امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی جہاز “توسکا” پر اپنے میرینز کے اترنے کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق سینٹ کام نے آج پیر کے روز اپنے “ایکس” اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گذشتہ روز اتوار کی شام ایک امریکی ہیلی کاپٹر توسکا کے اوپر پرواز کررہا ہے جس کے بعد بحری فوج کے اہل کار فضا سے رسیوں کے ذریعے اپنے اسلحے سمیت جہاز پر اتر رہے ہیں۔ بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ میرینز ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بحری جارحانہ جہاز “یو ایس ایس تریپولی (LHA-7)” سے روانہ ہوئے اور بحیرہ عرب کے اوپر سے گزرتے ہوئے مال بردار جہاز “توسکا” پر سوار ہو کر اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔
U.S. Marines depart amphibious assault ship USS Tripoli (LHA 7) by helicopter and transit over the Arabian Sea to board and seize M/V Touska. The Marines rappelled onto the Iranian-flagged vessel, April 19, after guided-missile destroyer USS Spruance (DDG 111) disabled Touska’s… pic.twitter.com/mFxI5RzYCS
— U.S. Central Command (@CENTCOM) April 20, 2026
اس کے علاوہ بتایا گیا کہ میرینز نے رسیوں کے ذریعے ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز پر اترنے کی کارروائی اس وقت کی جب گائیڈڈ میزائلوں سے لیس امریکی تباہ کن جہاز “یو ایس ایس سبروانس” (DDG-111) نے توسکا کے پروپلشن سسٹم (انجن) کو ناکارہ بنا دیا۔ یہ کارروائی اس وقت ہوئی جب جہاز نے امریکی افواج کی جانب سے چھ گھنٹے تک دی جانے والی بار بار کی وارننگز پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
دوسری جانب ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ جہاز چین سے آرہا تھا۔ ایک فوجی ترجمان نے متنبہ کیا کہ “ایرانی مسلح افواج جلد جواب دیں گی اور امریکی فوج کی جانب سے کی جانے والی اس مسلح قزاقی کا بدلہ لیں گی”۔ ادھر ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی ایندھن کی قیمتیں صرف اسی صورت میں مستحکم ہو سکتی ہیں جب ایرانی تیل کی برآمدات پر اقتصادی اور فوجی دباؤ بند کیا جائے۔ انہوں نے “ایکس” پر لکھا “کوئی ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندی لگا کر دوسروں کے لیے مفت سکیورٹی کی توقع نہیں رکھ سکتا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ “انتخاب واضح ہے : یا تو سب کے لیے تیل کی آزاد منڈی ہو، یا پھر سب کے لیے بھاری اخراجات کا خطرہ”۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ میں ایران نے اسرائیل کو کتنے بڑے نقصان سے دوچار کیا، تفصیل آگئی
مبصرین کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کا امریکی محاصرہ فریقین کے درمیان سب سے اہم متنازع نکات میں سے ایک ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی کہ ایک امریکی تباہ کن جہاز نے محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے ایرانی جہاز پر فائرنگ کی اور اسے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

