صفائی نصف ایمان ہے

سال کے آغاز میں ہم نے صفائی ستھرائی کے موضوع پر ایک کالم تحریر کیا اور درس قرآن ڈاٹ کام کے پلیٹ فارم سے بھی گفتگو کی۔ اس میں یہی بات واضح کی کہ اگر ہر شخص صرف اپنے گھر کے باہر اور اردگرد کے ماحول کو صاف کرلے تو پورا معاشرہ صاف ستھرا ہوسکتا ہے۔ الحمدللہ، اس پیغام پر لوگوں نے لبیک کہا۔ کئی شہروں میں صفائی مہم شروع ہوئی، بیسیوں اداروں کے ملازمین نے اپنے اداروں کے اطراف کی صفائی کو معمول بنا لیا اور کئی گھروں کے افراد نے اپنے گھروں کے باہر کی جگہ کو خوبصورت اور صاف ستھرا رکھنے کی ابتدا کی۔ یہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ جب نیک نیت اور خلوصِ دل سے بات کی جائے تو وہ لوگوں کے دلوں کو ضرور چھوتی ہے۔

چند ماہ قبل ہم نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر قیمتی وقت ضائع کرنے کی بجائے اس کا مثبت استعمال کرنے کی تلقین کی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کئی نوجوانوں نے اس پیغام کو سنا اور اس پر عمل کیا۔ بعض نوجوانوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے پہلے مثبت استعمال کے اصول سیکھے اور پھر اپنی عملی زندگی میں ان پر عمل شروع کیا۔ آج وہ سوشل میڈیا کے ذریعے دین کی باتیں بھی پھیلا رہے ہیں، خیر و بھلائی کا پیغام بھی دے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنا روزگار اور کاروبار بھی بڑھا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو اگرچہ آہستہ آہستہ ہے لیکن اس کے اثرات دور رس ہیں۔ ایک فرد کے بدلنے سے اس کا گھرانہ بدلتا ہے، ایک گھرانے کے بدلنے سے محلہ بدلتا ہے، اور رفتہ رفتہ پورا معاشرہ ایک نئی سمت کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

ہمارے ایک دوست نے طنزیہ انداز میں کہا کہ چند تحریروں یا پروگراموں سے کیا انقلاب آسکتا ہے؟ میں نے انہیں وہی واقعہ سنایا جو اکثر لوگوں نے سنا ہوگا کہ ایک بچہ سمندر کے کنارے مچھلیوں کو واپس پانی میں ڈال رہا تھا۔ اگرچہ سیکڑوں مچھلیاں کنارے پر تڑپ رہی تھیں لیکن بچے کا جواب معنی خیز تھا کہ ”اس ایک مچھلی کو تو فرق پڑے گا”۔ یہی اصل پیغام ہے۔ ہر فرد اپنی جگہ پر جتنا کام کرسکتا ہے کرے، نتائج اللہ کے سپرد کرے۔

یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ بڑے انقلاب اچانک برپا نہیں ہوتے۔ معاشرے کی اصلاح اور قوموں کی تعمیر کا سفر صبر، استقامت اور مستقل مزاجی کا متقاضی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے انقلابات اور تحریکیں ابتدا میں چھوٹے چھوٹے اقدامات سے شروع ہوئیں۔ صفائی کی تحریک ہو یا تعلیم کی ترویج، اخلاقی بیداری ہو یا سماجی خدمت، سب کچھ پہلے چند افراد کی محنت سے شروع ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم سب نتائج کے مکلف نہیں۔ کسان بیج بوتا ہے، پانی دیتا ہے، کھاد ڈالتا ہے، مگر پھل دینا اللہ کے اختیار میں ہے۔ اسی طرح ہمارا کام خیر اور بھلائی کے بیج بونا ہے۔ اگر ہم نے یہ نیت کرلی کہ ہمیں اپنی بساط کے مطابق نیک کام کرتے رہنا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور کسی نہ کسی صورت میں ہماری محنت کو بارآور کرے گا۔

آج ہماری قوم کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ اگر ہم صرف تنقید کرتے رہیں، دوسروں کے انتظار میں بیٹھے رہیں اور یہ سوچتے رہیں کہ ہمارے کرنے سے کیا فرق پڑے گا، تو یقیناً معاشرے میں تبدیلی کبھی نہیں آسکتی۔ لیکن اگر ہم سب اپنی جگہ سے چھوٹے چھوٹے کام شروع کردیں تو یہی چھوٹے اقدامات مل کر ایک بڑی تبدیلی کا سبب بنیں گے۔

اسی پیغام کو آگے بڑھاتے ہوئے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کون کون سی چھوٹی مگر مؤثر تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ مثلاً کچرا کوڑے دان میں ڈالنا، پانی اور بجلی کی بچت کرنا، دوسروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا، علم بانٹنا، بچوں کی تربیت پر توجہ دینا، رشوت اور دھوکے سے بچنا، اور اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کرنا۔ اگر ہر فرد ان چھوٹی چھوٹی چیزوں پر توجہ دے تو یہی عمل اجتماعی طور پر ایک بڑی کامیابی میں ڈھل جائے گا، لہٰذا آج کی اس تحریر کا یہی سبق ہے کہ کبھی بھی ہمت نہ ہاریں، اپنے حصے کا چراغ ضرور جلائیں۔ یاد رکھیں اندھیروں کو ختم کرنے کے لیے روشنی کی ایک چھوٹی سی کرن بھی کافی ہوتی ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کرن کو جلائے رکھیں۔ چاہے ایک شخص بدلے یا ہزار، ہمیں اپنا فریضہ ادا کرتے رہنا ہے۔ قوم کی تعمیر، معاشرے کی اصلاح اور ملک کی ترقی کے لیے یہی سب سے بڑا سرمایہ ہے۔