچھا، میں نے کیسی تقریر کی ہے؟ میں نے کہا، بیڑا غرق کیا ہے۔ اللہ کے بندے! جمعے کی نماز پڑھنے آئے ہیں، کوئی خرادیا ہے، کوئی پرچون کا کاروبار کرتا ہے، کوئی بوتلیں بیچتا ہے، ان کے سامنے تم مسئلہ بیان کر رہے ہو، کس لہجے میں؟ یہ بشرطِ شی کے درجے میں ہے، یہ لا بشرطِ شی کے درجے میں ہے۔ او بندہ خدا، ان کے فرشتوں کو پتہ نہیں ہے بشرطِ شی کیا ہوتا ہے۔ میں نے کہا، کل تم نے جو ”ملا حسن” میں سبق پڑھا ہے وہ آج جمعے میں دہرا دیا جا کر۔ ان کو کیا پتہ ہے بشرطِ شی کیا ہوتا ہے، لا بشرطِ شی کیا ہوتا ہے، قضیہ شرطیہ کا ہوتا ہے، ان کو کیا پتہ! میرے بھائی، ان کے ساتھ بات ان کی زبان میں کرو تاکہ ان کو سمجھ آئے تم کہہ کیا رہے ہو۔ تم نے وہاں ”ملا حسن” پڑھ کے سنا دی۔
انہوں نے کہا، مولوی صاحب نے زبردست تقریر کی ہے، تقریر ایسی زبردست تھی، کمال کر دیا مولوی صاحب نے۔ سمجھ کچھ نہیں آیا۔ یہ جو میں نے جھگڑا عرض کیا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم عام آدمی کو یا عام پڑھے لکھے آدمی کو اس کی فریکوینسی میں بات نہیں کرتے، وہ ہماری بات نہیں سمجھ پاتا۔ وہ لوگ اس کی فریکوئنسی میں بات کرتے ہیں، ان کی بات جلدی اثر انداز ہو جاتی ہے۔ آج کی زبان سیکھیے، آج کا لہجہ سیکھیے، آج کی نفسیات کو سمجھیے، کہ عام آدمی کس لہجے میں بات کرتا ہے۔ میں مثال کے طور پر ایک مسئلے کا ذکر کر کے، اپنی بات سمجھانے کے لیے؛ ہم عام طور پر، جب قرآن پاک کے ترجمہ اور فہم کی بات ہوتی ہے، قرآن پاک سمجھنا، ترجمہ، تفسیر، تو ہم ایک بات کہتے ہیں۔ جو بات صحیح ہے، بات سے اختلاف نہیں ہے، کہ قرآن پاک کے ترجمہ اور تفسیر کے لیے کتنے علوم کی مہارت ضروری ہے؟ ضروری ہے، میں انکار نہیں کر رہالیکن سترہ علوم یا سولہ علوم کی فہرست سنا کر عام آدمی کو ڈرانا ضروری ہے؟ دوسرے لہجے میں بھی بات کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مجھ سے اگر کوئی پوچھتا ہے نا فہمِ قرآن کی شرائط کیا ہیں؟ میں نے کہا، وہی جو باقی لوگوں کے لیے ہوتی ہیں۔ میری بات پوری سن لینا فتویٰ لگانے سے پہلے۔ ایک صاحب نے پوچھا۔ میں نے کئی جگہ بیان بھی کیا ہے۔ قرآن پاک کے فہم، ترجمہ، تشریح کے لیے؟ میں نے کہا، وہی جو باقی کلام کے لیے ہوتی ہیں۔ (جاری ہے)
ساتویں اور آخری قسط:
مثال کے طور پر، کسی بھی کلام کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس کی زبان سے واقف ہونا ضروری ہے۔ عربی کی بات ہے تو عربی جاننا ضروری ہے، فارسی کی بات ہے تو فارسی جاننا ضروری ہے، انگریزی کی بات ہے تو برنارڈشا کو، انگریزی نہیں جانے گا تو کیا سمجھے گا؟ خوشحال خان خٹک کو، پشتو جانتا ہو گا تو سمجھے گا نا۔ پشتو نہیں جانتا تو خوشحال خان خٹک کو کیا سمجھے گا وہ؟ اور حافظ شیرازی کو؟ فارسی جاننا ضروری ہے۔ یہ پہلی شرط ہے۔ زبان جاننا ضروری ہے، زبان جاننا کافی نہیں ہے۔ اس لیول کی زبان جاننا ضروری ہے جس لیول کا کلام ہے۔ کلام کو سمجھنے کے لیے زبان جاننا ضروری ہے، کافی نہیں ہے۔ اس لیول کی زبان جس لیول کا کلام ہے۔ اب ایک آدمی اردو پڑھ لیتا ہے، جنگ اخبار پڑھ لیتا ہے، کہتا ہے میں غالب بھی پڑھ لوں گا۔ پڑھ لے گا؟ اقبال؟ انشاء اللہ خاں انشا؟ ابراہیم ذوق؟ نہیں بھئی، وہ اردو اَور ہے، یہ اردو اَور ہے۔ ایک آدمی عام فارسی اخبار پڑھ لیتا ہے، کہتا ہے حافظ شیرازی کو سمجھ لوں گا، فردوسی کو سمجھ لوں گا۔ نہیں۔ ایک آدمی انگریزی اخبار پڑھ لیتا ہے ڈان، کہتا ہے میں برنارڈشا کو سمجھ لوں گا۔ نہیں بھئی، برنارڈشا اور ہے، ڈان اور ہے۔ تو پہلی بات تو یہ، کسی بھی کلام کو سمجھنے کے لیے اس زبان کو جاننا اور اس لیول کی زبان جاننا۔
کلام میں اگر الجھن پیش آجائے، تو وضاحت کا حق سب سے پہلے کس کا ہوتا ہے؟ میری کوئی بات آپ کو سمجھ نہیں آ رہی تو وضاحت کا حق کس کو ہے؟ مجھے ہے بھئی۔ سیدھی سیدھی بات ہے۔ وضاحت کا پہلا حق کس کا ہوتا ہے؟ متکلم کا۔ اور وضاحت میں اتھارٹی کون ہوتا ہے؟ متکلم۔ متکلم ہی اتھارٹی ہوتا ہے، اگر زندہ ہے تو۔ قرآن پاک کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تو متکلم کون ہے؟ اللہ۔ اللہ کا نمبر تو کسی کے پاس نہیں کہ میسج کر کے پوچھ لیں، یا اللہ! مجھے بات سمجھ نہیں آئی لیکن اللہ کے رسول تک رسائی تو ہے نا۔ قرآن پاک کی کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی تو وضاحت کی اتھارٹی کون ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کیونکہ رسول ہیں۔ یہ بات بھی، کوئی وضاحت کی ضرورت تو نہیں ہے۔ کوئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تو اس کی وضاحت میں اتھارٹی متکلم یا اس کا نمائندہ۔ قرآن پاک میں اتھارٹی کون ہے؟ نمائندہ۔ یہ دوسرا اصول طے ہو گیا۔
تیسرا اصول، بسا اوقات بات کو سمجھنے میں بیک گراؤنڈ سمجھنا ضروری ہوتا ہے، بات کہاں کی ہے، کس پس منظر میں کی ہے؟ پس منظر کے بغیر بات سمجھ میں نہیں آتی۔ آج کی دنیا پس منظر کہتی ہے، ہم شانِ نزول کہتے ہیں۔ لفظ کا ہی فرق ہے۔ ہم کیا کہتے ہیں؟ شانِ نزول۔ آج کی دنیا کیا کہتی ہے؟ بیک گراؤنڈ۔ بیک گراؤنڈ کے بغیر بات سمجھ میں بسا اوقات، اور اکثر بیک گراؤنڈ کے بغیر بات الٹ سمجھ آتی ہے۔ اب بیک گراؤنڈ معلوم کرنے کے لیے، میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ قرآن پاک میں بہت ساری آیات ہیں، حضرات کو الجھن پیش آئی، صحابہ کو الجھن پیش آئی۔ پس منظر بیان ہوا تو بات واضح ہوئی۔ ان بیسیوں مسائل میں سے مثال کے طور پر ایک مسئلہ بیان کر رہا ہوں۔
حضرت عروہ بن زبیر نے خالہ جان سے سوال کیا۔ قرآن پاک کی بہت سی آیتیں، اماں جان، یہ سمجھ میں نہیں آ رہی، یہ نہیں سمجھ آ رہی، یہ نہیں سمجھ آ رہی۔ عروہ نے اپنی خالہ جان یعنی ام المومنین حضرت عائشہ سے سوال کیا، بہت سی آیات کے بارے میں، یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی، یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی۔ ان میں سے ایک۔ انہوں نے کہا، اماں جان، قرآن پاک کہتا ہے ”ان الصفا والمروة من شعائر اللہ فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما” (البقرہ) صفا مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں، جو آدمی حج کرے یا عمرہ کرے ”لاجناح علیہ ان یطوف بھما” کوئی حرج نہیں کہ اِن کا چکر بھی لگا لے۔ یہ ”کوئی حرج نہیں کہ ان کا چکر لگا لے”، یہ وجوب کا کلمہ ہے یا جواز کا ہے؟ وجوب کدھر سے آ گیا ہے؟ یہ سوال کس نے کیا؟ حضرت عروہ نے۔ کیا کس سے؟ ام المومنین حضرت عائشہ سے۔ اماں جان، یہ سمجھ نہیں آ رہی بات، وجوب کدھر سے آیا ہے، یہ تو جواز کا کلمہ ہے، کر لو یار، کوئی بات نہیں، یہ بھی کر لو۔
اماں جان نے کہا، بیٹا، تمہیں کہا نہیں، اس لیے تمہیں سمجھ میں نہیں آ رہا۔ تمہیں نہیں کہا اس نے، قرآن پاک نے یہ بات تم سے نہیں کہی۔ یہ کس سے کہی ہے؟ انہوں نے پس منظر کی وضاحت کی۔ ام المومنین کہتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگ حج کے لیے آتے تھے، بیت اللہ کا طواف تو سارے کرتے تھے، صفا مروہ کی سعی صرف قریشی کرتے تھے، ان کے حلیف قبائل کرتے تھے، اکثر قبائل صفا مروہ کی سعی نہیں کرتے تھے۔ انس بن مالک کہتے ہیں ”کنا نتحرج، کنا نتعصم”۔ ہم اس کو حرج کی بات سمجھتے تھے، ہم اس کو گناہ کی بات سمجھتے تھے۔ ”کنا نعدھا فی الجاھلیہ”۔ ہم اس کو جاہلیت کی بات سمجھتے تھے کہ ماں دوڑی ہے تو قیامت تک دوڑتے رہو، ہم نہیں کرتے تھے۔ قریشی کرتے تھے، انصاری نہیں کرتے تھے، یوں تقسیم کر لیجیے۔ اور انصاری، حضرت انس بن مالک خود کہتے ہیں، ہم اس کو گناہ کی بات سمجھتے تھے، حرج کی بات سمجھتے تھے، اس کو جاہلیت کی بات سمجھتے تھے۔ جب حج کا موقع آیا سن ٩ھ کو یا دس ہجری کو تو انصاریوں کو الجھن پیدا ہوئی کہ بھئی ہم تو نہیں کرتے تھے، تو کیا ہو گا؟ انہوں نے سوال کیا۔ ان کو جواب دیا اللہ پاک نے کہ صفا مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ بیت اللہ کی طرح صفا مروہ بھی کیا ہیں؟ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ کوئی حرج نہیں، اس کا طواف بھی کرو۔
اب میں یہ عرض کیا کرتا ہوں، یہ پس منظر اگر واضح نہ ہو تو آج بھی اس کا ترجمہ صحیح کیا جا سکتا ہے؟ بہت سی آیات ہیں۔ تو تین اصول میں نے عرض کیے: (١) زبان اُس سطح کی (٢) متکلم یا ان کے نمائندے تک تشریح کے لیے رسائی (٣) اور پس منظر معلوم کرنا۔ یہ دنیا کے کس کلام کے لیے نہیں ہے؟ یہی معیار ہے۔ میں نے یہ عرض کیا ہے کہ بات ذرا لوگوں سے آسان لہجے میں کیا کریں۔ وہی بات جو آسان لہجے میں کی جا سکتی ہے، اس کو مشکل زبان میں کر کے لوگوں کو ڈرائیں نہیں۔ عام آدمی کی نفسیات سمجھیں، فریکوئنسی سمجھیں، عام زبان سمجھیں، لوگوں کی ذہنی سطح سمجھیں۔ اور دین کی تعبیر اور تشریح، دین کے مسائل، لوگوں کی ذہنی سطح پر، اس کی نفسیات کے مطابق، ان کی فریکوئنسی میں، بات کرنے کی کوشش کریں۔ میرے نزدیک آج کی سب سے اہم دینی ضرورت یہ ہے کہ ہم لوگوں کی نفسیات کو سمجھ کر؛ بات پوری کریں، بات میں لچک نہ ہو لیکن لہجہ تو صحیح ہو نا۔ بات ٹھیک ہو، لیکن گفتگو کا انداز، وہ سمجھ تو سکے کم از کم کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔
تو میں نے یہ چند ٹوٹی پھوٹی باتیں، اس جھگڑے کی وضاحت کے لیے کہ آج کی دنیا کے ساتھ اجتہاد کے نام پر ہمارا کیا تنازع ہے، ہم کہاں کھڑے ہیں، چند باتیں عرض کی ہیں۔ اللہ پاک مجھے اور آپ سب کو دین کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

