پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران کی جانب سے جمعے کے روز آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کا دنیا بھر میں خیر مقدم کیا گیا تھا، یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کے ساتھ ساتھ ایران کا شکریہ ادا کیا جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے گرنا شروع ہوئیں اور اس توقع کا اظہار کیاجانے لگا کہ شایددنیا کو اب جنگوں سے نجات ملنے والی ہے اور مشرق وسطی میں امن کا ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے تاہم ہفتے کی صبح ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہر مز کو دوبارہ بند کرنے کے اعلان نے امن کی امیدوں پر اوس ڈال دی ہے اور ایک بار پھر حالات کے کشیدہ ہونے کا خدشہ سر اٹھاتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے اس اقدام کی وجہ امریکا کی جانب سے اس کی سمندری ناکہ بندی جاری رکھنے کے اعلان کو قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے سمندری راستوں کی بندشیں نہیں اٹھاتا، ایران آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو گزرنے نہیں دے گا۔
اس نئی صورت حال نے پاکستان کو ایک بار پھر مشکل میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت جانبین سے رابطے میں ہے اور توقع رکھی جانی چاہیے کہ مفاہمت کی راہ میں پیداہونے والے اس عارضی تعطل کو بھی جلد دور کرلیا جائے گا اور فریقین معقولیت کی راہ پر آنے کو ترجیح دیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے غیر معمولی فیصلے کے بعد امریکی ناکہ بندی جاری رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی خیر سگالی کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کی ناکہ بندی اٹھانے کا اعلان کرنا چاہیے۔ دوسری جانب ایران کو بھی حتی الامکان ضبط و تحمل سے کام لینا چاہیے اور ایرانی قیادت کو بالخصوص پاسداران انقلاب کو غیر ضروری جذباتیت کا اظہار کرنے سے باز رکھنا چاہیے تاکہ مستقل جنگ بندی اور پائے دار امن معاہدے کے لیے حالات سازگار رہیں جو خود ایران کی بھی ضرورت ہے اور جس کے لیے پاکستان مسلسل تگ و دو کر رہا ہے۔
پاکستان اس وقت پورے اخلاص اور لگن کے ساتھ امن کے لیے کام کررہا ہے اور امریکا ایران جنگ بندی کے مستقبل کے سوال پر اسلام آباد پر ساری دنیا کی نگاہیں جمی ہوئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف اور ایران کے ساتھ ممکنہ سمجھوتا طے پانے کی صورت میں خود اسلام آباد آنے کا عندیہ دیے جانے کے بعد دنیابھر سے سفارتی و صحافتی نمایندے ایک بار پھر پاکستان کا رخ کرنے لگے ہیں۔ وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں اس ممکنہ تاریخی ”اسلام آباد اکارڈ” کے اعلان کی میزبانی کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ اس سے پہلے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر دو دن ایران میں رہے جہاں میڈیا رپورٹوں کے مطابق انہوں نے اعلیٰ ایرانی سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات کے مطابق ان ملاقاتوں میں جنرل عاصم منیر نے امریکا کے ساتھ ممکنہ سمجھوتے کے سلسلے میں ایرانی قیادت کے تحفظات دور کرنے اور پاکستان کی طرف سے اور ایک ثالث کی حیثیت سے ممکنہ طور پر امریکا کی طرف سے ایران کو ضروری ضمانتیں دینے کی یقین دہانیاں کرائیں اور ایران کے مطالبات اور تحفظات فریق ثانی تک پہنچائے جس کے بعد امریکی صدر کی جانب سے مفاہمت کے امکان سے متعلق مثبت پیشگوئی سامنے آئی اور توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ دوچار روز کے اندر اندر مذاکرات کے اگلے دور کے شیڈول کا اعلان ہوگا اور دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطحی وفود ایک بار پھر اسلام آباد آئیں گے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے غیر معمولی تگ و دو کی ہے جس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جارہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ کرانے کی کوشش پاکستان کی محض ایک ثالث کی حیثیت سے سفارتی مہم نہیں ہے بلکہ درحقیقت خود پاکستان کے لیے بھی اس کشمکش کا خاتمہ کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان نے اس جنگ میں اب تک اپنی آزاد اورغیر جانب دارانہ حیثیت کو برقرار رکھا ہے اور نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان بھی پل بننے کی کوشش کی ہے ، یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت اس جنگ میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ثالثی کی ان کوششوں کی کامیابی عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ کرے گی اور اس سے پاکستان کے لیے معاشی ترقی کے بھی دروازے کھلیں گے۔
تاہم دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان سمجھوتا نہ ہونے اور خطے میں دوبارہ جنگ بھڑکنے کی صورت میں سب سے زیادہ آزمائش بھی پاکستان پر آنے کا خدشہ ہے کیونکہ یہ امر واضح ہے کہ ایسی صورت میں شاید پاکستان کے لیے اپنی غیر جانب دارانہ پوزیشن برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ جنگ شروع ہونے کی صورت میں امریکا بدیہی طور پر ایران پر تباہ کن حملے کرے گا جس کی تیاریاں جنگ بندی کے دنوں میں بھی جاری ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران کی سمندری ناکہ بندی کی آڑ میں امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن سمیت بہت بڑی فضائی و بحری قوت بحیرہ عرب میں جمع کی جارہی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اعلان کرچکے ہیں کہ ایران نے معاہدہ نہیں کیا تو امریکا اس کے توانائی کے ذخائر پر حملے کرے گا۔ دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب بھی دعوی کررہی ہے کہ وہ بھی ہر قسم کے حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق ایران ممکنہ امریکی حملوں کا جواب حسب سابق خلیجی ممالک متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، سعودی عرب کے توانائی کے ذخائر اور پیداواری مراکز پر حملوں کی صورت میں دے گا جس کے بعد شاید یہ ممالک بھی جنگ میں کود پڑیں گے۔ ایسی صورت میں پاکستان کو بھی سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنی فضائیہ اور بحریہ کو بروئے کار لانا ہوگا کیونکہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت ایسا کرنے کا پابند ہے۔ علاوہ ازیں جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں شاید امریکا بھی پاکستان کے غیر جانب دارانہ کردار کو تبدیل ہوتا ہوا دیکھنا چاہے گا اور پاکستان سے ایران پر حملے کے لیے اپنے ہوائی اڈے دینے کا تقاضا کرے گا ۔ یقینا یہ پاکستان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا سبب ہوگا۔ اس بنا پر ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو ایران اور امریکا کے درمیان مستقل معاہدے کے لیے کوششیں آخری حد تک جاری رکھنی چاہئیں اور ایران کو بھی خطے کے امن اور خود اپنی سلامتی کے بہتر مفاد میں حکمت و تدبر پر مبنی اقدامات کرنے چاہئیں اور جنگ سے ہر قیمت پر بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

