ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے بے جا مطالبات کی وجہ سے بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی تاہم بعض نکات پر پیش رفت ہوئی ہے جس سے مثبت نتائج کی توقع ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امن کے لیے پاکستانی قیادت کی تعریف کی اور کہا کہ ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور ہم فاتح ہوں گے، اگر ایران چاہے تو فون پر بات کر سکتا ہے۔ یہ مسئلہ ہم فون پر حل کریں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں کچھ لوگ بات چیت کے لیے مناسب ہیں اور کچھ لوگ نہیں ہیں۔
اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل پر بے یقینی کی دھند چھائی ہوئی ہے تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنگ بندی کی طوالت میں جوں جوں اضافہ ہوتا جائے گا، دوبارہ جنگ چھڑنے کے خطرات اسی قدر کم ہوتے جائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کے لیے ماسکو پہنچ چکے ہیں۔ اس ملاقات کو خطے کے مستقبل کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیوں کہ پیوٹن ایران کے قریبی اتحادی ہی نہیں بلکہ حالیہ جنگ میں اہم مددگار بھی خیال کیے جاتے ہیں۔ صدر پیوٹن کی تجاویز یقینی طورپر مستقبل کے منظر نامے اور امریکا، ایران مذاکراتی عمل پر اثر انداز ہوںگی۔ پاکستان کے کردار پر ایران اور امریکا کی جانب سے اطمینان کا اظہار دراصل اس امر کا اظہار ہے کہ پاکستان اس وقت عالمی طاقتوں کے درمیان ہمہ گیر روابط کا ایک قابلِ اعتماد ذریعہ بن چکا ہے اور اس کی بنیادی وجہ پاکستان کی مستحکم عسکری قوت اور ماہرانہ سفارت کاری ہے جوکہ نہایت کٹھن اور مشکل مراحل سے گزرنے کے بعد پاکستان کو بفضلہ تعالیٰ حاصل ہوئی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی موجودہ صورت حال عالمی امن کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ اول تو عالمی طاقتوں کے متعدد مفادات اس خطے سے وابستہ ہیں جس میں پاکستان ایک مضبوط حیثیت کے ساتھ قائم ہے، دوم یہ کہ گوادر پورٹ کی فعالیت، وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کا جوڑ، عالمی تجارتی نقل وحمل کے لیے سازگار صورت حال اور بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط اور پاکستان کے ذریعے باقی دنیا کے ساتھ چین کے ارتباط کی وجہ سے امن، تجارت اور علاقائی تعاون کی مختلف صورتوں میں پاکستان کلیدی کردار بن گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق جس طرح جنوبی ایشیا میں پاکستان ایک بنیادی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اب اس ملک کی امن و سلامتی کے ساتھ جنوبی ایشیائی ممالک کی امن وسلامتی جڑ گئی ہے اسی طرح عالمی تنازعات میں اہم کردار حاصل کرنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ تک پاکستان کی سفارت کاری، عسکری قوت اور مضبوط فیصلوں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔
اس پس منظر میں ملک دشمن قوتوں کی طرف سے کسی ردعمل کا اظہار غیر متوقع نہیں ہے۔ حالیہ دنوں جب امریکا، ایران مذاکرات کی وجہ سے تمام دنیا کی نگاہیں اسلام آباد پر مرکوز تھیں اور حکومت نے غیر معمولی اقدامات کرتے ہوئے اسلام آباد کو مکمل طورپر گویا سیل کر دیا تھا تو اس کی بنیادی وجہ امن وسلامتی کو لاحق وہی خطرات تھے جو مکار دشمن کی جانب سے کسی بھی وقت سامنے آسکتے ہیں۔ افغا ن بارڈر کی جانب سے پاکستان میں دراندازی کی حالیہ کوششوں اور سیکورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ٹی ٹی پی، فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان جو کہ پاکستانی حدود میں اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے، دراصل اپنے سرپرستوں کے دباؤ، انتقامی جذبے اور فتنہ انگیز طبائع کی وجہ سے پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے درپے ہے لیکن انہیںاس امر کا ادراک نہیں کہ پاکستان کا امن و سلامتی اب صرف اس خطے ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ اور وسطیٰ ایشیائی ریاستوں تک پھیلا ہوا معاملہ بن چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حجاز مقدس کی معطر اور پاکیزہ فضائیں اڑتے ہوئے مسلم امہ کی دفاعی قوت کے نشان جی ایف تھنڈر طیارے اس امر کی علامت ہیں کہ پاکستان اب اپنی بنیادوں کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ جڑ چکا ہے اور یہ تعلق اور رابطے مزید مستحکم ہوں گے اور ان شاء اللہ جس طرح سعودی عرب ریل کے ذریعے شام اور ترکیہ کے ساتھ اقتصادی روابط میں جڑنے والا ہے اسی طرح پاکستان دفاعی روابط میں مشرقِ وسطیٰ اور اقتصادی روابط میں وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ منسلک ہوکر جنوبی ایشیا میں مسلم تہذیب کا ایک روشن نشان بن جائے گا۔
ایک ایسے وقت میں جبکہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ایک ایسی جنگ رکوانے کی تگ و دو میں ہے جس کا اولین ہدف عرب ریاستوں کا امن اور گریٹر اسرائیل کی جانب عملی پیش رفت ہے، پاکستان کے امن کو نشانہ بنانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ لویہ افغانستان کا علم بلند کرنے والے عصبیت پسند گروہ دراصل اکھنڈ بھارت اور گریٹر اسرائیل کے ساتھ اپنے نظریاتی رشتے کو نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم یہ فتنہ انگیز اور شرپسند عناصر منہ کی کھائیں گے اور پاکستان کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ان کی تمام کاوشیں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔ پاکستان کے دفاعی اور نظریاتی محافظین کو جہاں عسکری میدان میں ان عناصر کو شکست سے دوچار کرنے کی ضرورت ہے وہاں ملک میں پھیلے ہوئے سیاسی فتنوں اور نظریاتی انتشار کی جانب سے توجہ دینی چاہیے جو کہ ملک کے نوجوانوں کو ریاست مخالف جذبات میں مبتلا کرکے شر پھیلانے میں بنیادی محرک کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس شر و فساد کا انسداد محض قانونی تقاضوں کی تکمیل یا طاقت کے استعمال کے ذریعے کیا جائے، ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم و تربیت کے مجموعی عمل کی اصلاح پر توجہ دی جائے اور ملک کو اس کی نظریاتی جڑوں، بنیادی اقدار وروایات اور ریاست کے قیام کے مقاصد کے ساتھ وابستہ کیا جائے۔
پاکستان نے بہت ہی دشوار گزار حالات میں رہ کر اقوامِ عالم کے مابین امن کے لیے بنیادی کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، یہی پاکستان کا طرہ امتیاز ہونا چاہیے کہ وہ محض مفادات کی بجائے امن و سلامتی کے قیام کو اپنا فریضہ سمجھ کر اس کی بجا آوری کی فکر کرے۔ یہ جذبہ اپنے ملک کے عوام کے تحفظ اور انہیںایک قابلِ اطمینان زندگی مہیا کرنے کے لیے بھی استعمال ہونا چاہیے۔ اس وقت ملک کے غریب اور متوسط طبقے کے حالات مخدوش ہیں اور اربابِ اختیار کی ذاتی دلچسپی اور فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ گھر کے حالات ٹھیک ہوں گے تو ہم باہر کی دنیا میں زیادہ موثر کردار ادا کرسکیں گے۔

