غزہ/تل ابیب/لندن/استنبول/واشنگٹن:غزہ کی پٹی میں سیز فائرمعاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے قابض اسرائیل کی افواج نے اپنی سفاکیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
منگل کے روز ایک خاتون اور بچے سمیت مزید سات فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے جبکہ ایک اور فلسطینی خاتون قابض دشمن کے ایجنٹوں کی فائرنگ سے لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئیں جبکہ ان واقعات میں21افراد زخمی ہوگئے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ منگل کی دوپہر جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس شہر کے مشرق میں واقع حی الشیخ ناصر کے قریب قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے نے میزائل داغا جس کے نتیجے میں فلسطینی شہری خمیس القصاص ثبیل شہید ہو گئے۔
علاقائی ذرائع نے تصدیق کی کہ صبح الشفاء ہسپتال میں ایک خاتون ہبہ جمال ابو شقفہ کی لاش لائی گئی جو شمالی غزہ کی پٹی کے علاقے العطاطرہ میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہوئیں۔
اسی طرح شمالی غزہ میں جبالیہ کیمپ کے رہائشی ایک معصوم بچے عبداللہ دواس بھی قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کر گئے۔علی الصبح خان یونس پر قابض اسرائیل کی ایک کارروائی کے نتیجے میں تین شہری شہید ہوئے جبکہ بعد ازاں چوتھے زخمی کے دم توڑ جانے کے بعد شہدا کی تعداد چار ہو گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق قابض دشمن کے ایک ڈرون طیارے نے خان یونس کے مغرب میں واقع حی الامل میں سیکورٹی اہلکاروں کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درویش صائب درویش العتال ، سعد عبداللہ حسن ابوہلال اور ماجد علاء ابو موسیٰ موقع پر شہید ہو گئے جبکہ محمد مصطفیٰ المؤمن ابوہلال زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد میں شہید ہوئے۔
ذرائع کے مطابق شہید درویش العتال کا نکاح محض ایک دن قبل ہوا تھا مگر قابض اسرائیل کی سفاکیت نے ان کی زندگی کے چراغ گل کر دیے۔جنوبی غزہ میں ہی ایک اور دلدوز واقعہ پیش آیا جہاں رفح کے علاقے مواصی میں گذشتہ روز قابض دشمن کی ملیشیاؤں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی خاتون رشا ابو جزر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملیں۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بے گھر فلسطینیوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے سے مسلسل گولہ باری کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نام نہاد یلو لائن کے اندر گھروں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہی پھیلانے کا عمل بھی جاری ہے جبکہ سامانِ زندگی، امداد کی ترسیل اور سفر پر کڑی پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔
ادھرغزہ کی پٹی میں آبی بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر پانی کی معمولی مقدار حاصل کرنے کے لیے فلسطینیوں کو اذیت ناک جدوجہد کا سامنا ہے اور فی کس دستیاب پانی کی مقدار خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔
العربی الجدید اخبار کے مطابق غزہ شہر کے وسط میں قائم بے گھر افراد کے کیمپوں میں سینکڑوں فلسطینی روزانہ پانی کے ٹرکوں کے سامنے قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنے چھوٹے گیلن بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی تھکا دینے والا عمل ہے جو انہیں اپنی کم از کم ضروریات پوری کرنے کے لیے دن میں کئی بار دہرانا پڑتا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایک ٹرک میں صرف 10 ہزار لیٹر پانی ہوتا ہے جو دو ایسے کیمپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں سے ہر ایک میں 800 سے زائد بے گھر افراد مقیم ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ فی کس مقدار 10 لیٹر سے بھی کم ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کی سفارش کردہ مقدار 50 سے 100 لیٹر فی کس ہے۔
یہ معمولی مقدار حاصل کرنے کے لیے بھی شدید گرمی میں گھنٹوں طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے اور پھر اسے دور دراز علاقوں تک لے جانے کی صعوبت برداشت کرنی پڑتی ہے۔
دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں وحشی مسلح آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی غارت گری اور دہشت گردی کے ایک تازہ واقعے میں منگل کی دوپہر رام اللہ کے مشرقی گاؤں المغیر میں دو فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے جن میں ایک معصوم بچہ بھی شامل ہے جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں مزید چار فلسطینی شدید زخمی ہوئے۔
ہلال احمر سوسائٹی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ المغیر بوائز اسکول کے گرد و نواح پر مسلح آباد کاروں کے دھاوے کے دوران اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک 13 سالہ بچہ اور ایک 32 سالہ نوجوان شہید ہو گیا جبکہ چار دیگر شہری قابض دشمن کی گولیوں کا نشانہ بن کر زخمی ہوئے۔
دریں اثناء امقبوضہ بیت المقدس اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں ”یومِ یادگار” کے آغاز پر سائرن بجائے گئے جس میں صہیونی اپنی جارحانہ جنگوں میں مارے جانے والے اپنے فوجیوں کا جشن مناتے ہیں تو عین اسی لمحے مسجد اقصیٰ کے مینار خاموش ہو گئے۔
عشاء کی اذان کی صدائیں فضا میں بلند نہ ہو سکیں اور مسجد کے صحنوں میں موجود نمازیوں اور اس کے پڑوسیوں نے اسے نہیں سنا۔قابض اسرائیل ہر سال البراق پلازہ میں اس موقع پر مرکزی تقریب منعقد کرتا ہے۔
علاوہ ازیںقابض اسرائیل کے سرکاری مبصر کی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سات اکتوبر 2023ء کے بعد سے فلسطینی مزدوروں کے اسرائیلی لیبر مارکیٹ میں داخلے پر پابندی کے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ اس فیصلے سے افرادی قوت میں گہرا خلا پیدا ہوا ہے اور قابض ریاست کے اہم معاشی شعبے شدید خسارے سے دوچار ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل اسرائیل کی لیبر مارکیٹ میں فلسطینی مزدوروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 5 ہزار تھی جبکہ غیر ملکی مزدوروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے ایک لاکھ 70 ہزار کے درمیان تھی۔
یعنی کل غیر ملکی یا غیر اسرائیلی مزدوروں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے 2 لاکھ 75 ہزار کے درمیان تھی۔فلسطینی مزدوروں کے داخلے پر پابندی کے بعد فوراً ہی تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار مزدوروں کی کمی واقع ہوئی جس کا 92 فیصد بوجھ تعمیرات اور زراعت کے شعبوں پر پڑا کیونکہ یہ دونوں شعبے فلسطینی لیبر پر سب سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
حماس نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ہونے والے نقصانات اور ضروریات کے جائزے پر مبنی رپورٹ ان بے مثال انسانی اور معاشی لرزہ خیز حالات کی تصدیق کرتی ہے جو قابض اسرائیل کی وحشیانہ نسل کشی کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں۔
حماس نے زور دے کر کہا کہ یہ رپورٹ عالمی برادری سے فوری اور موثر مداخلت کا تقاضا کرتی ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ رپورٹ میں تعمیر نو کے لیے 71 ارب ڈالر سے زائد کی رقم کا تخمینہ اور بنیادی خدمات کی بحالی سمیت اہم انفرااسٹرکچر کی فوری تعمیر نو کے لیے بحالی پروگرام کے آغاز کی ضرورت اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال کس قدر سنگین ہو چکی ہے۔
ادھرایمنسٹی انٹرنیشنل میں یورپی اداروں کے دفتر کی ڈائریکٹر ایو گیڈی نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کے ساتھ اپنی شراکت داری فوری طور پر ختم کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین اور لبنان میں تل ابیب کی حالیہ پالیسیوں نے یورپی یونین کی جانب سے مقرر کردہ تمام سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں۔
یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل جس میں قابض اسرائیل پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے غور کیا جانا ہے۔
ایو گیڈی نے اناطولیہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ قابض اسرائیل نے دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے شراکت داری کے معاہدے کی دوسری شق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے جو انسانی حقوق کے احترام سے متعلق ہے۔
قابض اسرائیل اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری کا یہ معاہدہ دونوں فریقین کے تعلقات کا بنیادی قانونی فریم ورک ہے جبکہ یورپی یونین میں اسرائیل سے دوطرفہ معاہدے ختم کرنے پر غور کیاگیا۔
یورپی میڈیا کے مطابق اسپین، سلووینیا اور آئرلینڈ نے پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کردیا، تینوں ملکوں نے ای یو فارن پالیسی چیف کو مشترکہ خط لکھ دیا۔خط کے متن کے مطابق لبنان پر حملوں اور فلسطینیوں کی پھانسی جیسے قوانین پر ایکشن لیا جائے، فی الحالی یورپی یونین میں اس حوالے سے مکمل اتفاق رائے نہیں ہے۔
قبل ازیں اسپین کے وزیراعظم نے کہا کہ یورپی یونین بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیاں کرنے پر اسرائیل سے دوطرفہ تعاون کا معاہدہ ختم کردے۔اسپین نے غزہ تنازع اور ہمسایہ ملک لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔
قبل ازیں عرب پارلیمنٹ نے فلسطینی علاقوں میں بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پارلیمانی سطح پر متحد ہو کر آواز اٹھانے پرزور دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق استنبول میں فلسطین کے حامی پارلیمانوں کے گروپ کے دوسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عرب پارلیمنٹ کے ا سپیکر محمد بن احمد الیمحی نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر حمایتی آواز اور ہر مخلص کوشش ناگزیر ہے۔
انہوں نے ترک پارلیمنٹ کی جانب سے فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے لئے پارلیمانی گروپ کے قیام کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جو فلسطین کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے گہری آگاہی کی عکاسی کرتا ہے۔
عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اسرائیلی کنیسٹ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کی اجازت سے متعلق قانون کی منظوری کو بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین اور غیر معمولی خلاف ورزی قرار دیا۔
ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو واشنگٹن میں ہوگا۔امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات سفیروں کی سطح پر ہوں گے، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ایران معاملے سے الگ ہیں۔
لبنانی صدر جوزف عون کا کہنا ہے کہ ہماری درخواست پر امریکی صدر کی مداخلت سے جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی، انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی برقرار رکھنے کیلئے امریکی صدر ٹرمپ سے رابطے جاری ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 14 اپریل سے شروع ہونے والے مذاکراتی عمل میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی قیادت میں امریکا ان براہِ راست مذاکرات کو سہولت فراہم کرتا رہے گا۔
دوسری جانب دی یورپین سٹیزن انیشی ایٹیو کے تحت یورپین یونین کے ایک ملین سے زائد افراد نے اسرائیل کے ساتھ یورپ کے تجارتی معاہدے کے خاتمے کے لیے دستخط کر دیے۔
دستخط کی یہ اپیل یورپین پارلیمنٹ میں موجود لیفٹ الائنس کے علاوہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بے شمار بین الاقوامی تنظیموں نے مل کر کی تھی۔
واضح رہے کہ ‘یورپین سٹیزن انیشی ایٹیو (ای سی آئی)’ ایک ایسا جمہوری ٹول ہے جو یورپین شہریوں کو یورپین کمیشن سے ان علاقوں میں نئے قوانین یا پالیسیاں تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے کی اجازت دیتا ہے جہاں ایـیو کا دائرہ اختیار ہو۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک سال کے اندر اندر یورپین یونین کے 7 مختلف ممالک کے 10 لاکھ افراد اس مطالبے کی حمایت میں دستخط کریں، اسی چیز کو بنیاد بنا کر گزشتہ سال اکتوبر میں یورپی سٹیزن انیشی ایٹو (ای سی آئی) کا آغاز یورپی پارلیمنٹ میں موجود بائیں بازو کے اتحاد (ای ایل اے) نے سول سوسائٹی کی تنظیموں اور فلسطینی حامی تحریکوں کے ساتھ مل کر کیا تھا۔
اس مہم کے منتظمین مقررہ وقت ختم ہونے سے پہلے 1.5 ملین دستخطوں تک پہنچنا چاہتے ہیں، اس کے بعد قومی حکام کے پاس دستخطوں کی تصدیق کے لیے 3 ماہ کا وقت ہو گا جس کے بعد اس اقدام کو باضابطہ طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

