بورڈ آف پیس میں شمولیت سے متعلق وضاحت

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق سیکورٹی ذرائع نے امریکی صدر کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے 8 بڑے ممالک کے ساتھ مل کر بورڈ میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ پاک فوج حماس کو غیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی مسلمان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ نجی ٹی وی کے مطابق عسکری ذرائع نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شرکت کا فیصلہ 8 بڑے اسلامی ممالک سے مشاورت کے بعد بہت سوچ سمجھ کر کیا۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی سے صرف امریکا ہی روک سکتا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ غزہ امن بورڈ کے تحت پاکستان کی فوج حماس کوغیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی مسلمان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متنازع بورڈ آف پیس کی تشکیل اور اس میں پاکستان سمیت متعدد اسلامی ممالک کی شمولیت پر بہت سے قومی حلقے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ جمعے کے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی یہی موضوع زیر بحث رہا اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے فیصلے پر قوم کو اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے اہم رہنما احسن اقبال نے ایوان میں وضاحت کی کہ پاکستان کے اسرائیل سے متعلق موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہ کہ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مشاورت سے کیا۔ اب پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے بھی یہ وضاحت جاری کر دی گئی ہے کہ پاکستان کی فوج غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی کارروائی میں استعمال نہیں ہوگی۔ توقع رکھی جانی چاہیے کہ سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے اس پالیسی بیان کے اجرا کے بعد پیس بورڈ میں شمولیت کے حوالے سے محب وطن قومی حلقوں میںپائی جانے والی تشویش کم ہوگی۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث و تمحیص کے بعد ایک مشترکہ و متفقہ قومی پالیسی کا اعلان کیا جائے اور بور ڈ آف پیس میں پاکستان کے کردار اور اس کی شرائط کی مکمل وضاحت کی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں انتشار اور خلفشار پھیلانے کی خواہش مند قوتیں اس طرح کے حساس موضوعات کو چھیڑ کر یہاں بے امنی کو ہوا دینے کے لیے موقع کی تلاش میں ہوتی ہیں۔ چنانچہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے اعلان کے بعدسے سوشل میڈیا میں ریاستی اداروں اور مقتدر شخصیات کے خلاف مخصوص پروپیگنڈا مہم چلانے والے عناصر ایک بار پھر سرگرم ہوچکے ہیں اور ایسا تاثر دیا جارہا ہے جیسے پاکستان نے امریکا کے دباؤ پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور جیسے پاکستان کی فوج کو غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے بھیجنے کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے۔ موجودہ وقت میں جبکہ ایک مخصوص سیاسی پارٹی کی جانب سے 8فروری کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق اس احتجاج کو موثر بنانے کے لیے تیاریاں بھی چل رہی ہیں، اس طرح کا پروپیگنڈا جلتی پر تیل کا کام کرسکتا ہے اور حالات کو خدانخواستہ خرابی کی طرف لے جاسکتا ہے۔ اس لیے اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ صدر ٹرمپ کے متنازع پیس بورڈ میں پاکستان کے کردار سے متعلق شکوک و شبہات کا بروقت ازالہ کیا جائے۔ اس کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ معاملے کو پارلیمنٹ میں تفصیلی جائزے کے لیے پیش کیا جائے اور حزب اختلاف سمیت تمام قومی حلقوں کی تجاویز اور سفارشات پر بھی غور کرکے ایک جامع پالیسی تشکیل دی جائے جو اس امر کی ضمانت دے کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں فلسطینی کاز کا تحفظ کرے گا اور فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے گا۔

یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر کیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بورڈ آف پیس میں شامل اسلامی ممالک غزہ کے مستقبل سے متعلق ہر معاملے میں مشترکہ موقف پیش کریں اور فلسطینی نمایندوں کو بھی ہر پیشرفت پر اعتماد میں لیں۔ انہیں اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ فلسطینی مقاومت کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی بھی سمجھوتا یا منصوبہ مشرق وسطی میں امن کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ اسلامی ممالک سے بورڈ آف پیس میں فلسطینیوں کا مقدمہ لڑنے کی ہی توقع رکھی جائے گی۔ اگر وہ اس میں ناکام رہے اور امریکی دباؤ پر اسرائیل کے ایجنڈے پر کاربند رہے تو اس سے خود ان کاکردار مشکوک ہوجائے گا۔ بنا بریں پاکستان،سعودی عرب،ترکیہ اور قطر جیسے ممالک کا فرض بنتا ہے کہ وہ بورڈ آف پیس میں اپنی شمولیت کی عالم اسلام کے لیے افادیت ثابت کرنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کریں اور مشترکہ موقف دنیا کے سامنے پیش کریں۔

کراچی میں بنیادی ڈھانچے پر توجہ ناگزیر

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اہم اجلاس میں کراچی کی سڑکوں سمیت دیگر انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے لیے 21 ارب روپے سے زاید کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس میں میئر کراچی مرتضی وہاب نے وزیراعلی سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے شہر کی 409 خستہ حال سڑکوں کی مرمت کی نشاندہی کی۔ ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق 24 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کے لیے بھی مالی امداد کی منظوری دی گئی ہے۔ وزیراعلی سندھ نے تمام منصوبوں پر شفاف، معیاری اور بروقت کام مکمل کرنے کی ہدایت کی اور محکمہ خزانہ کو فنڈز فوری طور پر جاری کرنے کے احکامات بھی دیے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، پلوںکی تعمیر اور پانی، بجلی، گیس کی لائنوں اور نکاسی آب کے نظام کی تعمیر نو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گل پلازہ کے اندوہناک حادثے کے بعد سامنے آنے والے حقائق کی روشنی میں کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر کے لیے جدید ترین انفرا اسٹرکچر کی فراہمی ایک ناگزیر قومی تقاضے کی صورت اختیار کرگئی ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کے لیے 21ارب روپے کی منظوری ایک اچھی کاوش ہے مگر یہ کافی ہر گز نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی حکومت کو بھی کراچی کے لیے خطیر ترقیاتی پیکیج کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ یہ شہر حقیقی معنوں میں عروس البلاد بن سکے۔