امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی کے غیر علانیہ اتفاق کے باوجود آبنائے ہرمز میں کشیدہ صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں پھر سے اضافے کا رجحان دیکھا جارہاہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر کے غیر محتاط بیانات کے جواب میں ایرانی قیادت کی طرف سے جارحانہ ردعمل کے اظہار اور پاسداران انقلاب کی طرف سے مختلف ممالک کے بحری جہازوں پر چھاپوں اور انھیں قبضے میں لیے جانے کے بعد امریکی بحری افواج نے نئی صف بندی کا آغاز کردیا ہے جو حملے کی تیاریوں کی علامت ہے۔ اس دوران پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ دونوں متحارب فریق مذاکرات کے سلسلے کو نئے سرے سے بحال کریں تا کہ دنیا کی اس اہم تجارتی شاہراہ پر پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال میں کمی واقع ہو اور تیل کی قیمتیں معمول پر آنے کے ساتھ ہی عالمی معیشت میں گرانی اور مہنگائی کا رجحان بھی تبدیل ہوسکے۔
امن کیلئے پاکستانی کوششیں جہاں عالمی تجارت کی بحالی اور مہنگائی میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں وہاں اس سے بڑھ کر یہ جدوجہد پاکستان کے دوست ممالک بالخصوص عرب ریاستوں کیلئے بھی قابلِ قدر حیثیت رکھتی ہیں کیوں کہ آبنائے ہرمز میں جنگ چھڑنے کا مطلب عرب ریاستوں کی معاشی تباہی بھی ہوسکتا ہے۔ ایران امریکا تنازع ایک ایسے وقت میں اچانک ہی عروج پر جا پہنچا ہے جبکہ عرب ریاستوں کے پاس آبنائے ہرمز کا متبادل کوئی اور راستہ فعال نہیں جبکہ دوسری جانب اسرائیل توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل میں تیزی سے مصروفہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران امریکا تنازع میں اگر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی مؤثر ناکہ بندی میں ناکام رہی تو ایران معاشی طورپر زیادہ دباؤ کا شکار نہیں ہوگا جبکہ اس کی دفاعی قوت، میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرون حملوں کی صلاحیت عرب ریاستوں کیلئے وبالِ جان بن جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت عرب ریاستیں آبنائے ہرمز کے متبادل تجارتی راستوں پر کام کررہی ہیں اور انھیں راستوں کی فعالیت تک خود کو جنگ سے محفوظ رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
آبنائے ہرمز کی قدرتی بحری گزرگاہ سے ہٹ کر نئے تجارتی وسائل کی تیاری بنیادی طورپر تیل کی عالمی منڈی پر اثر و رسوخ رکھنے والے عوامل واسباب کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ تیل پیدا کرنے والے ملک، تیل فروخت کرنے والی عالمی کمپنیاں اور خریدار ممالک مثلا ً چین، بھارت، پاکستان و غیرہ یہ سب ہی تیل کی تجارتی راہ داری کی بندش کو قبول نہیں کرسکتے۔ دنیا کا بیس سے تیس فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گزرتاہے لہٰذا منطقی طورپر یہ تمام عناصر ایک ایسے راستے کی ضرورت کا ادراک کرسکتے ہیں جو بندش کے خطرات سے محفوظ ہو کیونکہ غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کاری اور تجارت محال ہے۔ برادر اسلامی ملک سعودی عرب اس حوالے سے کافی پیشرفت کرچکا ہے اور ماہرین کے خیال میں کچھ ہی عرصے میں سعودی عرب اپنے تیل کی ترسیل کیلئے آبنائے ہرمز کا محتاج نہیں رہے گاتاہم متبادل ذرائع اور راستوں کی فعالیت کیلئے ضروری ہوگا کہ تیل کی پائپ لائنوں اور تجارتی راستے کو مسلح جتھوں سے خطرہ درپیش نہ ہو۔ اگر یمنی حوثیوں نے ایرانی شہ پر تیل کے متبادل تجارتی ذرائع کو نشانہ بنایا تو سعودی عرب کا یہ منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے لہٰذا یہ امر یقینی ہے کہ سعودی قیادت اس تمام تر صورتحال کے تدارک کی کوششیں ضرور کرے گی۔ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران امریکا کی طرف سے عرب ریاستوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کے بعد اب سعودی عرب سمیت تمام عرب ریاستوں کو اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کیلئے مضبوط دفاعی صف بندی کی ضرورت کا اچھی طرح احساس ہوچکا ہے۔ عرب ریاستوں بالخصوص سعودی عرب میں پاکستان کے حوالے سے پائی جانے والی گرم جوشی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس موقع پر پاکستان ہی وہ واحد مسلم ملک ہے جو خطہ عرب کیلئے محافظ کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتاہے، چنانچہ جہاں سعودی عرب کی یہ خواہش ہوگی کہ آبنائے ہرمز میں جنگ کے خطرات ٹل جائیں اور ایرا ن اور امریکا کے درمیان پائے دار امن کیلئے بات چیت کامیاب ہوجائے وہاں سعودی قیادت ایرانی پراکسی وار کے خطرات سے بھی لاتعلق نہیں رہ سکتی۔
اسی پس منظر میں سعودی عرب کے حامی قبائل نے یمن میں حوثی قبائل کیخلاف ایک نیا اتحاد قائم کرلیا ہے جس کا بنیادی مقصد حوثیوں کے خطرے کو ختم کرنا ہے لیکن اس کا لازمی فائدہ سعودی عرب کے داخلی استحکام کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ جس طرح سعودی عرب کو ایرانی پراکسی سے اقتصادی نوعیت کے خطرات لاحق ہیں، اسی طرح پاکستان کو بھی فتنہ ہندوستان اور فتنہ خوارج سے امن و سلامتی کے درپیش تحفظات کا سامنا ہے۔ یہ امر مشاہدے میں ہے کہ ایک طرف پاکستان دنیا کے امن کیلئے مسلسل کوشاں ہے تو دوسری طرف فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان نے ملکی املاک، اقتصادی اثاثوں اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں جبکہ انھیں ہر محاذ اور ہر موقع پر دندان شکن جواب میں دیا جا رہا ہے۔ سرحدوں اور بالخصوص بلوچستان میں ہونے والے حملوں میںملوث عناصر کی پشت پر بھارت اور اسرائیل کی موجودی اب کوئی راز نہیں۔ ان حملوں کی منطقی وجہ دراصل گوادر کے اقتصادی منصوبے کو ناکام بنانا ہے جو اس وقت علاقائی تجارت کا اہم مرکز بنتا جارہاہے۔
ادھر وسطی ایشیائی ریاستوں کی جانب سے گوادر پورٹ کو بطور ہب استعمال کرنے کی وجہ سے اس پورٹ کی اہمیت بڑھ چکی ہے کیوں کہ گوادر تا کاشغر محفوظ تجارتی راستہ عالمی تجارت میں بنیادی نوعیت کی تبدیلوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ چین کو ہوگا جسے ایک محفوظ اور مختصر تجارتی راہداری مل جائے گی جس کی وجہ سے سامان تجارت وسطی ایشیائی راستوں اور یورپ تک پہنچ سکے گا۔ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ گوادر پورٹ کی مکمل فعالیت بڑی حد تک آبنائے ہرمز کی تجارتی رہ گزر کے مقابلے میں ایک نئے متبادل نظام کا سبب بن جائے گی۔ ان حالات میں جبکہ امریکا او رایران کے درمیان سرد جنگ کی کیفیت دنیا کو ایک محفوظ تجارتی راستے کی تلاش پر مجبورکررہی ہے، گوادر اور کراچی پورٹ کی فعالیت ملک کی ترقی اور دفاعی تقاضوں کی بجا آوری کا ایک اہم سبب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان حالا ت میں ملک کے داخلی امن پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ عوام کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے اور مہنگائی کو بہر صورت روکا جائے۔ ملک ایک نئے دور میں داخل ہورہاہے۔ ایسے میں ملک کیلئے ہمیشہ قربانیاں دینے والے عوام کو نئے اور محفوظ تجارتی راستوں سے استفادے کے مواقع ملنے چاہئیں۔

