امریکی عدالت نے ٹیرف غیر قانونی قرار دیدیا، ٹرمپ برہم

واشنگٹن : امریکی عدالت نے صدر ٹرمپ کے عائد کردہ بیشتر عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا ہے جس پر امریکی صدر کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔
امریکی وفاقی اپیلز کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کئے گئے زیادہ تر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عدالت کے 11ججوں میں سے 7نے کہا کہ ٹرمپ نے ٹیرف لگاتے وقت اپنے اختیارات سے زیادہ استعمال کیا، کیونکہ صدر کو صرف ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت محدود اختیارات دئیے گئے ہیں۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ ٹیرف 14اکتوبر تک برقرار رہیں گے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی اپیل کورٹ کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جس میں اکثر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا گیا، اور انہوں نے عدالتی فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے عائد کردہ ٹیرف کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ تمام ٹیرف اب بھی موثر ہیں!آج اپیل کورٹ نے غلط طور پر کہا کہ ہمارے ٹیرف کو ختم کر دینا چاہیے، مگر وہ جانتے ہیں کہ آخر میں جیت امریکا کی ہی ہوگی۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یہ ٹیرف برقرار نہ رکھے گئے تو یہ ملک کے لیے ایک مکمل تباہی ہو گی۔ یہ ہمیں مالی طور پر کمزور کر دے گا، تاہم ہمیں مضبوط رہنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیرف تجارتی خسارے اور غیر ملکی تجارتی رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ امریکا اب بڑے تجارتی خسارے اور غیر منصفانہ ٹیرفس اور تجارتی رکاوٹوں کو برداشت نہیں کرے گا، چاہے وہ ممالک دوست ہوں یا دشمن، جو ہماری مینوفیکچرنگ، کسانوں اور دیگر سب کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔