ایران، امریکا بحران اور پاکستان کا کردار

اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، امن معاہدے اور مذاکرات کے حوالے سے مسلسل پیشرفت ہورہی ہے۔ ہر چند کہ دونوں ملکوں کے درمیان لفظی جنگ کا سلسلہ تھما نہیں تاہم مبصرین کے مطابق کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہ آیا تو اب جنگ کے خطرات کم تر ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدرایران کے ساتھ متوقع معاہدے کے حوالے سے خاصے پر امید ہیںلیکن ان کا یہ بھی کہناہے کہ ایرانی یورینیم کے حصول کیلئے مذاکراتی عمل واحد راستہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ اسے سفارتی زبان میں طاقت کے استعمال کا اشارہ سمجھا جاسکتا ہے۔ امریکی صدر نے واضح کردیا ہے کہ ایران کو ایٹمی قوت کے حصول سے روکنے کی امریکی پالیسی میں کوئی لچک پیدا نہیں ہوگی۔ ایرانی پیشو ا کے مطابق ایران کا دشمن شکست کھانے کے بعد اب مختلف حیلے بہانوں سے اپنی خفت پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں ہے، تاہم انھوں نے مذاکراتی عمل سے انحراف کا کوئی اشار ہ نہیں دیا۔ ایرانی سپریم لیڈر کے ترجمان کے مطابق امریکی مطالبات پر غور وفکر کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض شرائط میں ابہام ہے جسے دور کیاجانا ضروری ہے۔ ایران کسی مبہم بات کو قبول نہیں کرے گا۔

ایران پر امریکی جارحیت، طاقت کا استعمال اور اس کے نتائج بڑی حد تک واضح ہیں۔ ایرانی قیادت، اہم تنصیبات اور متعدد شہری وسائل کو ختم کردیاگیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بعض دوست ممالک کی مدد حاصل نہ ہوتی توایران کیلئے امریکا کی جنگی قوت کا مقابلہ کرنا قریبا ً ناممکن ہوتا۔ یہ ایک ناقابلِ تردید امر ہے کہ امریکا اپنی قیادت کی حماقتوں اور غلطیوں کے باوجود اس وقت بھی دنیا کی سب سے باوسائل ریاست ہے۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اعلیٰ تعلیم اور سافٹ ویئر اور دنیا کی سب سے بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بدولت اس کی معیشت اس وقت بھی مستحکم ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ دار اس وقت بھی امریکا کے ساتھ شراکت اور کام کرنے پر اتفاق کرتے ہیں اور امریکی بانڈز مارکیٹ ویلیو بھی قائم ہے۔ امریکی ڈالر اس وقت بھی دنیا کی معیشت میں اہم ترین عنصر کی حیثیت رکھتاہے اوراس ڈالر کو چھاپنے کا اختیار بھی امریکا کے پاس ہے۔ ان وسائل کے ساتھ ساتھ اسے آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور نیٹو کے اہم رکن ممالک کا تعاون بھی حاصل ہے جس کی وجہ سے امریکا دنیا میں سب سے بڑا نیٹ ورک رکھتاہے۔ امریکی کے پاس دنیا بھر میں فوجی اڈے، دیو قامت بحری بیڑے اور خوف ناک فضائی قوت موجود ہے۔ ان وسائل کی موجودگی میں دنیا کے کسی بھی ملک کیلئے امریکا کے ساتھ تصادم مول لینا آسان نہیں۔

بدلتے ہوئے حالات میں روایتی جنگوں کی صورتحال گو تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور دنیا میں طاقت کے نئے مراکز کی تشکیل کا عمل جاری ہے تاہم نئے نظام کے ابھرنے اور تبدیلیوںکو نتیجہ خیز مرحلے تک پہنچنے میں فطری اور تدریجی عرصہ درکار ہے۔ اس دوران محض دھمکیوں اور بیان بازیوں کے ذریعے امریکی طاقت کا مقابلہ خام خیالی ہی ہوسکتی ہے۔ ہر چندکہ ایران نے خود کو علاقائی سطح پر ایک بالادست ریاست کے روپ میں ڈھالنے کیلئے خاصی محنت کی ہے۔ پراکسی وار، مسلح تنظیموں کا قیام، قریبی ممالک میں شورش، میزائل ٹیکنالوجی میں پیشرفت اور روس کے ساتھ دفاعی شراکت نے ایران کو علاقائی سطح پر ایک بڑی جنگی مشین فراہم کردی لیکن وہ جوہری قوت نہ بن سکا۔ گزشتہ چار دہائیوں کی مسلسل کوششیں تاحال بارآور نہ ہوپائیں، بلکہ الٹااس کے اہم ترین سائنسدان مارے گئے۔ اس کوشش میںملک کی اعلیٰ ترین قیادت بھی کام آگئی۔ ریاست، قوم اور تہذیبی شناخت کے تحفظ کی خاطر یہ جدوجہد یقینا قابلِ قدر کہلائے جانے کی مستحق ہے تاہم یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ایران پر عرب ریاستوں کیلئے خطرے کی چھاپ کو ختم کیاجائے۔ ایران کے عوام، فوج اوراداروں نے مل جل کر ”رجیم کی تبدیلی ”کے امریکی و اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنا دیاہے۔ اتنی بڑی عسکری قوت کے مقابلے میں یہ کامیابی بھی کچھ کم نہیں بلکہ یہاں سے ایرانی نظام کو ایک نئی زندگی بھی مل سکتی ہے لیکن آئندہ کیلئے ان غلطیوں کے اعادے سے گریز کی ضرورت ہے جس نے آج ایران کو یہ دن دکھائے ہیں۔

یہاں بلا کم و کاست کہا جاسکتاہے کہ ایران پر اسرائیل اور امریکا کا حملہ دراصل مفادات کی جنگ ہی کا ایک حصہ تھا جس کا مقصد اسرائیل کو خطے میں ایسی بالادستی فراہم کرنے کی کوشش تھی کہ جس کے بعد ”گریٹر اسرائیل ”کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہتی۔ یہ منصوبہ اب تک کامیاب نہ ہوسکا جس کے اسباب و عوامل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ علاقائی ممالک نے خود کو اس جنگ سے بچائے رکھا یعنی ایران کا ساتھ دیا۔ ایسے میں ایران کی طرف سے عرب ممالک پر برسائے جانے والے میزائل دراصل عربوں سے زیادہ خود ایران کیلئے خطرناک ہیں کیوں کہ جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ایران کے پاس اپنی بقا کیلئے بہت کم گنجائش رہ جائے گی، یہ اور بات ہے کہ جنگ کی آڑ میں عرب ممالک کو تباہی کی طرف دھکیل کر وسیع تر اسرائیل کا منصوبہ کئی قدم آگے بڑھ جائے گا۔

پاکستان نے عرب ریاستوں پر حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ آخر کار عرب ریاستوں بالخصوص سعودی عرب کے تحفظ ہی کو ترجیح دے گا۔ یہاں ایرانی قیادت کے پاس موقع ہے کہ وہ علاقائی بالادستی کے خواب سے نکل کر حقائق کی دنیا میں اترے اور جنگ کی بجائے امن کو ترجیح دے کر وسیع تر اسرائیل کے سازشی منصوبے کو ناکام بنادے۔ حقائق پر مشتمل اندازِ سیاست اور حکمت پر مشتمل سفارت کاری میں تمام پہلوؤ ں کو مدنظر رکھا جاتاہے۔ اس وقت پاکستان امریکا کے ساتھ دوستی اور بہتر تعلقات کے عنوان سے انہی اصولوں کو بروئے کار لا رہاہے۔ پاکستانی قیادت بخوبی جانتی ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ، بھارت اور افغانستان نیز اسرائیل کی تکون کی مدد سے مسلط کردہ بالواسط جنگ اور عالمی حالات میں اسے امریکا کے ساتھ مخاصمت مول لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چین اور امریکا کے درمیان ایک پل جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان مصالحتی کردار کی وجہ سے پاکستان کو امریکا کے ساتھ معاملات کو جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حکمت اور تدبر کی بنیاد پر استوار کرنے کی ضرورت ہے اور یہی سبق ایرانی قیادت کو بھی سیکھنا چاہیے۔ ایک بڑے بحران سے کامیابی کے ساتھ نکل جانا ہی ایران کی جیت ہے۔ اس سے زیادہ آگے بڑھنے کی کوشش خوش فہمی پر مشتمل ہوگی جس کے نتائج اور عواقب افسوسناک بھی ہوسکتے ہیں۔