غزہ :غزہ میں حملہ آور اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے،مجاہدین کے ساتھ جھڑپوں میں 12فوجی ہلاک اور 4لاپتہ ہوگئے،شدیدلڑائی کے بعد قابض افواج پسپا ہونے پر مجبور ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ پر حملہ آور اسرائیلی افواج کو فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔غزہ کے قصبے زیتون میں اسرائیلی فورسز پر مزاحمت کاروں کے پے در پے حملوں میں 12اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ 4 لاپتہ ہوگئے۔
جھڑپوں کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا،حماس نے لاپتہ اسرائیلی فوجی اپنے قبضے میں ہونے کے ثبوت کے طور پر ان کی تصاویر جاری کردیں ۔ان جھڑپوں میں ناکامی کے بعد اسرائیلی حملہ آور فورسز زیتون کے علاقے سے پسپا ہوگئی ہیں۔جھڑپوں کے دوران اسرائیلی افواج نے گن شپ ہیلی کاپٹرز اور توپ خانے بھی استعمال کیے تھے۔الزیتون کے علاقے میں حماس اوراسرائیلی فوج کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے،القسام بریگیڈ کاکہنا ہے کہ اسرائیلی اہلکاروں کےلئے آنےوالے ہیلی کاپٹروں پر بھی فائرنگ کی گئی۔
صہیونی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کے جنگجوﺅں نے اسرائیلی فوجیوں کو نائٹ وژن آلات کے ذریعے ٹریس کیا، جس کے بعد شدید جھڑپیں شروع ہوئیں۔اسرائیلی فوج کی 162 ویں ڈویژن اور 401ویں بریگیڈ کے دستے الزیتون میں حملے کا شکار ہوئے۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے فوجیوں کو نکالنے کے لیے 6 اضافی ہیلی کاپٹر بھیجے ۔ اسرائیلی فوج نے چارفوجیوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق بھی کی ہے،جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ انھیں اغواکرلیا گیا ہے۔
ادھر غزہ سے اسرائیلی یرغمالی کی لاش اوردوسرے کی باقیات ملی ہیں،القسام بریگیڈکے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے اسرائیلی فوج کے حملوں سے یرغمالیوں کی زندگیوں کوخطرہ ہے۔غزہ پر قابض اسرائیل کی مسلط کردہ نسل کشی جاری ہے، مزید 66 فلسطینی شہید اور345 زخمی ہوگئے،فلسطینی وزارت صحت نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ قابض اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 66 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں سے 4 لاشیں ابھی حال ہی میں نکالی گئی ہیں، جبکہ 345 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔