دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے ناگزیر

بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق طالبان رجیم کی حکمرانی کے مضر اثرات میں پاکستان سرِفہرست ملک ہے۔دی ڈپلومیٹ کے مطابق2021 ء میں طالبان کی واپسی کو پاکستان نے خطے میں استحکام کا موقع سمجھا، مگر نتائج برعکس نکلے، پاکستان نے طالبان کی سفارتی اور انسانی سطح پر بھرپور حمایت کی، اس کے باوجود پاکستان کی سلامتی کی صورت حال بگڑتی گئی۔امریکی جریدے کے مطابق طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان کو دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا، افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان کے دہشت گرد بدستور سرگرم ہیں۔دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغان سرزمین مسلسل پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے، افغانستان سے ہونے والے سرحد پار حملوں میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد سب سے زیادہ ملوث ہیں۔

پاکستان اس وقت جن سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، ان میں دہشت گردی، بے امنی اور سیاسی و معاشی عدم استحکام سرفہرست ہیں۔ یہ محض امن و امان کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر بحران بن چکا ہے جو براہِ راست ریاست پاکستان کے قومی وجود، ریاستی رٹ اور معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب صوبہ خیبر پختونخوا یا بلوچستان کے کسی نہ کسی علاقے سے دہشت گردی کے کسی افسوسناک واقعے کی خبر سامنے نہ آتی ہو۔ گزشتہ دنوں بلوچستان کے ضلع خاران میں دن دہاڑے دہشت گردوں کا ایک مسلح جتھا قافلے کی صورت میں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر سوار ہو کر داخل ہوا اور پولیس اسٹیشن سمیت متعدد بینکوں پر دھاوا بول دیا۔ اگرچہ بروقت جوابی کارروائی میں کئی دہشت گرد مارے گئے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ انتہائی تشویشناک ہے کہ دہشت گرد دن کی روشنی میں، اجتماعی طور پر اور بلا خوف و خطر اس نوعیت کی کارروائی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ واقعہ واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد نہ صرف منظم ہیں بلکہ انہیں بیرونی پشت پناہی، محفوظ ٹھکانے اور منصوبہ بندی کی برتری بھی حاصل ہے۔ اسی طرح گزشتہ ہفتے بنوں، شمالی و جنوبی وزیرستان اور تیراہ کے مختلف علاقوں میں ہونے والی خونریز کارروائیوں نے اس تاثر کو مزید گہرا کر دیا کہ دہشت گردی کا یہ سلسلہ کسی صورت تھمنے میں نہیں آ رہا۔

یہ کہنا حقیقت کے منافی ہوگا کہ ہماری سیکورٹی فورسز اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انٹیلی جنس بنیادوں پر روزانہ کی کارروائیاں، بروقت ردعمل اور حملوں کے بعد دہشت گردوں کو پسپا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ فورسز میں نہ نیت کی کمی ہے اور نہ عزم کی، تاہم اس کے باوجود دو بنیادی عوامل ایسے ہیں جو دہشت گردی کے خاتمے کو مشکل بنائے ہوئے ہیں۔اول یہ کہ دہشت گرد ہمیشہ جارحانہ پوزیشن میں ہوتے ہیں جبکہ سیکورٹی فورسز کو دفاعی حکمتِ عملی اپنانا پڑتی ہے۔ دفاعی اور عسکری امور سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ حملہ آور کو منصوبہ بندی، وقت اور جگہ کے انتخاب میں برتری حاصل ہوتی ہے۔ حملے کو پیشگی ناکام بنانا، ممکنہ ٹھکانوں کی نگرانی کرنا اور ہر لمحے مکمل الرٹ رہنا عملی طور پر مشکل امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات دہشت گرد اپنی کارروائی انجام دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اگرچہ بعد ازاں انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔دوسرا اور سب سے اہم عنصر دہشت گردوں کو حاصل وہ محفوظ پشت پناہی ہے جو انہیں سرحد پار افغانستان میں میسر ہے۔ یہی نکتہ بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کی حالیہ رپورٹ میں بھی سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ اور داعش خراسان جیسے دہشت گرد گروہ بدستور سرگرم ہیں اور افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ سرحد پار حملوں میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کا مرکزی کردار ہے۔ جریدے کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کی شمولیت کی شرح ستر فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو ایک نہایت تشویشناک انکشاف ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی جانب سے کابل میں دوبارہ سفارتی موجودی قائم کر کے طالبان قیادت سے روابط بڑھانا بھی پاکستان کے لئے ایک نئے اسٹریٹجک خطرے کے طور پر ابھرا ہے۔یہ رپورٹ اس حقیقت کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان نے ابتدا میں تصادم کی بجائے مکالمے، ثالثی اور علاقائی سفارت کاری کو ترجیح دی، علمائے کرام، سیاسی رہنماؤں اور بااثر قبائلی شخصیات کے وفود بھیجے، غیر ملکی ثالثی سے ٹی ٹی پی دہشت گردوں کی سرحدی علاقوں سے منتقلی پر اتفاق بھی ہوا، مگر وعدوں کے باوجود طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کیخلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ اسی رویے کے باعث پاکستان کو مذاکرات کے ساتھ ساتھ محدود عسکری کارروائی کی حکمتِ عملی اپنانا پڑی اور ستمبر و اکتوبر 2025 میں افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، مگر اس کے باوجود پاکستان میں حملے ہیں کہ بدستور جاری ہیں ۔

اس تمام صورتحال میں افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ صرف افغان طالبان دہشت گردی کی سرپرستی سے انکار کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کے اندر بھی ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے ریاستِ پاکستان کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قوم کے اندر یہ تقسیم بھی دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک پوری قوم یکسو، متحد اور ایک واضح قومی بیانیے پر متفق نہیں ہوگی، اس عفریت کا مقابلہ ممکن نہیں۔پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اسی ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ اس کے باوجود اگر یہ کہا جائے کہ یہ مسئلہ محض مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے تو یہ زمینی حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ پاکستان سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کے تمام راستے آزما چکا ہے، مگر افغان طالبان کا رویہ ماضی کی حکومتوں، خواہ وہ کرزئی ہوں، اشرف غنی ہوں یا اس سے قبل کی افغان قیادتیں، سے مختلف نہیں رہا۔ ایسے میں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست پوری قوت، قومی اتحاد اور واضح حکمتِ عملی کے ساتھ دہشت گردی کے اس ناسور کا خاتمہ کرے، کیونکہ یہ محض ایک سیکورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ملکی بقا کا سوال بن چکا ہے۔