غزہ/بیروت:مغربی کنارے میں مسلسل جاری میدانی کشیدگی کے تناظر میں قابض اسرائیل کی افواج اور غاصب آبادکاروں نے بدھ کے روز متعدد گورنریوں میں اپنے دھاوئوں اور فوجی اقدامات میں شدت پیدا کر دی ہے۔
یہ ہم آہنگ تحرکات فلسطینی شہریوں کی زندگیوں پر پابندیاں سخت کرنے اور زمین پر نئے حقائق مسلط کرنے کے صہیونی عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔بیت لحم گورنری میں غاصب آبادکاروں نے قابض اسرائیلی فوج کی سخت حفاظت میں بلدہ الخضر اور ارطاس گاؤں کے درمیان واقع برک سلیمان کے علاقے پر دھاوا بولا۔
شرپسند آبادکار دوسری اور تیسری برکہ کے درمیان جمع ہو گئے جبکہ فوج نے پورے علاقے کو مکمل طور پر بند کر کے فوجی حاجز نصب کر دیا اور گاڑیوں کی آمد و رفت روک دی۔ یہ یلغار مشرقی جانب بیت ساحور میں بلدہ جناتہ اور جبل ہراسہ کے گرد و نواح تک پھیل گئی۔
اسی تسلسل میں قابض اسرائیلی فوج نے بیت لحم کے مغرب میں واقع حوسان گاؤں پر دھاوا بولا اور کئی علاقوں میں پوزیشنیں سنبھال لیں۔ غاصب فوج نے متعدد رہا ہونے والے اسیران کے گھروں پر چھاپے مارے، تلاشی لی اور ان کی تصاویر بنائیں، تاہم کسی گرفتاری کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
گاؤں کی کونسل کے سربراہ رامی حمامرہ کے مطابق قابض فوج مسلسل دوسرے روز بھی گاؤں کے گرد و نواح میں اپنے فوجی اقدامات سخت کیے ہوئے ہے اور مرکزی و ذیلی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے جس نے رہائشیوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
قابض فوج نے بیت لحم کے جنوب مغرب میں واقع الجبعہ گاؤں کے واحد داخلی راستے کو بھی بند کر دیا ہے جو اسے بلدة نحالین سے ملاتا ہے۔ اکتوبر 2023ء سے مرکزی راستہ بند ہونے کے بعد شہر کے مرکز تک پہنچنے کے لیے یہ رہائشیوں کا آخری راستہ تھا۔
گاؤں کی انتظامی کمیٹی کی سربراہ حنان مشاعلہ نے اشارہ کیا کہ یہ اقدام شہریوں کی نقل و حرکت کو مفلوج کر رہا ہے اور انہیں کام کاج اور بنیادی ضروریات تک رسائی سے روک رہا ہے۔
دوسری جانب آبادکاروں کی سفاکیت میں بھی اضافہ ہوا ہے جس میں گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگانا شامل ہے۔مقبوضہ بیت المقدس میں قابض فوج نے فوجی اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے کئی اہم شاہراہیں بند کر دیں جس سے شہریوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
غاصب فوج نے محکمہ اوقاف اسلامی کے ملازم رائد زغیر کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ مسجد اقصیٰ کے باہر باب المجلس کے قریب اپنی جائے ملازمت کی طرف جا رہے تھے۔شمال مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فوج نے جنین گورنری کے کئی قصبوں بشمول عرابہ، عجہ، جبع اور سابقہ بستی ترسلہ کے گرد و نواح میں فوجی گاڑیاں اور پیدل دستے تعینات کر کے ناکہ بندی سخت کر دی۔
یہ اقدامات جنین اور نابلس کے درمیان غاصب آبادکاروں کے ایک مارچ کو سیکورٹی فراہم کرنے کے بہانے کیے گئے۔اسی تناظر میں غاصب آبادکاروں نے قابض فوج کی سرپرستی میں جنین کی مشرقی پٹی کے قریب خالی کی گئی کادیم بستی کے مقام پر دھاوا بولا جو کہ اس علاقے میں بار بار کی جانے والی استعماری تحرکات کا حصہ ہے۔
مقامی ذرائع اور کلب برائے اسیران نے اطلاع دی ہے کہ قابض فوج نے نابلس شہر پر دھاوا بولا اور شہر کے مرکز میں سفیان اسٹریٹ پر پوزیشنیں سنبھال لیں۔ اس دوران نوجوان وائل القوقا کو اس کے گھر پر چھاپہ مار کر اور توڑ پھوڑ کر کے گرفتار کر لیا گیا جبکہ گزشتہ چند دنوں میں اس کے خاندان کے کئی افراد کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔
جنین گورنری میں قابض فوج نے بلدة فندقومیہ سے نوجوان ایسم سلیمان رباع کو اس کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی گورنری کے مختلف علاقوں میں جاری چھاپہ مار مہم کا حصہ تھی۔
ادھرفلسطینی وزارت صحت نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 شہداء اور 4 زخمی غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں لائے گئے ہیں۔
وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی رپورٹ میں بتایا کہ 10 اکتوبر2025ء کو ہونے والی جنگ بندی سے اب تک شہداء کی کل تعداد 786 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی کل تعداد 2,217 تک پہنچ چکی ہے اور اس عرصے میں ملبے کے نیچے سے 761 شہداء کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔
بیان کے مطابق سات اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والی نسل کشی کی اس وحشیانہ جنگ کے آغاز سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 72,562 ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 172,320 تک جا پہنچی ہے۔
دریں اثناء جنوبی غزہ کی پٹی میں طبی ریلیف کے ڈائریکٹر بسام زقوت نے نظامِ صحت کی غیر معمولی ابتری پر خبردار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یہ نظام اب محض ایک ظاہری ڈھانچے کی صورت میں کام کر رہا ہے جس میں روح نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی۔
وسیع پیمانے پر تشخیصی عمل کی معطلی اور عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے بنیادی طبی خدمات کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔بسام زقوت نے بیانات میں واضح کیا کہ قابض اسرائیل کی حکام کی جانب سے طبی سامان کی فراہمی پر عائد کردہ پابندیوں نے شعبہ صحت کو کم ترین سطح کے ایک ایسے نظام میں بدل دیا ہے جو صرف ہنگامی اور عارضی حل پر انحصار کر رہا ہے۔
ایک طرف معمولی نوعیت کے اوزار لانے کی اجازت دی جاتی ہے تو دوسری طرف انتہائی اہم اور خصوصی آلات پر سخت پابندی ہے۔انہوں نے اشارہ کیا کہ اس تلخ حقیقت کی وجہ سے بیماریوں کی تشخیص کی صلاحیت تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے کیونکہ دل کی دھڑکن چیک کرنے والی مشینیں (ای سی جی) ہارمونز کے ٹیسٹ اور کینسر کی جلد تشخیص کرنے والے بنیادی آلات غائب ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ادویات کا بھی شدید بحران ہے جس میں دائمی امراض کی ادویات کی عدم دستیابی اور اینٹی بائیوٹکس سمیت کینسر کی ادویات کی بھاری قلت شامل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ طبی عملہ انتہائی محدود اختیارات کے ساتھ مریضوں کا علاج کرنے پر مجبور ہے کیونکہ علاج کے مکمل مراحل کی کڑیاں غائب ہو چکی ہیں جس کا براہ راست اثر فراہم کی جانے والی طبی خدمات کے معیار پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے بگڑتے ہوئے معاشی و سماجی حالات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین ماحولیاتی اور صحت کے خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ صاف پانی کی قلت، کچرے کے ڈھیر اور پناہ گزین مراکز میں حد سے زیادہ اژدھام وہ عوامل ہیں جو بیماریوں اور وباؤں کے پھیلاؤ کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں جن پر قابو پانا موجودہ کمزور طبی وسائل کے باعث انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
علاوہ ازیںمسجد اقصیٰ پر بدھ کے روز غاصب صہیونی شرپسندوں نے بڑے پیمانے پر دھاوے بولے اور قبلہ اول کے صحنوں میں اجتماعی تلمودی رسومات ادا کیں۔ قابض اسرائیل کی سرپرستی میں ہونے والے ان دھاوئوں کے دوران مسجد کی حدود میں زمین پر لیٹ کر شرمناک حرکات کی گئیں جو کہ حالیہ عرصے میں قبلہ اول کی بے حرمتی کے جاری سلسلے کی ایک سنگین کڑی ہے۔
القدس گورنری کی رپورٹ کے مطابق غاصب آبادکاروں کے جتھوں نے مسجد کے صحنوں میں اشتعال انگیز گشت کیاجس کے دوران باب الرحمہ اور قبہ الصخرہ کے اطراف میں قیام کیا گیا جہاں انہیں تلمودی نظریات پر مبنی گمراہ کن بریفنگ دی گئی۔
ان شرپسندوں نے باب السلسلہ سے واپسی سے قبل حرم قدسی کے مختلف مقامات پر زمین پر لیٹ کر اپنی مذہبی اصطلاح کے مطابق نام نہاد سجدہ ملحمی کی اجتماعی مشقیں کیں۔
ادھرمزاحمتی سیکورٹی فورسز نے غزہ کی پٹی کے وسطی شہر دیر البلاح میں واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال کے اندر قابض دشمن کے کرائے کے ایجنٹوں اور گروہوں کی جانب سے تخریب کاری کی ایک مذموم کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔
تخریبی منصوبے کے حوالے سے جاری کردہ معلومات کے مطابق یہ ایجنٹ گروہ عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ہسپتال پر دھاوا بولنے اور وہاں زیر علاج زخمیوں کو اغوا کرنے کا ارادہ رکھتے تھے تاکہ انہیں قابض دشمن کے حوالے کیا جا سکے جس کا انکشاف الحارس پلیٹ فارم نے کیا ہے۔
قبل ازیںانڈونیشیا نے غزہ میں انڈونیشین ہسپتال کے ملبے پر اسرائیلی بینر لہرانے کی مذمت کر دی۔اسرائیل کا پروپیگنڈا بینر گزشتہ سال ایران کے خلاف اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ کسی تباہ شدہ ہسپتال کے کھنڈرات پر فوجی علامات اور پروپیگنڈے کا استعمال، خاص طور پر جب اسے کسی مخصوص فوجی کارروائی سے جوڑا جائے، ایک انتہائی اشتعال انگیز عمل ہے اور اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ یہ عمل ایک انسانی ہمدردی کی سہولت کی توہین ہے جو انڈونیشی عوام کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔
ادھرلبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ گاؤں التیری میں پیش آیا جہاں ایک چلتی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ تاحال حملے میں جاں بحق افراد کی شناخت ظاہر کی گئیں نہ ہی اسرائیلی فوج کی جانب سے اس واقعے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں اور حزب اللہ یا کسی اور مسلح گروپ نے بھی کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
تاہم اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے رہنمائوں اور جنگجوئوں کو متعدد بار ایسے ہی ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا ہے جب وہ لوگ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔

