ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق خطے پر جنگ کے بادل گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ ایک طرف امریکا اور اسرائیل مشترکہ صف بندی کرکے ایران پر مختصر دورانیے میں نہایت شدید حملوں کے لیے پر تول رہے ہیں تو دوسری جانب ایران نے جواب میں عرب ریاستوں اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں۔
قبل ازیں ایران پر مسلط کردہ جنگ پاکستان اور دیگر ممالک کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے تھم گئی تھی اور امریکااو رایران کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے امن کی کوششیں کی گئی تھیں لیکن افسوس کہ یہ کاوشیں بارآور ثابت نہ ہوئیں جس کی ایک وجہ امریکی صدر کا رویہ تھا تو دوسری وجہ ایرانی قیادت کے مابین پائے جانے والے اختلافات تھے ۔پاکستان نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے اس حد تک کوشش کی کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر انتہائی خطرات کے باوجود خود ایران پہنچے اور وہاں کے اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام سے گفت و شنید کی لیکن ایرانی قیادت نے امریکی مطالبات کو جواز بنا کر مذاکرات میں زیادہ دل چسپی نہ لی جس کے بعد امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت ایران میں معاشی و اقتصادی بحران شدید ہوتا جارہاہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی انتظامیہ پر اعتماد ہے کہ اقتصادی ناکہ بندی کی وجہ سے ایرانی قیادت بہت جلد غلطی کر نے پر مجبور ہوجائے گی اور اس طرح ایران کو جھکانے یا کم از کم پاسداران انقلاب کے خاتمے کی کوششیں ضرور کامیاب ہوجائیں گی۔
ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کے اتحاد میں یو اے ای کی شمولیت کی خبریں بھی گرم ہیں۔ بتایا جارہاہے کہ عرب امارات کے شہروں کی حفاظت کے لیے اسرائیل ماہرین جدید آلات سمیت وہاںموجودہیں۔ یوں ایران کے لیے خطرات میں اضافہ ہوچکاہے لیکن اس کا دوسر ااور سنگین پہلو یہ بھی ہے کہ اسرائیلی فوجی ماہرین بھارت اور افغانستان کی حدود کے ساتھ ساتھ عرب امارات کے ذریعے بھی پاکستانی سرحدوں کے قریب ٹھکانے حاصل کرچکے ہیں۔خطے میں جہاں امریکا اور اسرائیل کا اتحاد ایران کی کمر توڑنے پر تیار دکھائی دیتاہے وہاں بھارتی لاو لشکر بھی پاکستانی سرحدوں کے قریب منڈلا رہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی افواج جنگی مشقوں کی آڑ میں بھاری اسلحے کو منتقل کررہی ہے اور میزائل لانچر نصب کیے جارہے ہیں۔ بھارتی افواج کی نقل و حرکت اور سازو سامان سے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت پاکستان پر اپنی تیاریوں کو پوشیدہ رکھتے ہوئے کم وقت میں تیز ترین حملوں اور فوری طور پر فتح کا اعلان کرکے جنگ سے واپسی کے مشن پر کام کررہا ہے جس کے لیے اسے افغانستان کی مدد حاصل ہوسکتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر جدید میزائل برساسکتاہے کیوں کہ اس وقت افغان رجیم ،فتنہ خوارج ، القاعدہ اور فتنہ¿ ہندوستان سب ہی بھارتی پراکسی کے طورپر کام کررہے ہیں اور اس سلسلے میں انھیں ایک عرب ملک کا بھرپور تعاون ملنے کی اطلاعات بھی گردش میں ہیں۔
اس صورت حال کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایران اور پاکستان دونوں ہی ملکوں پر ایک ہی نوعیت کی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کا ماسٹر مائنڈ ایک ہی قوت ہے ۔ ظاہرہے کہ اس صورت حال میں پاکستان بھی اپنے دفاع سے غافل نہیں ہے ۔ پاکستان نے فوری طورپر اپنی سمندری دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر کام کیا ہے۔ پاکستان نے چین سے جدید ترین آبدوزیں حاصل کرلی ہیں جبکہ سمندری جنگ میں ایک کارآمد ہتھیار ”تیمور میزائل “کا بھی کامیاب تجربہ کیا جاچکا ہے ۔ بری افواج نے بھی الفتح دوم میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ یہ پاکستانی ساختہ میزائل دشمن کے علاقے میں تباہی مچانے کی بھرپور صلاحیت رکھتاہے ۔ فضائی جنگ کے شاہین یعنی پاک فضائیہ بھی پوری طرح چوکس ہے اور جنگ ہوئی تو دشمن کو فضائی جنگ میں ایک مرتبہ پھر عبرت ناک شکست اٹھانا پڑے گی۔ پاکستان دوست ممالک سے بھی رابطے میں ہے ۔ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، چین اور مصر جیسے ممالک ایک ہی صف میں دکھائی دے رہے ہیں جبکہ بھارت، اسرائیل، افغانستان اور یو اے ای بالمقابل صف میں کھڑے ہیں۔ اس صف بندی کے بعد اب بھارتی قیادت علاقائی برتری کے دعوے کو ثابت کرنا چاہتی ہے تاکہ اتحادی میں اس کی اہمیت تسلیم کی جاسکے ۔ اس حوالے سے بعض بھارتی دفاعی ماہرین پاکستان کی بندرگاہوں کی اسی طرح ناکہ بندی کرنے کی تجاویز پیش کررہے ہیںجیسا کہ امریکا نے ایرانی جہازوں کی کررکھی ہے۔ منطقی طورپر بھارت یہ نہیں چاہتا کہ پاکستان گوادر پورٹ یا اقتصادی ترقی کے لیے کارآمد دیگر وسائل اور ذرائع کو کام میں لاسکے کیوں کہ ایک مضبوط اور طاقت ور پاکستان دراصل بھارتی انتہاپسندوں کی سیاسی موت ثابت ہوسکتاہے ۔ مودی سرکار نے گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں جس طرح ”مندر“اور ”دھرم “کے نام پر اپنے عوام میں انتہا پسندی اور تعصب کو پروان چڑھایا ہے ،اس کے بعد خود اس کی سیاسی بقا کا سوال بھی یہی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کیا کردار ادا کرسکی ؟
یہ صورت حال جنگ کی علامات ہیں۔ایران پر حملہ،بھارتی فوج کی غیر معمولی نقل و حرکت اور افغانستان سے دراندازی ،گویا پاکستان کو گھیرنے کی تیاریاں جاری ہیں مقام شکر ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی کے دفاع سے غافل نہیں ہے اورامید واثق ہے کہ کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں افواجِ پاکستان کی طرف سے دشمن کو بہت جلد دندان شکن جواب دیا جائے گا۔ ان حالات میں پاکستان کی حفاظت کے لیے پوری قوم کو سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہوجانا چاہیے ۔ افواج پاکستان نے اپنا کردار نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کیا ہے ۔ اس وقت بھی پاک نیوی سمندروں میں مستعد ہے اور تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حفاظت ذمہ داری نبھا رہی ہے۔دشمن کے کارندے افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہیں جبکہ کچھ سادہ لوح افراددشمن کے ترجمان کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بحرانی حالات میں ایک دوسرے کا دست و بازو بنا جائے اور اختلافات کی بجائے مشترکہ مقاصد کی جانب توجہ مرکوز کی جائے۔ پاکستان کا وجود محض اہلِ وطن ہی کے لیے نہیں بلکہ جملہ عالم ِ اسلام کے لیے ایک مضبوط قلعے کی مانند ہے اور افواج پاکستان اس کردار کو پوری طرح نبھانے کے لیے کوشاں ہیں ۔ قوم کے ہر فرد کو اپنا کردار درست طورپر ادا کرنے کی فکر کرنی چاہیے ۔

