یہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میٹنگ تھی۔ ایک روز کیبنٹ میٹنگ میں اس قدر برافروختہ ہوئے کہ مشتعل ہو کر کہنے لگے: بیوروکریسی کی کارکردگی اچھی نہیں۔ میں سمجھتا ہوں جو سیکرٹری صحیح طرح کام نہ کرے اسے الٹا لٹکا دینا چاہئے۔’ ان فقروں سے پوری محفل میں سناٹا چھا گیا۔ چند لمحوں بعد کونے میں بیٹھا ایک دھان پان سا شخص کھڑا ہوا اور ٹھوس لہجے میں بولا جناب صدر! میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی جنرل صحیح کام نہ کرے تو اسے بھی الٹا لٹکا دینا چاہئے۔ یہ دو فقرے گویا بم بن کر گرے۔ جنرل ضیاء کا چہرہ غصے سے سیاہ پڑ گیا۔ شدید غصے کے عالم میں ان کی مونچھیں پھڑکنے لگیں، مگر وہ بولے کچھ نہیں۔ فوراً ہی چائے کے وقفے کا اعلان کر دیا گیا۔ سینئر سیکرٹری حضرات دور کھڑے حیرت سے اس لا سیکرٹری کی جانب تک رہے تھے جس نے ایک آمر کو ترکی بہ ترکی جواب دینے کی جرأت کی تھی۔ وقفے کے دوران ہی جنرل ضیاء کے ایک ساتھی نے سرمحفل جواب دینے والے لاسیکرٹری کو ایک علیحدہ کمرے میں بلایا اور کہا، آپ نے بڑی زیادتی کی ہے۔ آپ کو اس کی معذرت کرنی چاہئے۔ لاسیکرٹری نے نرم مگر مضبوط لہجے میں کہا پہلے زیادتی جنرل ضیاء الحق نے کی۔ وہ سب کے سامنے اپنے الفاظ واپس لیں تو میں بھی معذرت کر لوں گا۔ یہ جواب سن کر وہ صاحب کہنے لگے، یہ تو ممکن نہیں۔ پھر میرے لیے بھی یکطرفہ طور پر ایسا کرنا ممکن نہیں۔ انہیں جواب ملا۔
حق گوئی کی یہ منفرد مثال قائم کرنے والے فیڈرل لاسیکرٹری جسٹس کے ایم صمدانی تھے۔ اس واقعے سے پہلے انہوں نے بطور جج ہائی کورٹ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ضمانت لے کر سب کو حیران کر دیا تھا۔ لوگ جانتے تھے کہ جنرل ضیاء نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا ہے اور وہ انہیں کسی صورت رہا نہیں ہونے دے گا۔ اس کے باوجود جسٹس صمدانی نے کیس کے میرٹ کو دیکھتے ہوئے بھٹو صاحب کی ضمانت منظور کر لی۔ کابینہ والے ناخوشگوار واقعہ کے کچھ عرصے بعد جسٹس صمدانی کو واپس لاہور ہائی کورٹ بھیج دیا گیا۔ جلد ہی جنرل ضیاء نے پی سی او جاری کر دیا۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کو اس کے تحت حلف لینے کا کہا گیا۔ جسٹس ایس ایم نصرت اس وقت فیڈرل لاسیکرٹری تھے۔ انہوں نے بعد میں اپنے ایک اخباری انٹرویو میں بتایا، چیف جسٹس شمیم حسین قادری اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جسٹس کے ایم صمدانی سے حلف لینے کا کہا مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ جسٹس صمدانی بہت اچھے آدمی تھے۔ انہوں نے واقعی ہمت سے کام لیا اور حلف نہ لیا۔
جسٹس صمدانی کو مٹی اوڑھے ایک عشرہ ہونے کو آیا ہے۔ ان کے آخری برسوں میں ان سے ملاقاتوں کا موقع ملا، ان کا ایک بہت تفصیلی انٹرویو بھی کیا جو میری انٹرویوز کی زیر طبع کتاب میں شامل ہے۔ جسٹس صمدانی نے جب پی سی او کے تحت حلف نہ لینے پر عدلیہ چھوڑی تو ان کی عمر صرف چھیالیس برس تھی۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ججوں میں سے تھے اور یہ یقینی سمجھا جاتا تھا کہ وہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوں گے۔ ایک دن میں نے صمدانی صاحب سے سوال پوچھا کہ بھٹو صاحب کی ضمانت لیتے اور پھر حلف اٹھانے سے انکار کرتے ہوئے آپ کے ذہن میں یہ خیال نہ آیا کہ اس طرح تو میرا عدالتی کیرئر ختم ہو جائے گا۔ جسٹس صمدانی کا جواب بڑا برجستہ اور واضح تھا، میں نے ایک لمحے کے لیے بھی ایسا نہیں سوچا۔ انسان کا رازق خدا ہے، رزق بھی وہی دیتا ہے اور عزت بھی۔ ایک جج کا کام انصاف کرنا ہے ہر قیمت پر انصاف۔ میں سمجھتا ہوں کہ منصف کا کام عام لوگوں سے مختلف اور بہت کٹھن ہے۔ اگر کوئی انصاف کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا تو اسے چاہئے کہ کوئی اور پیشہ اختیار کرلے۔ وہ مزید بولے اس جرأت انکار نے مجھے بے پناہ عزت عطا کی۔ حلف نہ اٹھانے پر اسی شام لاہور ہائی کورٹ بار کے تمام عہدہ دار میرے گھر آئے۔ کسی نے مجھے مکان کی پیش کش کی تو کسی نے بلینک چیک میرے آگے رکھ دیا۔ ہر ایک نے کچھ نہ کچھ آفر کیا۔ مجھے اپنے رب پر بھروسہ تھا۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا مجھے کسی قسم کی ضرورت نہیں۔ پھر مجھے اگلے سال کے لیے ہائی کورٹ بار کا صدر بھی منتخب کیا گیا۔ آج جب میں پچیس سال پہلے کے اس فیصلہ کن لمحے پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے کسی پچھتاوے کا احساس نہیں ہوتا۔ ضمیر کی خلش کے بغیر جینا زیادہ مسرت بخش ہے۔
جسٹس صمدانی نے سول سروس کا امتحان پاس کیا تھا، وہ فرسٹ کلا س مجسٹریٹ لگے تھے، تب عدلیہ اور انتظامیہ ایک تھی۔ بعد میں صمدانی صاحب انتظامیہ کے بجائے عدلیہ کی طرف چلے گئے اور سیشن جج بنے اور پھر لاہور ہائی کورٹ کے جج۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی پوسٹنگ ایبٹ آباد تھی۔ ایک دن کمرہ عدالت میں ایک فریق نے انہیں خط دیا اور کہا کہ یہ صدر ایوب خان کی والدہ کا خط ہے، اسے پڑھ لیں۔ صمدانی صاحب نے خط لیا، وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ یقینی طور پر سفارشی رقعہ ہوگا۔ ایبٹ آباد میں ا ن دنوں بہت سردی ہوا کرتی تھی، جج کی کرسی کے پیچھے ایک آتش دان تھا جسے صبح ہی لکڑیاں ڈال کر سلگا دیا جاتا۔ صمدانی صاحب نے خط کھولے بغیر اسی آتش دان میں پھینک دیا اور اس شخص سے کہا کہ آئندہ کوئی ایسا رقعہ لائے تو توہین عدالت لگا دوں گا۔ یہ بات تیزی سے پھیل گئی، ساتھی ججوں نے انہیں کہا کہ آپ کو ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ آپ خط رکھ لیتے اور بے شک اس میں کی گئی سفارش پر عمل نہ کرتے مگر یوں خط جلا دینا تو براہ راست توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ صمدانی صاحب اللہ توکل والے آدمی تھے، انہوں نے مسکرا کر بات ٹال دیا اور ثابت قدم رہے۔
جنرل ضیاء الحق کے 1981ء والے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والوں میں سپریم کورٹ کے ایک جج فخرالدین جی ابراہیم بھی شامل تھے۔ انہیں وکلا برادری میں فخرو بھائی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ فخرو بھائی کا تعلق ایسی برادری سے تھا جس کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ ٹکرائو سے گریز کرتی ہے مگر فخرو بھائی کا مسلک شروع ہی سے حق گوئی تھا۔ جب پی سی او آیا تو وہ سپریم کورٹ کے جج تھے۔ انہوں نے ریڈیو پر پی سی او کی تفصیل سنی، انہیں لگا کہ اس کا واحد مقصد عدلیہ کی تذلیل کرنا ہے۔ انہوں نے فوراً فیصلہ کیا کہ اس کے تحت کام کرنے کے بجائے گھر چلا جانا ہی بہتر ہے۔ جنرل ضیاء کے دست راست شریف الدین پیرزادہ انہیں سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کی پیش کش کر چکے تھے مگر فخرو بھائی نے ہر ترغیب مسترد کرتے ہوئے حلف نہ لیا۔ ایک لمحے کے لیے انہیں یہ خیال آیا کہ میں نے جج بننے کی وجہ سے پچھلے دس سال سے وکالت نہیں کی، اب دوبارہ پتہ نہیں چلتی بھی ہے کہ نہیں؟ پھر اس اندیشے پر اصول پسندی غالب آئی۔ ججی چھوڑنے کے بعد انہوں نے کراچی میں اپنے پرانے لا آفس جانا شروع کیا۔ دوسرے روز ایک پرانا موکل آیا اور انہیں بارہ ہزار روپے دے کر بولاکہ آپ پھر سے ہمارے وکیل ہیں۔ فخرو بھائی کہتے ہیں بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں نے سب کمائی اس کے بعد کی ہے۔ اگر پہلے میرے پاس ایک روپیہ تھا تو اب پچاس روپے ہیں۔ 99 میں ایک اخباری انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کا سالانہ ذاتی انکم ٹیکس 37لاکھ ہے۔ ججی چھوڑنے کے بعد وہ مختلف ادوار میں اٹارنی جنرل اور وفاقی وزیر قانون رہنے کے ساتھ گورنر سندھ بھی بنے، آخری برسوں میں انہیں چیف الیکشن کمشنر بھی بنایا گیا۔
سچ تو یہ ہے کہ بات صرف عدلیہ اور ججوں کی نہیں اصل بات یہ ہے کہ آزمائش کے کسی لمحے میں آپ نے کیا پرفارم کیا؟ کس قدر استقامت اور جرأت سے کام لیا۔ ہماری بیوروکریسی میں بھی چند ایک ایسے دیانت دار بیوروکریٹ ضرور رہے ہیں، اگرچہ عمومی طور پر صورتحال خاصی غیرتسلی بخش اور مایوس کن رہی ہے۔ آج پاکستان بہت سے گمبھیر مسائل سے اسی لئے دوچار ہے کہ ہماری بیوروکریسی اور انتظامی ڈھانچہ انصاف نہیں کر رہا، لوگوں کو ریلیف نہیں دے رہا۔ پولیس اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر رہی، انتظامیہ عام آدمی کو دھتکار دیتی ہے، تاجر بے ایمانی کر کے عالمی سطح پر ملک کو بدنام کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر عالمی سطح پر کئے گئے معاہدوں میں بہت سے مسائل اور تکنیکی کمزوریاں رہ جاتی ہیں، بعد میں ان کی قیمت ملک کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ اربوں ڈالر کے جرمانے لگ جاتے ہیں اور پھر حکومتوں اور ریاست کو کمپرومائز کرنے پڑتے ہیں۔ کیا یہ سب اتفاق یا نادانستگی سے ہو جاتا ہے؟ نہیں! یہ سب کچھ طے شدہ منصوبے کے تحت ہوتا ہے۔ جس شخص نے اپنا فرض ادا کرنا تھا، اس نے غفلت اور کوتاہی کی۔ وہ آزمائش کے فیصلہ کن لمحے میں ہار گیا، دیانت داری سے کام نہیں لے سکا۔ نتیجے میں خود بھی رسوا ہوا اور اپنی قوم کو بھی مشکل میں ڈال گیا۔
ہماری ہزاروں سال کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ آزمائش کے اس خاص لمحے میں ثابت قدم رہنے والے ہی سرخرو ہو سکے ہیں۔ وہی ایک لمحہ یہ طے کرتا ہے کہ اس شخصیت نے امر ہو جانا ہے یا اسے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا۔

