گھریلو تعلیم کے اہتمام سے بھی زندگیاں بدلتی ہیں۔ یہ 2016ء کی بات ہے ہم نے ”گھریلو تعلیم” یہ مضمون لکھا کہ روزانہ کی بنیاد پر گھر میں تعلیم کرنی چاہیے، اور پھر اس تعلیم کے کیا کیا فوائد ہیں، وہ بھی لکھے۔ اس کا طریقہ کار بھی بنایا کہ روزانہ ایک سے 2منٹ کی تعلیم کریں۔ صرف ایک بات پر ہی تعلیم کریں۔ اس تعلیم میں گھر کے تمام افراد شامل ہوں۔ یہ تعلیم رات کو سونے سے پہلے اس وقت کریں۔ جب سب گھر والے موجود ہوں۔ اس کا بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا۔ کئی گھروں میں تعلیم شروع ہوگئی۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ ہماری پہلی بچی کی عمر ابھی تین سال ہی تھی۔ ہم نے سوچا کہ اس کی تعلیم و تربیت کے لیے گھر میں کوئی بندوبست ہونا چاہیے۔ سوچ و بچار کے بعد جو 4 مختلف صورتیں سامنے آئیں ان میں سے ایک یہ تھا کہ گھر میں روزانہ کی بنیاد پر اجتماعی تعلیم کی جائے۔ اب سوال یہ تھا کہ کس کتاب کی تعلیم کی جائے؟
کتاب کے انتخاب کے لیے ہم نے اپنے استاذ مولانا قاسم صاحب سے رابطہ کیا۔ انہوں نے جن 3کتابوں کے نام بتلائے، ان میں سے ایک حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی تصنیف ”حیاة المسلمین” بھی تھی۔ ہم نے اللہ کا نام لے کر اسی دن سے گھر میں ”حیاة المسلمین” کی اجتماعی تعلیم کا آغاز کردیا۔ روزانہ عشاء کے بعد سب گھر والے ایک مخصوص جگہ پر اکھٹے ہوتے، 3سے 5منٹ کی مختصر سی تعلیم ہوتی، اور آدھے پون منٹ کی مختصر سی دعا ہوتی ہے۔ اس تعلیم میں ہماری معصوم سی ناسمجھ بچی بھی باقاعدگی سے بیٹھتی۔ ہفتے میں چھ دن تعلیم ہوتی اور جمعرات کو چھٹی ہوتی۔ ہم نے یہ اصول بنا دیا تھا کہ یہ تعلیم ہر حال میں روزانہ ہو اکرے گی۔ اس وقت پورے گھر میں جتنے بھی محرم افراد موجود ہوں، وہ اس تین منٹ کی گھریلو تعلیم میں لازمی شرکت کریں گے۔ تعلیم کے لیے ہم نے جو وقت مقرر کیا تھا۔ رفتہ رفتہ بچوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ تعلیم کی پابندی سے کرنے کی ذمہ داری بچوں کی ماں پر تھی اور ہے۔ گھر میں تعلیم کروانے کا یہ مستحسن سلسلہ عرصہ 13سال سے جاری ہے۔ سال کے 365دنوں میں سے تین سو دن لازمی تعلیم ہوتی ہے۔
بچے جیسے جیسے بڑھتے چلے گئے ویسے ویسے ہم نے دیگر کتابوں کا بھی اضافہ کرنا شروع کردیا۔ اس وقت 14مختلف قسموں کی کتابوں کی تعلیم کرتے ہیں۔ روزانہ کتاب بدل بدل کر تعلیم کرتے ہیں تاکہ بچے بور نہ ہوں، اور مختلف النوع معلومات بھی حاصل ہوں۔ جن کتابوں کی تعلیم ہوتی رہی ہے، ان میں سے چند ایک کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔ حضرت تھانوی کی ”حیاة المسلمین” کے علاوہ ڈاکٹر عبدالحی عارفی کی کتاب ”اسوئہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم”، مولانا حبیب اللہ مختار کی ”اسلام اور تربیتِ اولاد”، عبداللہ فارانی کی ”روشن قندیلیں”، ڈاکٹر اطہر انور کی ”بچوں کی تربیت اور نگہداشت”، محمد عبداللہ کی ”قصص الاولیائ”، مولانا محمد زکریا کاندھلوی کی ”حکایاتِ صحابہ”، عبداللہ فارانی کی ”سیرت الانبیائ”، تالیفاتِ اشرفیہ کی ”آج کا سبق”۔ ”آج کا سبق” میں اسلامی مہینوں کی تربیت سے ہر ماہ کے 30مختلف اسباق ہیں۔ ایک سبق ایک صفحے پر مشتمل ہے۔ اس میں اڑھائی تین منٹ لگتے ہیں۔ یومیہ اجتماعی گھریلو تعلیم کے لیے یہ ایک اچھی تالیف ہے۔ ہمارے بچوں کو اس کتاب سے بہت فائدہ ہواہے۔ جن دنوں ہم اپنی کتابی سیریز ”زندگی ایسے گزاریں” پر کام کرہے تھے تو بچوں کی تعلیم و تربیت کے موضوع پر درجنوں کتابوں کے مطالعے کا اتفاق ہوا۔ اکثر کتابیں ایسی تھیں جو اجتماعی گھریلو تعلیم کے لیے مناسب نہ تھیں، ان کا فرداً مطالعہ ہی مفید ہے۔ اجتماعی تعلیم کے لیے حضرت شیخ الحدیث کی ”فضائل اعمال” بھی اچھی معلوم ہوتی ہے۔
گھریلو اجتماعی تعلیم کے فوائد ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اور دیکھ رہے ہیں۔ہماری بڑی بہن کے بچے رفتہ رفتہ بگڑنے لگے تو انہوں نے پریشان ہوکر ایک دن فون کیا کہ کیا کروں؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ میں بہت پریشان ہوگئی ہوں۔ میں نے جھٹ سے کہا کہ باجی! بس ایک کام پابندی سے شروع کردیں، سب ٹھیک ہوجائے گا۔ آپ اپنے گھر میں ”فضائل اعمال”، ” حیاة المسلمین”، ”اسلام اور تربیت، ”آج کا سبق”… ان کتابوں کی روزانہ کی بنیاد پر تعلیم کا آغاز آج ہی سے کردیں۔ چند ہی دنوں میں اس کے اچھے اور خوشگوار نتائج ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ باجی نے اپنے گھر میں مغرب کے بعد تعلیم کی ابتدا کر ہی دی۔ باجی بتاتی ہیں کہ شروع شروع میں کوئی بھی اس تعلیم میں نہیں بیٹھتا تھا، پھر رفتہ فتہ بچے بیٹھنے لگے۔ میں کسی ایک موصوع پر ایک دو منٹ پڑھتی اور پھر اتنی ہی دیر میں اس کا خلاصہ اینگلو اردو میں بیان کرتی۔ میں نوٹ کرتی رہتی کہ بچوں میں کون سی برائی زور پکڑتی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر اگر بچے جھوٹ بولنے لگے ہیں تو میں جھوٹ سے نفرت، جھوٹ کی شناعت، جھوٹ بولنے پر قرآن و حدیث کی وعیدیں، جھوٹ کے نقصانات پر تعلیم کروانا شروع کر دیتی۔ ایک دن جھوٹ کے نقصانات پر تعلیم ہوتی تو دوسرے دن سچ کی فضیلت، سچ کی اہمیت، سچ کے فوائد پر تعلیم کرتی۔ اسی طرح اگر بچے باتھ روم استعمال کرنے کے بعد ہاتھ صابن سے نہیں دھو رہے، دانت صاف نہیں کر رہے، کپڑے صاف ستھرے نہیں پہن رہے تو صفائی ستھرائی کی اہمیت، گندگی سے نفرت اور غلاظت کے نقصانات پر تعلیم کرنا شروع کر دیتی۔ چند ہی دنوں میں بچوں سے یہ بری عادت ختم ہو جاتی۔ اس کے بعد ہم نے اپنے رشتہ داروں اور دوست احباب کے متعدد گھروں میں گھریلو تعلیم کا مستحسن سلسلہ شروع کروایا ہے۔ نیکی طرف راہنمائی کرنے والا ایسا ہی ہے جیسا کہ خود نیکی کرنے والا۔ تو میرے بھائیو! بہنو! اور دوستو! آپ بھی آج ہی سے گھریلو تعلیم کا آغاز کریں۔

