ایرانی موقف مزید سخت، امریکا پریشان، ساری امیدیں پاکستان سے وابستہ

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے باوجود صورتحال بدستور نازک ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کی درخواست پر ایران پر حملے موخر کرتے ہوئے جنگ بندی کی مدت میں 3 سے 5 دن کا اضافہ کر دیا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار ہے۔
پاکستان کا کلیدی کردار: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے حملے موخر کیے۔ مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں میں اسلام آباد میں متوقع ہے۔
ایران کا سخت موقف: ایرانی سپیکر باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ جب تک سمندری ناکہ بندی اور صیہونی جارحیت ختم نہیں ہوتی، جنگ بندی بے معنی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس اور پیشگی منظوری کا نظام نافذ کر دیا ہے۔
امریکی دعوے: صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی سے ایران کو روزانہ 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے بے چین ہے، تاہم امریکی بحریہ نے تاحال آبنائے ہرمز کا گھیرا کر رکھا ہے۔
عالمی معیشت پر اثرات: آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ یو اے ای کے مطابق 50 دن کی ناکہ بندی سے 60 کروڑ بیرل تیل کی سپلائی رک چکی ہے، جس سے عالمی توانائی کی منڈی خطرے میں ہے۔
میدانی صورتحال: ایرانی پاسدارانِ انقلاب  نے اسرائیلی ملکیت کے جہاز سمیت دو بحری جہاز قبضے میں لے لیے ہیں۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر پڑوسی ممالک کی زمین استعمال ہوئی تو تیل کی پیداوار کو نشانہ بنایا جائے گا۔
مستقبل کی صورتحال: عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک مشکل سفارتی پوزیشن میں پھنس چکے ہیں۔ اب تمام نظریں اسلام آباد پر ہیں کہ آیا پاکستان دونوں فریقین کو کسی پائیدار امن معاہدے پر راضی کر پاتا ہے یا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔