ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جنگ کے 40 دن مکمل ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک نے ایرانی بحری بیڑے اور زیادہ تر ایرانی جہازوں کو تباہ کردیا ہے، تاہم تہران اب بھی آبنائے ہرمز کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق گذشتہ روز ایران نے دوبارہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا جبکہ اس اہم سمندری گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے متعدد کارگو جہازوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ یہ چھوٹی چھوٹی ایرانی کشتیاں کس طرح عالمی بحری بیڑوں کیلیے خطرہ ہیں؟
“انہیں مچھروں کا بیڑا کیوں کہا جاتا ہے؟”
خلیج کے ساحل پر ایرانی بحری جہازوں کے ملبے کے باوجود جنہیں امریکی اور اسرائیلی حملوں نے بندرگاہوں پر غرق کر دیا تھا، اب جو کچھ “مچھروں کا بیڑا” کے نام سے جانا جاتا ہے وہ پس پردہ متحرک ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق “مچھروں کا بیڑا” چھوٹی، تیز رفتار اور لچکدار کشتیوں پر مشتمل ہے جو شپنگ کی نقل و حرکت کو تنگ کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔ یہ ایرانی بحریہ کی باقاعدہ فورس سے الگ ایک تشکیل ہے جو پاسداران انقلاب کی بحری افواج کا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ چھوٹی کشتیاں بالخصوص ان سے داغے جانے والے میزائل اور ڈرون یا ساحل پر موجود چھپے ہوئے ٹھکانوں سے فائر کیے جانے والے ہتھیار وہ بنیادی خطرہ ہیں جنہوں نے آبنائے ہرمز سے بحری گزرگاہ کو معطل کر رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کشتیاں اکثر اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ سیٹلائٹ تصاویر میں دکھائی نہیں دیتیں اور انہیں ساحلی چٹانوں میں کھودی گئی گہری غاروں کے اندر بنے ہوئے پلیٹ فارمز پر لنگرانداز کیا جاتا ہے تاکہ وہ چند منٹوں میں کارروائی کے لیے تیار رہیں۔
کیا یہ سمندر میں رہ کر گوریلا جنگ کی صورت ہے؟
اس تناظر میں پاسداران انقلاب کے امور کے ماہر اور یونیورسٹی آف ٹینیسی میں سیاسیات کے پروفیسر سعید گولکار نے وضاحت کی کہ “پاسداران انقلاب کی بحریہ سمندر میں گوریلا جنگ کی طرح کام کرتی ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ غیرمتناسب جنگ پر توجہ مرکوز کرتی ہے لہذا بڑے جنگی جہازوں اور روایتی بحری لڑائیوں پر انحصار کرنے کے بجائے یہ مارو اور بھاگ جاؤ (ہٹ اینڈ رن) کے حملوں پر انحصار کرتی ہے”۔ امریکی بحری آپریشنز کے سابق سربراہ ایڈمرل گیری روگ ہیڈ نے کہا کہ “یہ ایک الجھن پیدا کرنے والی فورس ہے۔ یہ یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ ان کا کیا منصوبہ ہے یا ان کے عزائم کیا ہیں”۔
واضح رہے کہ آٹھ اپریل سنہ 2026ء کو امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی بحریہ کا 90 فیصد سے زائد بیڑا بشمول اہم جنگی جہاز سمندر کی تہہ میں موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کی تیز رفتار حملہ آور کشتیوں میں سے تخمینہ لگ بھگ نصف بھی غرق ہو چکی ہیں۔ تاہم ان کی درست تعداد نہیں بتائی گئی۔ ان کشتیوں کی کل تعداد کے بارے میں اندازے سینکڑوں سے ہزاروں کے درمیان ہیں کیونکہ ان کا درست شمار کرنا مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شام سے امریکی افواج کا تاریخی انخلا
پاسداران انقلاب کی بحریہ کی افرادی قوت تقریباً 50 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے اور اس کی فورسز کو خلیج کے ساتھ پانچ سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر اس نے حملہ آور کشتیوں کے لیے کم از کم 10 محفوظ اور خفیہ ٹھکانے قائم کیے ہیں۔ فارور جزیرہ بحری اسپیشل فورسز کے آپریشنز کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

