امریکا، ایران جنگ بندی میں پیش رفت اور ملکی منظرنامہ

اطلاعات کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ سے متعلق اختیارات کو محدود کرتے ہوئے ایران پر حملے کو کانگریس کی اجازت کے ساتھ مشروط کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس خبر کے ساتھ ہی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکی صدر نے اپنے مشیروں کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں ایران کے ساتھ جنگ چھیڑنے کے پہلو کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ جنگ کی بجائے اب مذاکراتی عمل کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔ جب تک امریکی افواج پر ایران کی جانب سے حملہ نہیں کیا جاتا، ایران پر حملہ نہیں ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مطلع کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ایک ہفتے میں بڑی پیش رفت کی توقع ہے جس کے نتیجے میں امریکی صدر اور ایران کے رہبرِ معظم مجتبیٰ خامنائی کے درمیان ملاقات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں پیش رفت کا ایک قرینہ اسرائیلی حملے میں دنیا سے رخصت ہو جانے والے ایرانی پیشوا، آیت اللہ خامنائی کے جنازے کی تیاریوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ جنازہ محرم کے اوائل میں ہو سکتا ہے جس میں قریباً ایک کروڑ افراد کی شرکت کے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور دنیا بھر سے وفود اس میں شریک ہوں گے۔ مذاکراتی عمل کے جاری رہنے اور جنگ بندی کے قرینِ قیاس ہونے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات پر اتفاق کر لیا گیا ہے جس کے بعد بعض مخصوص علاقوں سے حزب اللہ کے دستے انخلا کر گئے ہیں اور ان کی جگہ لبنانی فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ امریکی ترجمان کے مطابق امریکی انتظامیہ پہلی مرتبہ حزب اللہ سے براہِ راست بات چیت کر رہی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے متعلق مذکورہ پیش رفت یقینا خوش آئند ہے کیوں کہ مشرقِ وسطیٰ میں نئی جنگ کے خدشات نے پہلے ہی عالمی معیشت کا گلہ دبوچ رکھا تھا، اب جبکہ امن کی امیدیں روشن ہو رہی ہیں، یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ میں صورت حال قدرے معمول پر آ جائے گی جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی۔ امن کی توقعات کے ساتھ ساتھ ایران کی جانب سے کویت پر میزائل اور راکٹ برسانے کی خبروں نے تشویش کی لہر بھی پیدا کی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ گوکہ ایران کی جانب سے کویت پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی گئی ہے جو ایران اور عرب ممالک کے درمیان کسی تصادم کے امکانات کی گویا تردید ہے تاہم مبصرین کے خیال میں یہ حملے معمولی واقعات نہیں ہیں۔ اگر ایران یا اس کی پراکسی ان حملوں میں ملوث نہیں بلکہ یہ عراق میں موجود کچھ ٹھکانوں سے کی جانے والی کارروائی ہے تو اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ اسرائیل جنگ کی آگ کو بھڑکانے کی بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ دوسری جانب یہ امر بھی واضح ہے کہ اسرائیل کو فتنہ و فساد پھیلانے اور شر کو بھڑکانے کے لیے حسبِ منشا مواقع میسر نہیں آ رہے ورنہ وہ لبنان پر حملے نہ روکتا۔ مبصرین کے مطابق انسانیت کے سفاک مجرم نیتن یاہو کو اس وقت امریکی انتظامیہ کی جانب سے وہ پشت پناہی حاصل نہیں جوکہ غزہ کے نہتے مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے مہیا تھی۔ ان دونوں معاملات میں وجۂ فرق مفادات ہیں۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں غزہ پر امریکی سرپرستی میں برسائے جانے والے بارود، معصوم بچوں کے قتلِ عام اور فلسطینی عوام کی نسل کشی جیسے معاملات نے امریکا میں اسرائیل مخالف جذبات کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ فریڈم فوٹیلا کے اسرائیل میں گرفتار رضاکاروں اور تل ابیب، بیت المقدس اور دیگر مقبوضہ شہروں میں عیسائی راہبوں کے ساتھ صہیونیوں اور یہودیوں کے ناروا سلوک، امتیازی برتاؤ اور نفرت کے اظہار نے امریکا اور یورپ میں عوامی سطح پر اس سوچ کو جنم دیا ہے کہ ”فلسطینی” حقیقت میں مظلوم ہیں اور اسرائیل ہمارے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم کے ذریعے فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ مبصرین کی رائے کے مطابق امریکا اور یورپ میں اب کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے عوام کے طرزِ احساس میں پیدا ہونے والے اس عنصر کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت اسرائیل کی کھلی حمایت سے نہ صرف ہچکچا رہے ہیں بلکہ ذرائع کے مطابق ان کی اسرائیلی قصاب نیتن یاہو کے ساتھ سخت ترین کلمات کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے جنگ سے گریز کر رہے ہیں تو دوسری طرف انسانیت کے سفاک مجرم نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا خطے میں جنگ، تباہی، ہلاکت اور شر و فساد میں محفوظ خیال کرتا ہے، چنانچہ مفادات کا یہ ٹکراؤ کسی بھی وقت سنگین ہو سکتا ہے جس کا فائدہ مشرقِ وسطیٰ میں حالات کی تبدیلی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالات و واقعات اس امر کی توثیق کرتے ہیں کہ ایران پر حملے سمیت مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ کشیدگی، تناؤ اور جنگ کے خطرات کے پسِ منظر میں اسرائیل کی کاوشیں موجود ہیں۔ ان سب کے باوجود اگر امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے عمل کو مشکل بنا دیا ہے تو اسے زمینی حقائق کی روشنی میں اسرائیل کی ناکامی ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے نتائج متوقع طورپر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور جوں جوں امن کی جانب پیش رفت ہوگی، عالمی سطح پر گرانی میں بھی کمی واقع ہوگی۔

اس وقت دنیا کے کئی ممالک توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے شدید مہنگائی کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں جن میں وطنِ عزیز پاکستان بھی شامل ہے۔ بلاشبہ پاکستان کی کوششوں کی بدولت ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور تناؤ جنگ کی بجائے مذاکرات کے عمل میں تبدیل ہوا ہے جو کہ پاکستان کی عالمی سفارتی کامیابی ہے تاہم اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کو کسی بھی صورت آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکالنے کی سعی کی جائے۔ نئے بجٹ میں عوام کا خون چوسنے کی بجائے انھیں سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہو جاتی ہے تو اس کا فوری تقاضا تیل اور گیس کی قیمتوں میں واضح کمی کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ اسی طرح حکومت کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے سامنے جھکنے کی بجائے عوام کو متبادل ذرائع کی بسہولت فراہمی ہی کو ترجیح دینا چاہیے تا کہ عوام جنگی حالات سے باہر نکل کر اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔ پاکستان نے جس طرح ایک عالمی بحران کو حل کرنے میں غیر معمولی کدو کاوش سے کام لیا، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اور خاص طورپر کم آمدن رکھنے والے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے اور انھیں غربت کی لکیر سے باہر نکالنے کے لیے بھی اسی سنجیدگی، احساسِ ذمہ داری اور فرض شناسی سے کام لیا جائے۔