امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کیلئے اپنے وفد کو عین وقت پر پاکستان جانے سے روک دیا۔ ٹروتھ سوشل پر بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ پاکستان منسوخ کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب ایسا نہیں ہو گا کہ صرف زبانی جمع خرچ کیلئے امریکی وفد 18 گھنٹے کی پرواز کرے۔ سفر میں بہت وقت ضائع ہو رہا تھا اور کام بہت ہیں۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے رویے نے مجھے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے دورہ پاکستان کو منسوخ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی وفد کو مذاکرات کیلئے نہ بھیجنے کا مطلب ایران جنگ دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ نہیں۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعرات کی رات اسلام آباد پہنچے، جہاں انہوں نے پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، بعد ازاں وہ اپنے اتحادیوں سے مشاورت کیلئے عمان کے دارالحکومت مسقط روانہ ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق مسقط کے بعد وہ ماسکو جائیں گے اور وہاں سے ایک بار پھر پاکستان آئیں گے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب صرف ایک روایتی جنگ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسی ہمہ جہت کشمکش میں تبدیل ہو چکی ہے جس میں میدانِ جنگ کی طرح اب مذاکرات کی میز بھی رزگاہ میں تبدیل ہوگئی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے اپنے وفد کا دورہ پاکستان منسوخ کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ مذاکرات کی میز پر جاری جنگ میں میدان کارزار کی طرح ہی چال چلی جا رہی ہے اور فریقین ایک دوسرے کے اعصاب کا امتحان لینے میں مصروف ہیں۔ تاہم میدان معرکہ ہو یا رزگام مذاکرات، یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ دونوں میں امریکیوں کو شدید غلط فہمیاں رہی ہیں۔ ٹرمپ نے ”میک امریکا گریٹ اگین” کے اپنے انتخابی نعرے کے تحت یہ سمجھ لیا تھا کہ عالمی نظام کو دباؤ، دھونس اور طاقت کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال کر وہ امریکا کو عظیم بنا سکتے ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت کہیں تجارتی پابندیوں اور ٹیرف کو ہتھیار بنایا گیا، تو کہیں براہِ راست فوجی مداخلت کو ذریعہ سمجھا گیا۔ کئی ممالک کو اس پالیسی کے ذریعے زیر بھی کیا گیا، جس کی ایک بڑی مثال وینزویلا میں بدترین فوجی مداخلت اور جارحیت ہے۔ جس نے ٹرمپ کے خبط میں اضافہ کیا، چنانچہ اسی خود اعتمادی، بلکہ حد سے بڑھی ہوئی خود فریبی کے زیر اثر ایران کو بھی ایک نسبتاً آسان ہدف تصور کیا گیا۔
یہ خیال کیا گیا کہ ایران بھی شدید دباؤ اور اچانک حملوں کی تاب نہیں لا سکے گا، چنانچہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت ایران کو بظاہر مذاکرات میں مصروف رکھا گیا اور پھر اچانک اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکا نے ایران پر تباہ کن شبخون مارا اور آن کی آن میں صف اول کی ایرانی سیاسی، مذہبی اور فوجی قیادت کا خاتمہ کردیا۔ امریکا اور اسرائیل کا خیال تھا کہ اس کے نتیجے میں ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا جائے گا، مگر یہ اندازہ جلد ہی غلط ثابت ہوا۔ ایران نے زبردست دفاع اور بھرپور جوابی کارروائی کا آغاز کیا تو امریکیوں کو احساس ہوگیا کہ ایران ایران ہے، وینزویلا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ماہ تک جاری رہنے والی شدید جنگ کے بعد صورتحال یہ تھی کہ امریکا اپنی تمام تر عسکری برتری کے باوجود تھکاوٹ کا شکار دکھائی دے رہا تھا، جبکہ ایران زخموں سے چور چور وجود کے ساتھ ڈٹا ہوا تھا۔اس دوران پاکستان کی بھرپور کوششوں سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کردیا گیا، پاکستان کی انتھک محنت سے ایران مذاکرات کی طرف آنے پر آمادہ ہوا۔ تاہم جس طرح جنگ کے بارے میں امریکی اندازے غلط ثابت ہوئے، اسی طرح مذاکرات کے حوالے سے بھی ان کی توقعات حقیقت سے ہم آہنگ نہ رہیں۔ امریکی حکام کا یہ خیال تھا کہ جو مقاصد وہ میدانِ جنگ میں حاصل نہیں کر سکے، انہیں سفارتی دباؤ کے ذریعے مذاکرات کی میز پر حاصل کر لیا جائے گا لیکن ایران نے یہاں بھی غیر معمولی استقامت کے ذریعے امریکیوں کے دانت کھٹے کردیے اور امریکا کے تمام تر دھونس اور دباؤ کو یکسر مسترد کرکے واضح کردیا کہ وہ حد سے زیادہ امریکی مطالبات تسلیم نہیں کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی شرائط کو ایران نے غیر حقیقی قرار دے کر مسترد کردیا۔ حالیہ ڈیڈلاک اسی کشمکش کا مظہر ہے۔
امریکی جب تک جنگ کے بعد مذاکرات کی میز پر بھی حقیقت پسندی کی طرف نہیں آئیں گے اور اپنی برتری کے احساس کے ساتھ ایران کو ہی جھکانے کی نیت سے بیٹھیں گے تو یہ امر واضح ہوچکا ہے کہ ایرانی کسی صورت ماننے والے نہیں، چنانچہ عالمی امن و استحکام کا تقاضا یہی ہے کہ امریکی اپنے زعم بالاتری سے نکلیں اور اتنے ہی مطالبات رکھیں، جن کا بار اٹھایا جاسکے۔ اگر امریکا کا یہ خیال ہے کہ مذاکرات کی میز سے وہ سب لے جائے، جو وہ ایک ماہ کی تباہ کن بمباری کے باوجود حاصل نہیں کرپایا، تو یہ ناممکن ہے اور اس کا نتیجہ دنیا کی آزمائش میں اضافے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار البتہ قابلِ توجہ ہے۔ ایک جانب وہ خطے میں امن و استحکام کیلئے سرگرم ہے، تو دوسری جانب عالمی طاقتوں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر اپنی حیثیت منوا رہا ہے۔ یہ ایک نازک ذمہ داری ہے جس میں معمولی سی لغزش بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، تاہم اب تک پاکستان نے بڑی حد تک توازن اور تدبر کا مظاہرہ کیا ہے۔
یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کیلئے وفد نہ بھیجنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دوبارہ جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ ایک مثبت اشارہ ہے اور اس بات کی دلیل بھی کہ امریکا اب جنگ کے نتائج سے آگاہ ہو چکا ہے، تاہم یہ بھی واضح ہے کہ محض جنگ نہ کرنے کا اعلان کافی نہیں، بلکہ پائیدار امن کیلئے دونوں فریقین کو اپنی اپنی پوزیشن میں لچک پیدا کرنا ہوگی۔ مذاکرات کو ہولڈ کرکے ناکا بندی جاری رکھ کر جنگ بندی کی بات کرنا ایک دھوکا ہے، کیونکہ ایران ناکا بندی کو اقدام جنگ تصور کرتا ہے، جس کا مطلب یہی ہے کہ ناکابندی جاری رہی تو معاملات خراب ہوکر بند گلی تک جا سکتے ہیں جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ امریکا اپنی دباؤ کی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور ایران بھی سفارتی مواقع کو ضائع نہ کرے۔ ضد، ہٹ دھرمی اور یکطرفہ مطالبات نہ تو جنگ میں کامیابی دلا سکتے ہیں اور نہ ہی مذاکرات میں۔ دونوں فریقین کو اپنی انا کی کلغی سلامی کی پوزیشن پر لاکر ایک دوسرے کے جائز تحفظات کو تسلیم کرنا ہوگا، یہ ممکن نہیں کہ جنگ کے اہداف کو جوں کے توں مذاکرات کی میز پر حاصل کرنے کی امید رکھی جائے۔

