ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعا ت کے مطابق امریکی حکومت نے ایران کے ساتھ صلح کا عندیہ دے دیا ہے جس کا اندازہ نہ صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ہوتا ہے بلکہ یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے سربراہ سمیت کئی اہم سربراہان ِ مملکت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق پاکستان جنگ بندی کے معاملے پر بہت اچھا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی مذاکرات کے لیے پاکستان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے چند ہی دنوں میں امن عالم کے سلسلے میں بڑی پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے۔ اس ضمن میں یہ خبر بھی اہمیت کی حامل ہے کہ امریکی صدر نے اسرائیل پر لبنان کے خلاف جارحیت بندکرنے کا دباؤ ڈالا ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان دس روزہ جنگ بندی ہوچکی ہے جس پر بیروت میں جشن کا سماں ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل، لبنان جنگ بندی دراصل امریکا، ایران جنگ بندی اور ممکنہ صلح ہی کا تسلسل ہے۔
پاکستان کے سفارتی کردار کی بدولت امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی عالمی امن کے لیے ایک غیر معمولی پیش رفت ہے جس بنا پر پوری دنیا میںپاکستان کے سفارتی کردار کو شان دار الفاظ میں سراہا جارہاہے۔ ذرائع ابلاغ نے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی ایران آمد اور ایرانی نظام حکومت اور عسکری ڈھانچے کی اہم ترین شخصیات سے ملاقاتوں کو بھی غیر معمولی قرار دیا ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم پاکستان سعودی عرب کے بعد قطر سے ہوتے ہوئے ترکیہ پہنچ چکے ہیں۔ قطر میں وزیر اعظم کا شان دار استقبال پاکستان اور قطر کے درمیان تعلقات میں نئی گرم جوشی کی نوید ہیں۔ پاکستانی قیادت کی ان ملاقاتوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے روابط اور تعلقات کو عالمی سفارتی تاریخ کی بہترین مثال کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان نے درحقیقت ایک بڑے ملک کا کردار نبھایا ہے جو عالمی امور کا نہ صرف تجربہ رکھتاہے بلکہ وہ عالم انسانیت کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کے طرزِ احساس کا مالک بھی ہے جبکہ عالمی طاقت کا اعزاز رکھنے والی ریاستوں نے انسانوں کے مسائل و مشکلات کی بجائے اپنے مفادات کے حصول ہی کو اولین ترجیح بنا رکھاہے۔ بڑی ریاستوں نے مفادات کے حصو ل کی خاطر انسانیت کے خلاف جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے، وہ ماضی کی ظالم، جابر اور جہاں سوز شمار ہونے والی اقوام اور ریاستوں سے کم نہیں بلکہ بڑھ کر ہیں۔ امریکا بزعمِ خود انسانیت کی فلاح و بہبود کا نعرہ لگا کر جاپان کو ایٹم بم کا نشانہ بنا چکاہے اور اس وقت بھی اسرائیل کی دہشت گرد افواج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی میں بالواسطہ ملوث ہے۔ وسائل پر تسلط اور دنیا پر بالادستی کی نہ ختم ہونے والی ہوس کی وجہ سے یہ ریاستیں کمزور ممالک اور پس ماندہ اقوام کی آزادی، خود مختاری اورجینے کے حق پر ڈاکہ مارنے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔ غاصب ریاستوں کے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت دنیا کے بیشتر ممالک کو آج بھی نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل وصورت کا سامنا ہے۔
یہ ایسے تلخ حقائق ہیںکہ اب ان پر انسانی حقوق، خواتین کی فلاح و بہبود، رائے کی آزادی اور انصاف کی فراہمی جیسے نعروں کا پردہ بھی نہیں ڈالا جاسکتا کیوں کہ اب خود مغرب ہی میں اس حوالے سے بلند آھنگ آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ اسرائیل کی سرپرستی کی وجہ سے امریکا اور یورپ کے عوا م میں بے چینی کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا اور یورپ کے سیاسی نمائندوں کو اسرائیل کے مظالم، اس کی ہٹ دھرمی اور شدت پسندی نیز بچوں کے قتلِ عام کی وجہ سے اپنے عوام کے اسرائیل مخالف جذبات کا سامنا ہے اور رائے عامہ میں اس تیزی سے اسرائیل مخالف جذبات ابھر کر سامنے آرہے ہیں کہ یورپی ممالک ہی نہیں بلکہ امریکی اقتدار کے ایوانوں میں بھی اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ ایسے میں دنیا کو ایک ایسی ریاست کی ضرورت کا احساس ہورہا ہے جو نہ تو ایران کی مانند توسیع پسندانہ عزائم کے تحت پڑوسی ممالک کے خلاف پراکسی وار میں ملوث ہو اور نہ ہی وہ اسرائیل سے کسی بھی درجے میں خائف ہو۔ ان حالات میں پاکستان کا موجودہ کردار فی الواقع رحمتِ خداوندی کا ایک استعارہ محسوس ہورہاہے۔ اسرائیل کو لفظی اور غیر لفظی دونوں انداز میں دھمکانے کے بعد اب پاکستان عالمی امن کے لیے ایسے اقدامات میں مصروف ہے جس کی پوری دنیا کو اشد ضرور ت تھی۔ دہشت گردی کے عالمی مرکز اسرائیل کی شرپسندی، فتنہ و فساد اور امن عالم کو تباہ کرنے کے لیے اس کی سازشوں کے جواب میں ایک ایسی ہی ریاست مصلح کا کردا ر ادا کرسکتی تھی جو دفاعی قوت کے ساتھ ساتھ سفارتی مہارتوں سے بھی آراستہ ہو اور اس کے کردار پر کم از کم دوسرے ممالک کے خلاف سازشیں رچانے کا داغ نہ ہو۔ اس ضمن میں یہ امر بھی ملحوظِ خاطر رہنا چاہیے کہ پاکستان کی دفاعی قوت اور اس کے بعد سفارتی مہارتوں نے بھارت کے اس پروپیگنڈا مہم کو خاک میں ملا دیاہے جو گزشتہ چند دہائیوں سے پاکستان کے خلاف تسلسل کے ساتھ جاری تھی اور جس کا مقصد پاکستان کو ایک ناکام اور دنیا کے لیے خطرناک ریاست قرار دلوانا تھا۔ بھارتی میڈیا پر تجزیہ کار اب مودی حکومت کے لتّے لے رہے ہیں جس کی پالیسیوں کی وجہ سے آج کی بدلتی دنیا اور طاقت کے نئے نمودار ہونے والے مراکز میں بھارت ایک غیر اہم کردار کا حامل ملک سمجھا جارہاہے جبکہ پاکستان کا پرچم عزت و وقار کے ساتھ لہراتا دکھائی دیتاہے۔
سفارتی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے ساتھ ہی مملکت ِ خدادادپاکستان کے اربابِ حل و عقد او ر اس قوم کے سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور اربابِ اختیار پر حاکمِ تقدیر کی جانب سے نئی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا ہے کیوںکہ اب دنیا کو درپیش مسائل کے حل میں پاکستان کا کردار آئندہ بھی مرکزِنگاہ ہوگا۔ نئی شراکت داریوں کے دور میں مسلم ممالک کے اہم ترین دوست ملک کی حیثیت سے پاکستان کو اب اپنے ریاستی ڈھانچے کی اصلاح پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ریاستی اداروں سے بدعنوانی اور خیانت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ساتھ ساتھ ملک سے بدامنی، لاقانونیت، تشدد اور انارکی کے خاتمے کے لیے قانون سازی اور عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کی اصلاح بھی نہایت ضروری ہے۔ امید ہے کہ ملکی قیادت اپنے عزم کے مطابق دنیا میں امن کے لیے اہم ترین کردارادا کرنے کے بعد اپنے عوام کے تحفظ کو بھی ترجیحی طورپر یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔

