ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی، نازک جنگ بندی، اور اسلام آباد میں متوقع دوسرے مذاکراتی دور کے تناظر میں خطے کی صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ایک طرف سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے تو دوسری جانب عسکری تنائو اور سخت بیانات نے غیر یقینی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت آج صبح ختم ہورہی ہے اور ان سطور کی تحریر کے وقت جنگ بندی کی مدت میں توسیع یا مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے متعلق غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ اسلام آباد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ امریکی وفد کی آمد سے قبل کم از کم چھ امریکی طیارے مواصلاتی آلات اور سکیورٹی سامان کے ساتھ پاکستان پہنچ چکے ہیں، جب کہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے اور ایرانی وفد کی سربراہی محمد باقر قالیباف کریں گے۔ تاہم ایران کی جانب سے شرکت کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں کی گئی۔ توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ ایرانی قیادت جلد گومگو کی کیفیت سے باہر آئے گی اور مذاکرات کی میز میں ہی تمام معاملات طے کیے جائیں گے۔
عالمی مبصرین کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فریق کسی معاہدے پر پہنچنے سے پہلے خوداعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے پر نفسیاتی برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک جانب ایران کے ساتھ مثبت ڈیل ہوجانے کے حوالے سے پر امید نظر آتے ہیں اور ان کی جانب سے تہران کو پرکشش سمجھوتے کی پیشکش کی جارہی ہے تو دوسری جانب وہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور ان کی جانب سے ایران کو زیر کرنے کے بلند بانگ دعوے بھی مسلسل دوہرائے جارہے ہیں۔ دوسری جانب ایران بھی اب تک نفسیاتی محاذ پر یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے کہ اسے امریکا کے ساتھ ڈیل کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور یہ کہ وہ جھک کر معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنے نہ کرنے کے حوالے سے ایران کے اندر سے متضاد اشارے دیے جارہے ہیں۔ ایک جانب ایران کی سیاسی قیادت بشمول صدر مسعود پزشکیان کے گفت و شنید کے امکان کی نفی نہیں کرتی جیساکہ صدر پزشکیان نے کہا ہے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہوتی اور اگرچہ خطرات کے مقابلے میں مضبوط موقف ضروری ہے، تاہم کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر معقول اور سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے تاہم دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے تواتر کے ساتھ سخت بیانات کے اجرا کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ کسی نئے مذاکراتی دور کا کوئی منصوبہ نہیں اور واشنگٹن کی پالیسیوں میں تسلسل اور عدم سنجیدگی کے باعث بات چیت ممکن نہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ اور سکیورٹی حلقوں سے بھی سخت موقف سامنے آیا ہے۔ ایرانی قیادت آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے برقرار رہنے کی صورت میں بات چیت پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہر مز رکھنے کی اپنی ھٹ پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ معاہدہ ہونے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس بحران کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ ایران نے ایک مرحلے پر اسے کھلا رکھنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم امریکی ناکہ بندی اور سخت نگرانی نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اس طرح امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز تادم تحریر ڈیڈ لاک کا شکار ہے اور پاکستان بحیثیت ثالث کے پوری کوشش میں ہے کہ اس ڈیڈ لاک کو دور کیا جائے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے فیلڈ مارشل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی ممکنہ ناکہ بندی سے متعلق ان کے موقف پر غور کریں گے، جسے ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ ادھر عالمی سطح پر بھی سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان رابطے میں فوری اور جامع جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا گیا، جبکہ مصر، ترکیہ اور سعودی عرب بھی جنگ بندی میں توسیع کے لیے سرگرم ہیں۔ توقع رکھی جانی چاہیے کہ پاکستان اور دیگر دوست ممالک کی سفارتی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں گی اور دونوں فریق عالمی برادری کے مطالبات اور امن عالم کے تقاضوں کا احترام کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعے کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوا اور دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو اس کا نتیجہ ایک بار پھر خطے میں جنگ کی آگ بھڑکنے کی صورت میں نکلے گا جس کا خمیازہ ان دو ممالک کو ہی نہیں بلکہ دنیا کے آٹھ ارب انسانوں کو بھگتنا پڑے گا۔
موسم گرما کا آغاز اور لوڈ شیڈنگ کا عذاب
ملک کے میدانی علاقوں میںموسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ”حسب روایت” بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھی قوم کے تعاقب میں ہے۔ میڈیارپورٹوں کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹوں سے متجاوز ہوگیا ہے۔ عوام بے حال جبکہ لوڈشیڈنگ سے کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی ہیں۔ ملک میں توانائی کا بحران ایک عرصے سے جاری ہے، ہر سال گرمیوں میں بجلی کی طلب زیادہ ہوتی ہے اور عوام کو بجلی کی مہنگائی اور نایابی کی اذیت ناک صورت حال کا سامنا ہوتا ہے، ہونا تو یہ چاہیے کہ ہماری حکومتیں اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کا مستقل حل ڈھونڈیں اور موسم گرما کی آمد سے پہلے قومی ضرورت کے مطابق بجلی کی پیداوار اور فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں، مگر یہاں ایسا لگتا ہے کہ بجلی کی طلب زیادہ ہو جانے پر لوڈ شیڈنگ ہی وہ واحد ”تدبیر” ہے جو ہمارے ارباب اختیار نے پہلے سے سوچ رکھی ہوتی ہے۔ آج کی اکیسویں صدی کی دنیا میں اگر ہم بجلی جیسی انتہائی معمولی ٹیکنالوجی میں بھی خود کفیل نہیں ہیں تو ہمارے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ پھر ہم ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کہاں کھڑے ہیں؟

