رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
مشرقِ وسطی کی سیاست میں 2026ء کا سال ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں امریکا نے شام میں اپنے آخری فوجی اڈوں سے انخلا مکمل کر کے نہ صرف ایک طویل عسکری باب بند کیا بلکہ عالمی سطح پر اپنی ترجیحات کی نئی سمت کا واضح اعلان بھی کر دیا۔
امریکیوں نے ایک دہائی بعد قسرک، رمیلان، الشدادی اور التنف جیسے اہم عسکری مراکز کی چابیاں شامی حکومت کے حوالے کردیں۔ ان میں پہلے رمیلان کو حوالہ کیا اور آخری مرکز قسرک تھا جسے جمعرات کے روز دمشق کے سپرد کیا گیا ساتھ ہی دمشق حکومت نے امریکا کے زیر استعمال تمام اڈوں کا چارج سنبھالنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ اس وقت شام کی مقدس سرزمین امریکیوں سے مکمل طور پر پاک ہوچکی ہے۔ مارچ سے شروع ہونے والی مرحلہ وار حوالگی کا یہ عمل صرف فوجی انخلا نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت اسٹرٹیجک تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں خطے کی سیاست، سلامتی اور طاقت کے توازن پر گہرے انداز میں مرتب ہوں گے۔

شام میں امریکی عسکری موجودگی کا باقاعدہ آغاز 2014ء میں ہوا جب ’داعش‘ نامی بدنام زمانہ دہشت گرد گروہ نے سر اُٹھایا بلکہ طوفانی پیش قدمی کرتے ہوئے اس نے عراق اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ پھر دونوں ممالک کی سرحد لکیر ختم کرکے ایک سودساختہ نام نہاد اِسلامی خلافت کے قیام کا اعلان کردیا۔ اس کے خلاف عالمی اتحاد کے تحت امریکا نے شام کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں اپنے قدم جمائے۔ ابتدا میں یہ موجودگی محدود فضائی کارروائیوں اور مشاورتی کردار تک تھی لیکن جلد ہی اس نے زمینی شکل اختیار کرلی۔ 2015ء سے 2017ء کے درمیان امریکی افواج نے کرد ملیشیا ’قواة السوریا الدیمقراطی‘ (قسد) کے ساتھ مل کر شمال مشرقی شام میں ایک مضبوط عسکری و انٹیلی جنس نیٹ ورک قائم کیا، جس کا مقصد نہ صرف داعش کا خاتمہ تھا بلکہ اس کے دوبارہ اُبھرنے کو روکنا بھی تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ امریکا نے شام کے جن علاقوں میں اپنی موجودگی مستحکم کی اُن میں الحسکہ، دیرالزور، الرقہ اور التنف کا سرحدی علاقہ خاص طور پر اہم تھے۔ رمیلان اور الشدادی جیسے اڈے شمال مشرقی شام میں امریکی لاجسٹک اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کے مراکز بن گئے جبکہ قسر ایئربیس اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث ایک مرکزی کمانڈ حب کی حیثیت اختیار کر گیا۔ اسی طرح التنف جو شام، عراق اور اُردن کے سنگم پر واقع ہے ایران کے زمینی راستوں کو محدود کرنے اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔ان اڈوں کا دائرہ کار صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں تھا بلکہ ان کے ذریعے ایک مکمل سیکورٹی آرکیٹیکچر تشکیل دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملہ کیسے ہوا؟ دیکھیے ویڈیو
امریکی افواج نے مقامی فورسز کو تربیت دی، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا، قیدیوں کے مراکز کی نگرانی کی اور تیل و گیس کے اہم ذخائر جیسے ’العمر‘ اور ’ونیو‘ فیلڈز پر کنٹرول قائم رکھا۔ یہ وسائل نہ صرف مالی اہمیت رکھتے تھے بلکہ شام کے اندر طاقت کے توازن پر بھی اثرانداز ہوتے تھے۔ تاہم یہ موجودگی کبھی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رہی۔ 2017ء کے بعد سے امریکی اڈے مسلسل حملوں کی زد میں رہے جن میں زیادہ تر حملے ملیشیاوں اور بعض اوقات شدت پسند گروہوں کی جانب سے کیے گئے۔ خاص طور پر دیرالزور اور التنف کے علاقوں میں راکٹ حملے، ڈرون حملے اور سڑک کنارے نصب بم (IEDs) امریکی افواج کے لیے مستقل خطرہ بنے رہے۔ 2021ء سے 2024ء کے درمیان ایسے درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے جن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں اور کئی زخمی ہوئے۔ ان حملوں نے نہ صرف امریکی موجودگی کی لاگت بڑھائی بلکہ واشنگٹن کے لیے یہ سوال بھی کھڑا کیا کہ آیا یہ مداخلت اپنے مقاصد کے حصول کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔ اسی دوران امریکی پالیسی میں بتدریج تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ 2018 ءمیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اچانک انخلا کے اعلان نے کافی بحث کو جنم دیا، اگرچہ بعد میں اس فیصلے کو جزوی طور پر واپس لے لیا گیا لیکن یہ واضح ہو گیا کہ امریکی قیادت شام میں طویل المدتی موجودگی کے حق میں نہیں رہی۔
2020 ءکے بعد سے ’کم سے کم مداخلت‘ اور ’اسٹرٹیجک ری ڈپلائمنٹ‘ جیسے تصورات امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ بنتے گئے۔ 2025 ءمیں جب امریکا نے اپنے فوجیوں کی تعداد تقریباً 2000 سے کم کر کے 1000 کرنے کا اعلان کیا تو یہ دراصل مکمل انخلا کی تمہید تھی۔ اسی سال کے وسط میں دیرالزور اور الحسکہ کے کئی اہم اڈے خالی کر دیے گئے جن میں تل البیادر، العمر اور ونیو شامل تھے۔ ان مقامات پر موجود دفاعی ڈھانچے کو بھی جزوی طور پر تباہ کیا گیا تاکہ انہیں دوبارہ عسکری استعمال میں نہ لایا جا سکے۔ 2026 ءکے آغاز تک یہ عمل اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکا تھا۔ الشدادی اور التنف جیسے اہم اڈوں کی حوالگی کے بعد قسرک اور رمیلان ہی آخری بڑے مراکز رہ گئے تھے جنہیں بالآخر رواں ہفتے خالی کردیا گیا۔ اس طرح ایک دہائی پر محیط امریکی عسکری موجودگی کا اختتام ہوا۔ لیکن اس انخلا کے ساتھ جو سب سے بڑا چیلنج سامنے آیا وہ سیکورٹی خلا کا ہے۔ امریکی افواج اور قسد کے درمیان قائم انٹیلی جنس نیٹ ورک جو داعش کے خلاف کارروائیوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ قسد کا شامی حکومت میں انضمام بظاہر استحکام کی طرف ایک قدم ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس سے معلوماتی نظام میں کمزوری اور ممکنہ لیکیجز کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پیڈرو سانچیز، یورپ میں ٹرمپ کے شدید مخالف اور غزہ کی توانا آواز
مخیم ’الہول‘ سے ہزاروں شدت پسندوں کا فرار اس خطرے کی ایک واضح مثال ہے۔ اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ زمینی کنٹرول کی منتقلی کے دوران معمولی سی کمزوری بھی بڑے پیمانے پر سیکورٹی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ داعش نے اپنی حکمتِ عملی کو بدلتے ہوئے ’خفیہ نیٹ ورک‘ کے ذریعے شہری مراکز تک رسائی حاصل کرلی ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن اس انخلا کو اپنی عالمی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ چین اور روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسابقت، یوکرین جنگ کے اثرات و اخراجات اور بحرالکاہل کے خطے میں بڑھتی کشیدگی نے امریکا کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو زیادہ اہم محاذوں پر مرکوز کرے۔ شام جہاں اب ایک مرکزی حکومت قائم ہوچکی اور روز بروز مستحکم ہورہا ہے وہ الجھنا اب امریکی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ میونخ سیکورٹی کانفرنس 2026ء میں امریکی اور شامی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں اس نئی پالیسی کا عملی اظہار تھیں۔ یہ واضح ہوچکا ہے کہ امریکا اب براہِ راست عسکری موجودگی کے بجائے سفارتی، اقتصادی اور محدود سیکورٹی تعاون کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔ بہرحال مبصرین کے مطابق شام سے امریکی انخلا عالمی طاقتوں کے درمیان جاری بڑی اسٹرٹیجک کشمکش کا حصہ ہے۔ یہ ایک ایسا خلا چھوڑ گیا ہے جسے پر کرنا ہوگا۔ ورنہ داعش جیسے عفریت کو دوبارہ پنپنے کا موقع مل سکتا ہے۔ شامی حکومت کی اولین کوشش بھی یہی ہوگی کہ وہ اس نئی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کرے۔

