امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ”بورڈ آف پیس” کے نام سے ایک نئے عالمی پلیٹ فارم کا اعلان کیا ہے جو غزہ میں مستقبل جنگ بندی کو یقینی بنانے کے علاوہ دیگر عالمی تنازعات کے حل کے لیے بھی کام کرے گا۔جمعرات کے روز سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں غزہ بورڈ آف پیس معاہدے پر دستخط کی تقریب ہوئی جہاں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سمیت دیگر ممالک نے معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد چارٹر مکمل طور پر نافذالعمل ہوگیا۔اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا بورڈ آف پیس پر اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ کام جاری رکھوں گا۔ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے کوشاں ہیں اور امن کوششوں کی کامیابی کے لیے پْرامید ہیں۔ غزہ میں جنگ ختم ہونے والی ہے،حماس کو ہتھیارڈالنے ہوں گے ورنہ اس کا خاتمہ ہوجائے گا۔ عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دیے گئے غزہ بورڈ آف پیس میں اب تک پاکستان سمیت 20 ممالک شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔سعودیہ، ترکیہ، قطر،بحرین، ، انڈونیشیا ،قازقستان، مراکش، اردن، مصر، متحدہ عرب امارات،آذر بائجان اور ازبکستان جیسے مسلم ممالک بھی دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی جنگ کے پس منظر میں” بورڈ آف پیس” کی تشکیل کے اغراض و مقاصد اور اثرات و مضمرات پر پوری دنیا میں بحث جاری ہیں۔بہت سے عالمی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بورڈ آف پیس کا قیام درحقیقت امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ کے متوازی نیا بین الاقوامی فورم تشکیل دینے اور متبادل عالمی نظام لانے کی کوشش ہے کیونکہ کچھ عرصے سے اقوام متحدہ کے چارٹر ، فریم ورک اور بین لاقوامی قانون کے اندر رہتے ہوئے امریکا وہ کچھ حاصل نہیں کرپا رہا تھا جو صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی انتظامیہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔غزہ کی دوسالہ جنگ کے دوران اگر چہ اقوام متحدہ اوراس کے ادارے خونریزی رکوانے میں ناکام رہے اور اقوام متحدہ کی افادیت ایک سوالیہ نشان بنی رہی تاہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں جس طرح متعدد بار امریکا اور اسرائیل کو تنہائی اور سبکی کا سامنا رہا،اس کو سامنے رکھتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی قاتل نیتن یاہو کی جھلاہٹ کا دنیا نے کئی بار مشاہدہ کیا اورگزشتہ برس ستمبر میں جنرل اسمبلی سے سالانہ خطاب میں ٹرمپ اور نیتن یاہو نے جس طرح اقوام متحدہ اور اس کے سیکرٹری جنرل کو نشانے پر رکھ لیا تھا، حالیہ دنوں ٹرمپ نے کھلے لفظوں میں کہہ دیا کہ اس کی نظر میں بین الاقوامی قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ کو غیر موثر بنانے کے لیے اس کے مقابلے میں کوئی فورم بنانے کی کوشش سامنے آسکتی ہے۔یہ خدشہ درست ثابت ہوا اور اگر چہ صدر ٹرمپ نے بورڈ آف پیس میں اقوام متحدہ کو بھی ساتھ ملاکرکام کرنے کی بات کی ہے مگر بورڈ آف پیس کا جو خاکہ جاری کیا گیا ہے،وہ صاف بتارہا ہے کہ اب مشرق وسطی ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر تنازعات کے فیصلے بھی بورڈ آف پیس کے فورم پر ہوں گے جس کے خود ساختہ اور لامحدود اختیارات کے مالک تاحیات سربراہ خود صدر ٹرمپ ہوں گے۔یہ درحقیقت ٹرمپ کی” شہنشاہیت ” کو عالمی سطح پر منوانے کی کوشش ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ نے فرانس کو بورڈ آف پیس کی مخالفت کرنے پر بھاری ٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فرانس کے علاوہ جرمنی،برطانیہ،روس اور چین جیسے بڑے ممالک بھی بورڈ آف پیس کا حصہ بننے سے ہچکچارہے ہیں ۔
جہاں تک بورڈ آف پیس کے ذریعے مشرق وسطی میں مستقل جنگ بندی اور غزہ کی تعمیر نو کرنے کے ایجنڈے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کا ایکس پر جاری بیان سب کچھ واضح کررہا ہے جس میں انہوں نے دکھایا ہے کہ غزہ میں کس طرح سیاحتی مراکز قائم کیے جائیں گے اور اس منصوبے میں کون کونسے ملک اور ادارے شامل ہوں گے۔ اس منصوبے میںفلسطینیوں کی آزادی اور خود مختاری کی کوئی بات ہی نہیں کی گئی جس کی خاطر غزہ کے باشندوں نے ستر ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں۔گویا کہ نام نہاد بور ڈ آف پیس میں اس کلیدی ایشو اور سوال کو ایڈریس ہی نہیں کیا گیا جو مشرق وسطیٰ کے تنازع اور غزہ جنگ کی بنیاد ہے۔پھریہ امر بھی کسی لطیفے سے کم نہیں کہ اسرائیل کو جس نے غزہ کو لاکھوں ٹن بارود برساکر غزہ کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے،بورڈ آف پیس کا رکن بنایا گیا ہے جبکہ فلسطینیوں کو جوکہ غزہ کی سرزمین کے حقیقی وارث و مالک ہیں، بورڈ کا رکن بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔صدر ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کا اعلان کرتے ہوئے حماس کو تو کھلی دھمکیاں دے دیں جبکہ اسرائیل کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا، جو عین اس وقت بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی میں مصروف تھا جب ٹرمپ بورڈ آف پیس کے قیام کا اعلان کررہے تھے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات کے روز اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور فضائی حملوں میں کم از کم 11 فلسطینی شہید ہوگئے۔غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر ٹوٹ پڑنے والی شدید سردی کی لہر کے نتیجے میں جمعرات کی صبح ایک شیر خوار بچہ جان کی بازی ہار گیا جبکہ قابض اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ اور محاصرے کے باعث شہری گزشتہ کئی ماہ سے بدترین انسانی اور طبی حالات کا شکار ہیں۔
ان حالات میں بورڈ آف پیس کے قیام سے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور فلسطینیوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق ملنے کی توقع انتہائی موہوم ہے۔اس موہوم توقع کی بنیاد پر پاکستان ،سعودیہ ،ترکیہ،قطر سمیت کئی اسلامی ممالک کا بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا اعلان بہت سے مبصرین کے مطابق ایک جوا ہے جو بہرحال کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی دنیا اور وطن عزیز پاکستان کے بہت سے سنجیدہ حلقے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں تاہم دوسری جانب کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ امریکی صدر ٹرمپ کی مانیاں روکنے کے لیے دنیا میں کوئی موثراتحاد موجود نہیں ہے اور موجودہ وقت میں وقت گزاری ہی بہترین حکمت عملی ہے، پاکستان ،سعودی عرب اور ترکیہ وغیرہ نے بورڈ آف پیس کا حصہ بن کر اچھا داؤ کھیلا ہے۔ان میں سے کونسا تجزیہ درست ثابت ہوتاہے یہ تو وقت بتائے گا البتہ فی الوقت بورڈ آف پیس سے زیادہ خوش امیدی کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ بورڈ کا حصہ بننے والے اسلامی ممالک کو فلسطین کاز کا بہر حال دفاع کرنا ہوگا۔

