پاکستان کی تمام تر ثالثی کوششوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان ”نہ صلح نہ جنگ”کی کیفیت برقرار ہے اوراگرچہ فریقین کے درمیان رابطہ کاری بدستور جاری ہے تاہم تادم تحریر کسی بڑی پیش رفت کی کوئی اطلاع نہیں ہے، اس غیر یقینی صورت حال نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلاکر رکھ دیا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی فی بیرل قیمت 111ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے جس کے نتیجے میں دنیا کی آٹھ ارب آبادی کا تقریباً ہر فرد متاثر ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف خطوں کے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کرنے والے دیگر مسائل بھی پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
ان میں سب سے اہم اور سلگتا ہوا مسئلہ فلسطین کی سرزمین پر مسلط صہیونی دہشت گردی کا ہے جو بد قسمتی سے دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قابض و ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل نے غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں نسل کشی کی وارداتیں تیز کردی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیل نے حالیہ دنوں میں اپنے حملوں میں نمایاں شدت پیدا کر دی ہے جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے باوجود شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں نہ صرف زمینی کنٹرول بڑھانے بلکہ غزہ میں کسی بھی نئی انتظامی ساخت کو مؤثر ہونے سے روکنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ غزہ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق کم از کم 25 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ حالیہ 24 گھنٹوں میں8افراد شہید ہوئے۔ جنگ بندی کے بعد اب تک مجموعی شہادتیں 817 ہو چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینی پولیس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بھی بڑھا دی ہیں اور 6 اہلکاروں کوشہید کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد غزہ میں استحکام کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔ زمینی صورتحال میں اسرائیلی پیش قدمی بھی جاری ہے اور وہ غزہ کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے جس سے شہریوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے۔ وہاں بہانے بہانے سے بمباری جاری ہے۔ جنگ بندی معاہدے کے باوجود نیتن یاہو کی حکومت نے فوجی انخلا نہیں کیا جبکہ امریکی حمایت یافتہ انتظامی کمیٹی بھی مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اس طرح صہیونی دہشت گرد فوج کو فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں عالمی امدادی سامان کی رسائی بھی نہایت محدود کر دی ہے جس کی وجہ سے غزہ کے لاکھوں بے گھر باشندے بھوک اور پیاس کی آزمائش سے دوچار ہیں۔
صہیونی دہشت گردی کا دائرہ صرف غزہ تک محدود نہیں ہے بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں بھی فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور انہیں اپنی زمینوں اور مکانات سے بے دخل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق قابض اسرائیلی آباد کاروں نے پیر کے روز بیت لحم کے مشرق میں واقع شہر بیت ساحور میں متعدد فلسطینی شہریوں پر حملہ کیا جو علاقے میں فلسطینی وجود کو نشانہ بنانے والی مسلسل خلاف ورزیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ آبادکاروں کے ایک گروہ نے بیت ساحور کے مشرق میں واقع جبل ہراسہ کے علاقے پر دھاوا بولا اور اپنی زرعی زمینوں میں موجود شہریوں پر براہ راست گولیوں کی بوچھاڑ کر دی ، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کسانوں کو اسلحے کے زور پر اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کر دیاگیاجبکہ قابض اسرائیلی افواج نے گزشتہ رات کے آخری پہر سے پیر کی صبح تک مقبوضہ مغربی کنارے کی مختلف بستیوں میں بڑے پیمانے پر فوجی مہم چلائی جس میں پورے پورے دیہات اور پناہ گزین کیمپوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا۔ قابض دشمن کی ان کارروائیوں کے نتیجے میں درجنوں شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا جن میں نو عمر لڑکے، سابق اسیران اور ان کے اہل خانہ بھی شامل ہیں۔ یہ مہم ایک منظم اور طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کے گرد گھیرا تنگ کر کے ان کے وجود کو مٹانا اور نسل کشی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ اور کفر عقب کا قصبہ ان کارروائیوں کا مرکز رہے۔ یہاں قابض اسرائیلی فوج نے اجتماعی تشدد کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے تقریباً 30 شہریوں کو حراست میں لیا اور انہیں فیلڈ انٹرویو کے نام پر سخت اذیت کا نشانہ بنایا۔ یہ وارداتیں اب معمول بن چکی ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں بتایا کہ 7 اکتوبر 2023ء سے شروع ہونے والی اس نسل کشی اور جارحیت کے آغاز سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد بڑھ کر 72,593 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 172,399 تک جا پہنچی ہے۔ صہیونی عقوبت خانوں میں فلسطینی قیدیوں پر مظالم اس پر مستزاد ہیں۔ اسرائیل نے گزشتہ دو سالوں کے دوران غزہ سے حراست میں لیے گئے ہزاروں فلسطینیوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے اور انسانی حقوق کے گروپوں اور دستاویزی شہادتوں سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں حراست میں لیے گئے افراد کو غیر انسانی سلوک، تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دو روز قبل15 زیر حراست فلسطینیوں کو کریم شلوم کراسنگ کے ذریعے منتقل کیا گیا ۔ وہاں عینی شاہدین نے بتایا کہ رہائی پانے والے قیدی شدید کمزور اور تھکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے جن پر تشدد کے نشانات ظاہر تھے۔
اس پورے تناظر میں یہ امر بالکل واضح ہے کہ مشکوک ذہنی کیفیت کے حامل صہیونیت نواز بڑبولے ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے دنیا کو امریکا ایران کشمکش کے تماشے میں مشغول کرکے اسرائیل پوری ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ فلسطینیوں کی نسل کشی، ان کی باقی ماندہ اراضی پر قبضہ کرنے اور ان کو ان کی مقاومت کی سزا دینے میں مصروف ہے اور بد قسمتی سے دنیا میں اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف اور فلسطینی مظلوموں کے حق میں اٹھنے والی آوازیں بھی دب سی گئی ہیں۔ ایسے میں انسانی حقوق کی چند عالمی تنظیموں کے باضمیر کارکنوں نے ایک بار پھر سمندری راستے سے فلسطینیوں کے لیے امداد پہنچانے کے لیے فریڈم فوٹیلا مہم شروع کر رکھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انسانیت پر یقین رکھنے والے دنیا کے تمام لوگوں پر اس مہم کی حمایت لازم ہے۔ کرہ ارض کو ظلم اور دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے دنیا کے باشعور انسانوں کا میدان عمل میں آنا وقت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے۔

