ملکی اور عالمی میڈیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان سفارتی محاذ پر تاریخی کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ میں کامیابی کے بعد وطنِ عزیز کی سیاسی و عسکری قیادت کئی قدم آگے بڑھ چکی ہے۔
اس وقت وطنِ عزیز مستقبل بین نگاہوں سے کام لیتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان مصالحت کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سعودی عرب کے دورے پر علاقائی سلامتی، پائے دار امن اور پاک، سعودیہ دفاعی معاہدے سمیت دونوں ملکوں کے مابین مشترکہ اہم ترین امور پر سعودی قیادت کے ساتھ مشاورت کی ہے، جبکہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے خصوصی طورپر تہران پہنچ کر ایرانی قیادت کے ساتھ امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے گفت و شنیدکی ہے۔
امن کے لیے ذمہ دارانہ اور مخلصانہ کردار کی بدولت اس وقت عالمی سطح پر پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا ڈنکا بج رہا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق پاکستانی قیادت کی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران مصالحت کے عمل پر اتفاق کر چکے ہیں تاہم دونوں طرف سے بعض معاملات پر تحفظات، اشکالات اور اعتراضات اب بھی موجود ہیں جیساکہ ایرانی حکومت نے حقوق تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز پر قبضہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے، اسی طرح ایران کی جانب سے جنگ بندی کے عمل کو موثر بنانے کے لیے لبنان کے خلاف اسرائیل کی پیش قدمی کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امر کا عندیہ دیا ہے کہ پاکستان کی وساطت سے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں آئندہ چند ہی دنوں میں دنیا غیر معمولی خبریں سن سکتی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر ایرانی قیادت نے سوجھ بوجھ کا ثبوت دیا ہے تو اس امر کا امکان موجود ہے کہ امریکی صدر صلح نامے کی توثیق کے لیے خود اسلام آباد آئیں گے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان میں ممکنہ طورپر امریکی صدر کے ساتھ ساتھ ایران کے صدر مسعود پزیکشان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی مدعو ہو سکتے ہیں۔
امن کے لیے پاکستان کی کوششیں اس وقت پوری دنیا کے لیے ایک مثالی نمونہ سمجھی جا رہی ہیں۔ قیادت کا یہ رویہ شریعت اسلامی کے اس اصول کے مطابق ہے جس میں مفاسد کا راستہ روکنے کا کہا گیا ہے۔ اس موقع پر مصالحتی عمل کے خلاف سازشیں رچانے والے صہیونی دہشت گردوں اور ان کے بھارتی اور افغانی اتحادیوں سے پاکستان کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے متوجہ کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوئی بھی کوشش غیر متوقع نہیں۔ اس تناظر میں یہ امر قابلِ غور ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے اب تک امن کوششوں کو تباہ کرنے اور جنگ کی آگ کو بھڑکانے کے لیے کوئی کھلم کھلا خطرناک اقدام نہیں کیا گیا تو اس کی بنیادی وجہ پاکستان کی عسکری قوت کا خوف ہے جو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں سدِ سکندری کی حیثیت رکھتی ہے اور جس کی سعودی عرب میں موجودگی سے فتنہ و فساد کے اس مرکز میں آنے والے وقت کے حوالے سے بھی تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے۔
فی الواقع سعودی عرب میں پاکستان کی بہادر افواج کی تعیناتی رواں تاریخ کا ایک غیر معمولی مرحلہ ہے۔ پاکستان اور برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے مابین موجود اخوت کا رشتہ اب دفاعی شراکت داری میں بھی ڈھل چکا ہے اور مسلم امہ کے لیے وہ لمحات مزید خوشی کا باعث ہوں گے جب ترکیہ بھی اس اتحاد کا باقاعدہ رکن بن جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد میں امن مذاکرات کی کامیابی جہاں دنیا کے سر پر لٹکتی ہوئی تیسری عالم گیر جنگ کی تلوار کو ہٹا سکتی ہے وہاں مسلم ریاستوں کے درمیان تعلقات میں مزید ہم آہنگی اور دفاعی و اقتصادی شراکت داریوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ دوسری طرف امن، سلامتی اور مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کی کوششوں کو پارہ پارہ کرنے کی سازشیں بھی یقینا روبہ عمل ہوں گی۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق یہود اسلام دشمنی سے باز نہ آئیں گے اور وہ دنیا میں جنگیں بھڑکانے اور فساد پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاہم ان کے فتنہ و فساد کا تدارک بھی کیا جاتا رہے گا۔ اسرائیل نے جس طرح غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کیا اور جس بے رحمی، سنگ دلی اور سفاکی کے ساتھ معصوم فلسطینی بچوں کو آتش و آہن کا نشانہ بنایا گیا اسے دیکھتے ہوئے دہشت گردی کے اس مرکز سے ہر قسم کے ظلم، فساد اور تخریب کاری کو عین قرینِ قیاس سمجھنا چاہیے۔
اسرائیل کے شر وفساد سے ملک اور اس کی قیادت کو محفوظ رکھنے کے لیے انسانی کاوشوں کے طورپر جہاں حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے وہاں ملک کے داخلی امن، قوم کے باہمی اتحاد اور سیاسی و مذہبی انتشار و خلفشار کے انسداد کو بھی مدِنظر رکھنا ہوگا۔ معاصر صورت حال میں کوئی بھی سفارتی کامیابی نیاز مندانہ رویے اور محض نیک جذبات سے حاصل نہیں کی جا سکتی، اس کے لیے دفاعی قوت کے ساتھ ساتھ مضبوط سیاسی سوچ، تزویراتی گہرائیوں پر مبنی حکمت عملی اور بلند مقاصد کے ساتھ مکمل ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔ پاکستان کی حالیہ کامیابیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست اس وقت انہی خطوط پر قدم اٹھا رہی ہے۔
موجودہ دور میں جبکہ ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ نیز ”مادی مفادات کا حصول“ جیسے سیاسی قوت کے نظریات کو ریاستوں کی اولین پالیسیوں میں شمار کیا جاتا ہے، ہمیں من حیث القوم شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں کی پیروی اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ نظریاتی فساد ہماری کامیابیوں کی راہ میں رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔ شریعت نے ہمیں بتایا ہے کہ ”صلح“ ہی بہتر ہے اور امن وسلامتی اور بھلائی کے کامو ں میں ہمیں تعاون کرنا چاہیے۔ اسی طرح مفاسد کی روک تھام اور انسانوں کا تحفظ مسلم ریاستوں کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے یعنی مالی منفعت اور مادی مفادات کی بجائے شر، فتنے، فساد اور انارکی کی روک تھام زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ امن اور سلامتی عام انسانوں کی بقا اور تحفظ کے لیے اولین شرط کا درجہ رکھتے ہیں۔ پاکستان دنیا کو ایک بڑی جنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے کامیابی کے نزدیک ہے۔ اب ضروری ہے کہ ”مفادات“ کی بجائے امن وسلامتی کو بین الاقوامی تعلقات کا اولین ستون قرار دیا جائے اور کم از کم مسلم ریاستوں کے نصابِ تعلیم و تربیت اور سفارت کاری کے اصولوں میں عہد کی پاس داری، رازوں کی امانت، حسن سلوک، انسانی خیرخواہی اور امن و سلامتی کے اصولوں کو عملی تربیت کا حصہ بنایا جائے۔

