ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کوموخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ سروے میں انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28 ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
معاشی استحکام کسی بھی ملک، قوم اور اجتماعی وجود کی بنیادی ضرورت اور اس کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کوئی بھی طاقت، خواہ وہ فوجی اعتبار سے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اگر اس کی معیشت کمزور ہو جائے تو وہ زیادہ عرصے تک اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔ معاشی کمزوری رفتہ رفتہ ریاستی ڈھانچے میں زوال، ادارہ جاتی کمزوری اور سماجی انتشار کو جنم دیتی ہے، جو بالآخر کسی بھی طاقتور نظام کے انہدام پر منتج ہوتی ہے۔تاریخ ایسی متعدد مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں عظیم سلطنتیں اپنی عسکری طاقت کے باوجود معاشی ابتری کے باعث زوال پذیر ہو گئیں۔ ان میں سب سے نمایاں مثال سوویت یونین کی ہے، جو بیسویں صدی کی ایک بڑی فوجی اور سیاسی طاقت تھی۔ تاہم معاشی عدم توازن، منصوبہ بندی کی ناکامی اور داخلی اقتصادی کمزوریوں نے اسے اس نہج تک پہنچایا کہ وہ ایک عظیم وفاق سے سکڑ کر محض روسی فیڈریشن تک محدود ہو گیا۔ آج ہم بھی بحیثیت قوم اسی دوراہے پر کھڑے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں اگرچہ وسائل محدود تھے، لیکن قومی جذبہ، محنت اور نظم و ضبط نسبتاً مضبوط تھا۔ بیوروکریسی، سیاستدان اور عوام ایک مشترکہ مقصد کے تحت ملک کی تعمیر میں مصروف تھے۔ یہی وجہ تھی کہ محدود وسائل کے باوجود ریاستی ڈھانچہ مستحکم رہا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ اجتماعی جذبہ کمزور پڑتا گیا۔ ادارہ جاتی نااہلی، بدعنوانی اور حکمرانی کے کمزور نظام نے معاشی بنیادوں کو متاثر کرنا شروع کیا۔
ملک ایک طویل عرصے سے مالیاتی خسارے، قرضوں کے بوجھ اور اقتصادی غیر یقینی کا شکار ہے۔ ترقیاتی منصوبے، پیداواری عمل اور صنعتی سرگرمیاں اس دباؤ کے زیر اثر ہیں۔ سرمایہ کاری کا ماحول غیر مستحکم ہے اور کاروباری طبقہ مسلسل غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ اس تناظر میں اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے رپورٹ انتہائی مخدوش صورتحال کی عکاسی کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو یا تو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی بھی معیشت کیلئے سنجیدہ الارم کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس سروے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مجموعی کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ 9 فیصد پوائنٹس کی کمی کے بعد مثبت 13 فیصد تک آ گیا ہے، جو پہلے 22 فیصد تھا۔ اس کمی کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسیوں میں غیر یقینی اور جغرافیائی کشیدگی شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے ماحول کو تشکیل دے رہے ہیں جہاں کاروبار کرنا مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ صنعتی سطح پر دیکھا جائے تو خدمات اور مینوفیکچرنگ دونوں شعبے دباؤ کا شکار ہیں۔ خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور نیو انویسٹمنٹ انڈیکس محض مثبت 2 فیصد تک محدود رہ گیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کاروباری طبقہ مستقبل کے بارے میں شدید تحفظات رکھتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں طویل عرصے سے قرض گیری کو ہی مسائل کا حل سمجھ لیا گیا ہے۔ قرض لے کر اخراجات پورے کرنا اور پھر انہی قرضوں کی واپسی کیلئے مزید قرض لینے کے عمل نے قوم کو ایک ایسے دائرے میں بند کردیا ہے، جس سے نکلنے کے دور دور تک آثار نظر نہیں تے اور جب تک اس گھن چکر سے ملکی معیشت کو نہ نکالا جائے، معیشت میں استحکام کی امید بھی نہیں کی جاسکتی۔ریاست کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کرے۔ اس میں امن و امان، پالیسیوں کا تسلسل، توانائی کی دستیابی، ٹیکس نظام میں شفافیت اور انتظامی آسانی شامل ہیں لیکن جب یہ بنیادی عناصر کمزور ہو جائیں تو سرمایہ کار کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ کوئی بھی شخص یا ادارہ ایسے ماحول میں سرمایہ کاری نہیں کرتا جہاں مستقبل غیر یقینی ہو۔معیشت اور سیاست کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام براہ راست معاشی فیصلوں کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے حالات میں معیشت کو سہارا دینے کیلئے مضبوط داخلی حکمت عملی ناگزیر ہے۔
تاہم آگے بڑھنے سے پہلے یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ محض بیرونی امداد یا قرضوں سے کسی ملک کی معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی۔ اصل استحکام اندرونی پیداواری صلاحیت، برآمدات میں اضافہ اور صنعتی ترقی سے حاصل ہوتا ہے۔ جب تک ملک اپنی پیداوار میں اضافہ نہیں کرے گا اور درآمدات پر انحصار کم نہیں کرے گا، معاشی توازن قائم نہیں ہو سکتا۔ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ریاست ایک جامع اور طویل المدتی معاشی حکمت عملی اختیار کرے۔ سیاسی استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف پالیسی سازی اور کاروبار دوست ماحول پیدا کیے بغیر معاشی بحران سے نکلنا ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر مکالمے اور اتفاق رائے کی بھی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو سیاست سے الگ کرکے ایک مستقل سمت دی جا سکے۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ موجودہ معاشی دباؤ مزید شدت اختیار کرے گا اور اس کے اثرات نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ عام شہری کی زندگی پر بھی گہرے ہوں گے۔ تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ معاشی کمزوری کسی بھی قوم کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ معاشی استحکام کو قومی ترجیح بنایا جائے، کیونکہ اسی میں ریاستوں کی بقا اور ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔ دوسروں کے مسائل حل کرنے سے اب کچھ فرصت نکال کر داخلی مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔

