پاکستان کا سفارتی کردار اور داخلی اصلاح کی ضرورت

ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کی قیادت امریکا اور ایران کے درمیان مصالحت کے لیے مسلسل کوشاں ہے جس کے مثبت نتائج فریقین کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کی صورت میں دکھائی دیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکا اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہے کہ ایران آنے والے عرصے میں علاقائی امن کے لیے بڑا خطرہ نہ رہے لہٰذا جنگ بندی کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز کا گھیراو معطل نہیںکرے گا اور جب تک ایران مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ جاتا، ایرانی بحری جہازوں کے لیے سمندری راستوں کی بندش جاری رہے گی۔ دوسری طرف ایرانی ترجمان کے مطابق وقار اور دانش مندی کے اصولوں پر امریکا کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھلا ہے تاہم ایران طاقت کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ امریکی صدر ایران کو طاقت کے بل پر جھکانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انھیں کامیابی نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:خطے کی بدلتی صورتحال، عباس عراقچی کا پاکستانی قیادت سے رابطہ
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائدکرنے کے باوجود ایران کی جانب سے امریکی بحریہ کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جا رہا ہے البتہ بھارتی اور اسرائیلی بحری جہازوں پر ایرانی پاسداران انقلاب نے ہلہ ضرور بولا ہے، اسی طرح امریکا کی جانب سے بھی اس وقت ایران پر براہِ راست حملوں سے پہلوتہی کی جا رہی ہے اور دونوں ملکوںکے ترجمان میڈیا کے سامنے اپنی اپنی طاقت اور قوت کے اظہار اور دھمکیوں پر ہی اکتفا کیے ہوئے ہیں۔ ان کشیدہ حالات میں سفارت کاری حقیقی معنوں میں نہایت دشوار اور سفارتی زبان کے مطابق اعصاب شکن مرحلہ ہے تاہم ملکی اور عالمی ذرائع ابلاغ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ پاکستانی قیادت نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور وہ خطے کو جنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل تگ و دو میں مصروف ہے۔
پاکستانی کوششوں کی تعریف خود امریکا اور ایران کی جانب سے بھی کی جا رہی ہے۔ یہ اس امر کی توثیق ہے کہ دونو ں ملک جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور معاملات کا یہ پہلو پاکستان کے نقطہ نظر سے چند متفقہ نکات تک پہنچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ فی الواقع صلح کے معاہدے اور اس کے فریم ورک پر ہی تنازع ہے۔ اگر اسرائیل اس جنگ کو بھڑکانے اور پھیلانے کے لیے ایرانی قیادت کو جنگ کے آغاز ہی میں جبکہ افہام وتفہیم کے لیے مذاکرات جاری تھے، نشانہ بنانے کی شرارت نہ کرتا تو عین ممکن تھا کہ آبنائے ہرمز پر لڑے جانے والی جنگ نہ چھڑتی۔ اس وقت بھی جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہو چکی ہے، اسرائیل خطے کے حالات کو قصداً بگاڑنے کی فکر میں ہے۔ لبنان پر حملے، فلسطینی قیدیوں کی بے حرمتی، پھانسیوں کے سلسلے کا آغاز، بچوں کا مسلسل قتل اور اس کے ساتھ ہی ایران کے خلاف نئی جارحیت کی تیاری کا عندیہ دراصل جان بوجھ کر اشتعال بھڑکانے اور فساد کو پھیلانے کے حربے ہیں۔ اسرائیل کے شر و فساد کا یہ عالم ہے کہ اب وہ ترکیہ کو خطے کا دوسرا ایران باور کروانے کی جستجو میں ہے۔
مزید پڑھیںغیر یقینی صورت حال کی طوالت دنیا کے لیے آزمائش
اسرائیل کی شرانگیزی بے وجہ نہیں ہے۔ انسانیت کا عالمی مجرم نیتن یاہو اپنے دورِ اقتدار کو دوام دینے کے لیے گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر تیزی سے عمل پیرا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ پورا خطہ شدید عدمِ استحکام سے دوچار ہو جائے تاکہ اسرائیل کو اپنے سرپرست ممالک کی مدد سے توسیع پسندانہ عزائم پر عمل کا موقع ہاتھ آ سکے۔ اسرائیل کی شرانگیزی اور فساد بھڑکانے کی کوششوں کے جواب میں پاکستان کا سفارتی کردار ایک بڑی رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے کیوں کہ پاکستان ایک طرف عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب، قطر اور مصر کے ساتھ قائم روابط کو امن اور سلامتی کے لیے استعمال کر رہا ہے تو دوسری جانب اس کی کوشش ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب کو سیاسی حکومت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے تاکہ امریکی حملے کا خطرہ طویل مدت کے لیے ٹل جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق گوکہ ایرانی دفاعی قوت امریکی اندازوں سے بڑھ کر ہی ثابت ہوئی ہے تاہم جنگ دوبارہ بھڑکنے کی صورت میں ایران کو امریکا کے مقابلے میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ نقصان اٹھانے کے باوجود ایران اپنے قدموں پر کھڑا رہ سکے گا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے گھیراو اور ایرانی تیل بردار جہازوں کی بندش کی وجہ سے ایران کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ بمباری کی صورت میں انفرا اسٹرکچر کی تباہی کے بعد اس کی معاشی کمر بھی ٹوٹ جائے گی جس کے بعد ایرانی عوام تنگ آکر پاسدارانِ انقلاب کی کھلی مخالفت اختیار کر لیں گے۔ اس انتشار، تصادم، انارکی اور فساد سے سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل ہی اٹھائے گا جس کے لیے ایرانی معیشت کی بنیاد یعنی تیل کے کنوو¿ں پر امریکی قبضے کی آڑ میں تسلط حاصل کرلینا کچھ بھی مشکل نہیں ہوگا۔ ایرانی تیل کے ذخائر پر مکمل ڈھٹائی اور غنڈہ گردی سے تسلط حاصل کر کے اسرائیل اپنے تئیں ان تمام نقصانات کا ازالہ کرلے گا جوکہ گزشتہ دو برس سے زائد مدت پر مشتمل جنگ کی وجہ سے اسے لاحق ہوئے ہیں۔اس وقت جنگ بندی کا برقرار رہنا اور امریکا اور ایران کے درمیان کوئی سمجھوتا طے پاجانا نہ صرف پورے خطے بلکہ خود ایران کے بھی بہتر مفاد میں ہے۔
امن کے لیے نہایت ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی وجہ سے پاکستان کو چند ممالک کے سوا تمام دنیا کی طرف سے سراہا جا رہا ہے لیکن اس کے خلاف سازشیں بھی عروج پر ہیں۔ اسرائیل اور بھارت کے اشاروں پر فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان پھر سے اپنے پر پھیلانے کی کوشش میں ہے۔ ایسے میں ایران میں اقتدار تبدیل ہوا تو پاکستان تین اطراف سے مکمل گھیرے میں آ جائے گا لہٰذا پاکستان کا دفاعی مفاد بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ ایران کا موجودہ سیاسی نظام بحال رہے نیز تیل اور گیس کی سپلائی کے راستے بھی منقطع نہ ہوں۔ علاوہ ازیں یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اپنے دفاعی، معاشی اور اقتصادی مفادات کو خودانحصاری اور متنوع حوالوں سے محفوظ رکھنے پر توجہ دے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نظام عدل کے قیام کے ذریعے عوام کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ عوام ہر لحاظ سے اپنی ریاست اور قیادت کا ساتھ دے سکیں۔ اس وقت پاکستان کے نوجوانوں کا اعتماد بحال کرنے، ان کی درست خطوط پر تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنے اور معاشرے میں پھیلے ہوئے انتشار، بے مقصدیت اور مایوسی کو ختم کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ سفارتی اور دفاعی محاذ پر کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی اصلاح کے ذریعے ملک کو مضبوط و مستحکم کیا جائے اور دنیا میں شر و فساد پھیلانے والوں کے مقابلے میں ہم ایک سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو سکیں۔