فرانسیسی فٹبالر متیو فلامینی (Matteo Flamini)جو کبھی انگلش کلب آرسنل کے لیے کھیلتے تھے، بظاہر دنیا کے امیر ترین فٹبالر بن چکے ہیں۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک کاروباری منصوبے سے بے پناہ دولت کمائی۔
عرب میڈیا کے مطابق 42 سالہ فلامینی نے 2019ء میں فٹبال کو خیرباد کہا تھا۔ اپنے کیریئر کے دوران وہ مارسی، اے سی میلان، کرسٹل پیلس اور خیتافے جیسے کلبوں کا حصہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے 2008ء میں قائم کی گئی اپنی کمپنی ”جی ایف بایوکیمیکلز” پر توجہ مرکوز کی جو فوسل فیول پر مبنی مصنوعات کے متبادل کے طور پر پائیدار حل تیار کرتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اس کمپنی نے نمایاں ترقی کی جس کے باعث فلامینی کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
فلامینی بے پناہ دولت کے مالک کیسے بنے؟
متیو فلامینی(Matteo Flamini) جو اپنی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی ہیں، کی مجموعی دولت کا تخمینہ تقریباً 10 ارب پاؤنڈ لگایا جاتا ہے اور وہ ماحولیاتی جدت اور ذمہ دارانہ کاروبار کے میدان میں ایک نمایاں آواز بن چکے ہیں۔ اسی ہفتے کے آغاز میں فلامینی نے ایسی تصاویر بھی شیئر کیں جن میں وہ برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس اور اس شعبے کے کاروباری رہنماؤں کے ساتھ ایک اجلاس میں دکھائی دیے۔
دوسری جانب ”جی ایف بایوکیمیکلز” نے پائیداری کے شعبے میں اپنی ساکھ مزید مضبوط کی ہے، خاص طور پر لیوولینک ایسڈ کی تیاری کے ذریعے، جو ڈٹرجنٹس جیسی مصنوعات کی تیاری میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو 80 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔ برطانوی اخبار ”ڈیلی میل ” کے مطابق فلامینی نے اپنے سابق آرسنل ساتھی مسعود اوزل کے ساتھ مل کر ”یونیٹی” کے نام سے غذائی سپلیمنٹس کا ایک برانڈ بھی قائم کیا، جسے ویسٹ منسٹر یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے تعاون سے تیار کیا گیا۔
مزید پڑھیں: بنگلادیش کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان، کون شامل، کون باہر
42 سالہ فلامینی کا کہنا ہے کہ انہیں اس خیال کی تحریک بچپن سے ملی، جب وہ مارسی میں سمندر کے قریب پلے بڑھے اور کم عمری ہی سے ماحولیاتی مسائل جیسے سمندری آلودگی اور پلاسٹک کے اثرات سے آگاہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں یہ واضح نہیں تھا کہ وہ توانائی، کیمیکلز یا شہری فضلے میں سے کس شعبے پر کام کریں، مگر بعد میں میلان میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم سے ملاقات کے بعد اس سمت میں پیش رفت شروع ہوئی۔
فلامینی صحت مند طرزِ زندگی کے بھی بڑے حامی ہیں۔ وہ 15 برس کی عمر سے ویگن (نباتاتی) غذا اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان کے مطابق اسی طرزِ زندگی نے ان کے فٹبال کیریئر کو طویل بنانے میں مدد دی۔ وہ اب فٹبال کے میدان میں بھی پائیداری کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، چاہے وہ ٹیموں کی جرسیوں کی تیاری ہو یا شائقین کے میچز تک سفر کے طریقے۔

