امریکی صدر کی غیر سنجیدگی حالات بگاڑ رہی ہے

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ یہ بحران اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گیا جب ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ امریکا نے ناکہ بندی کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس سے چند گھنٹے پہلے ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ ایک دو روز میں کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ ایرانی اقدام کے بعد انہوں نے کہا کہ ایران نے تھوڑی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی ہے اور وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایران ہمیں بلیک میل نہیں کر سکتا۔ اس صورتحال کے پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور اس دوران امریکی صدر نے فیلڈمارشل سے بھی براہ راست فون پر بات کی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر نازک اور خطرناک مرحلے میں داخل ہونا یقینا پوری دنیا کیلئے تشویشناک ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران اس بحران نے بارہا اتار چڑھاؤ دیکھا ہے۔ کبھی مذاکرات کی امید بندھتی ہے، تو کبھی اچانک کوئی ایسا واقعہ پیش آ جاتا ہے جو تمام سفارتی پیشرفت کو سبوتاژ کر دیتا ہے۔ اب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا جو اعلان اور امریکا کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے، یہ اسی اتار چڑھاؤ کی تازہ مثال ہے۔ تاہم اس تمام بحران کے دوران پاکستان نے جس متوازن، محتاط اور اصولی پالیسی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ عالمی سفارتکاری میں ایک منفرد مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے ابتدا ہی سے اس تنازع میں غیر جانبداری اختیار کرتے ہوئے خود کو کسی بھی محاذ آرائی سے دور رکھا اور مسلسل اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا سب سے نمایاں پہلو اس کا غیر روایتی انداز ہے۔ روایتی سفارتکاری میں جہاں بیوروکریٹک سطح پر مذاکرات اور پس پردہ رابطے ہوتے ہیں، وہیں پاکستان نے اس بحران میں براہ راست اعلیٰ ترین قیادت کو میدان میں اتارا ہے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کی سطح پر براہ راست روابط اور بات چیت نے ایک نئی مثال قائم کی ہے، جس میں درمیانی رکاوٹوں کو کم سے کم کرکے فیصلہ سازی کے عمل کو تیز اور مؤثر بنایا گیا ہے، چنانچہ پاکستان کی اس غیر روایتی اور بے مثال سفارتکاری نے اب تک کئی کامیابیاں اپنے نام کرکے دنیا کو حیرت زدہ کردیا ہے اور ساتھ ہی امن کی امید بھی بندھائی ہے۔

پاکستان کے اس غیر روایتی اور غیر معمولی طرز سفارت کی اہمیت سمجھنے کیلئے یہ امر پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کو اس جنگ کے دوران مختلف اطراف سے دباؤ کا سامنا رہا۔ بعض قوتیں یہ چاہتی تھیں کہ پاکستان بھی اس تنازع میں براہ راست شامل ہو۔ تاہم پاکستان نے کمال بصیرت اور حکمت سے کام لیتے ہوئے امن کا ہی دامن تھامے اور اپنا دامن آتشِ جنگ کے شعلوں سے کمال مہارت سے محفوظ رکھا۔ اسی فیصلے نے آج پاکستان کو ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کروایا ہے۔ اگر پاکستان اس جنگ میں فریق بن جاتا، تو نہ صرف اس کی اپنی داخلی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی بلکہ پورا خطہ ایک بڑے تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا تھا۔ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امن پر بھی پڑتے اور بعید نہیں تھا کہ صورتحال ایک وسیع تر عالمی جنگ کی شکل اختیار کر لیتی، کیونکہ کوئی ملک ایسا نہ ہوتا جو امن کیلئے پاکستان جیسا کردار ادا کرپاتا۔ ایسے میں پاکستان کا غیر جانبدار رہنا اور امن کی کوششوں کو جاری رکھنا ایک دانشمندانہ اور دور اندیشانہ فیصلہ ثابت ہوا، تاہم موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کی خلیج اب بھی بہت گہری ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور پالیسی میں عدم تسلسل بلکہ عدم توازن نے بھی اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، تو دوسری طرف ایسے اقدامات سامنے آتے ہیں جو کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں۔ یہ تضاد نہ صرف ایران بلکہ عالمی برادری کیلئے بھی تشویش کا باعث ہے۔

اس تمام صورتحال میں دنیا کی نظریں اب بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ یہی واحد ملک ہے جو دونوں فریقوںکے ساتھ بیک وقت قابل اعتماد تعلقات رکھتا ہے، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محض پاکستان کی ثالثی کافی نہیں ہے، امن کے قیام میں کامیابی کیلئے فریقین کا سنجیدہ اور مخلص ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر امریکا اور ایران واقعی اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنی پالیسیوں میں تسلسل، سنجیدگی اور لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ خاص طور پر امریکی صدر کو یکطرفہ اقدامات، دھمکی آمیز بیانات، معاہدوں کی خلاف ورزی اور غیر ضروری بیان بازی کی غیر سنجیدہ روش ترک کرکے ایک سنجیدہ، مدبر اور مخلص رہنما کی حیثیت سے مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔ وہ جس انداز میں سوشل میڈیا پر بیان بازی کر رہے ہیں، وہ بجائے خود ایک سطحی اور عامیانہ روش ہے اور کسی سنجیدہ اور باوقار منصب کے حامل فرد کے شایان شان نہیں، اس پر مستزاد ٹرمپ کی یہ سوشل میڈیائی سرگرمیاں جنگ کی صورتحال کو بھی پیچیدہ بنا رہی ہیں، چنانچہ یہ ضروری ہوگیا ہے کہ بات چیت کے اختتام تک ٹرمپ کی سوشل میڈیا پر موجودی کو محدود کردیا جائے۔

اس نازک مرحلے پر پاکستان ایک بار پھر ایک مشکل مگر اہم ذمہ داری نبھا رہا ہے۔ وہ دونوں سخت حریفوں کے درمیان اعتماد سازی کیلئے تنے ہوئے رسے پر چل رہا ہے، تاہم اطمیان کی بات یہ ہے کہ اپنی چال میں وہ اب تک کامیاب ہے۔ پاکستان کی قیادت پرعزم ہے کہ وہ اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور ہر ممکن حد تک اس بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرے گی۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور حالات کسی بھی وقت ایک خطرناک رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ جلد کوئی ٹھوس پیشرفت نہ ہوئی، تو خطے میں تصادم نئی اور زیادہ تباہ کن شکل اختیار کرسکتا ہے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ اگرخدانخواستہ بات چیت ناکام ہوئے تو یہ پوری دنیا کیلئے بدقسمتی ہوگی اور اس کے نتائج پوری دنیا کے لئے تباہ کن ہوں گے۔ پاکستان کی یہ خواہش اور کوشش ہے کہ یہ بحران جلد از جلد ختم ہو اور دنیا ایک ممکنہ تباہی سے بچ جائے۔ دعا یہی ہے کہ یہ کاوشیں بارآور ثابت ہوں اور آنے والے دنوں میں امن، استحکام اور تعاون کی نئی راہیں کھلیں۔