ملک کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک پیغام میں بتایا ہے کہ پاکستان کے توسط سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے سلسلے میں روابط کیے جارہے ہیں۔ امریکا نے جنگ بندی کے لیے پندرہ شرائط رکھی ہیں۔ اسحاق ڈارکے مطابق پاکستان خطے میں قیام ِ امن کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔ ترکیہ اور مصر بھی پاکستان کے ساتھ کوششوں میں شریک ہیں اور توقع کی جاسکتی ہے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے بھی جنگ بندی کے سلسلے میں پانچ شرائط پیش کی جاچکی ہیں جن میں جنگ کے تاوان کی ادائیگی، آبنائے ہرمز پر ایرانی اختیار کی قبولیت، میزائل پروگرام کا تسلسل اور جنگ بندی کے حوالے سے ایران کو اختیار دیے جانے جیسی شرائط رکھی گئی ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ پاکستان کے توسط سے جاری روابط اور ابتدائی بات چیت باضابطہ مذاکرات کی شکل اختیار کرپائے گی یا نہیں تاہم عالمی میڈیا میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کی اہمیت کو نمایاں کیاجارہا ہے۔ تجزیہ کاروںکا خیال ہے کہ پاکستان اس موقع پر چین اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام میں معاونت جیسی تاریخ دہرانے جارہا ہے۔ امن مذاکرات کے انعقاد اور بات چیت میں کامیابی سے پاکستان سفارتی میدان میں اپنی اہمیت کو واقعی تسلیم کروالے گا جس کے نتائج آنے والے دنوں میں اس کے معاشی استحکام اور دفاعی قوت میں مزید اضافے کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔
اس امر میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت دنیا کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت کو زبردست خطرات لاحق ہیں جبکہ جنگ بڑھنے کی صورت میں توانائی کے بہت بڑے ذخائر کی تباہی کے خطرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ روس کے صدر ویلادی میر پیوٹن نے دنیا کو درپیش معاشی خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی معیشت کو کرونا وبا سے زیادہ مہیب چیلنج کا سامنا ہے۔ یہی بات معاشی و اقتصادی ماہرین بھی بیان کررہے ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکا جنگ بندی کے لیے بے تاب ہے تاہم یہ اسرائیل ہی ہے جس کی فتنہ انگیز اور شرپسند قیادت اپنے سیاسی مفادات کی خاطر جنگ کو اگلے درجے میں لے جانے کی تگ و دو کررہی ہے۔ اسرائیل کی شرانگیزی اور فتنہ و فساد بھڑکانے کی جبلت کا اندازہ معصوم بچوں کے قتل ِ عام فلسطینیوں کی نسل کشی اور علاقائی ممالک کے خلاف جارحانہ رویوں سے بخوبی لگایا جاسکتاہے تاہم موجودہ حالات میں اسرائیل جس طرح ایران اور عالم عرب کے درمیان تصادم کے لیے کوشاں ہے، وہ خاص طورپر مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
گرچہ فتنہ و فساد اور شر ور کے اس مرکز پر ایران کی طرف سے میزائل اور لبنان کی حزب اللہ تنظیم کی طرف سے مسلسل راکٹ برسائے جارہے ہیں لیکن اس کی جنونی قیادت امریکی چھتری تلے اس جنگ کو مزید پھیلانے کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصالحت اور امن کے لیے پاکستان کا کردار اسرائیل کی شرپسند قیادت کے عزائم میں ایک رکاوٹ تصور کیا جارہاہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں پاکستان کے سفارت خانے کے قریب اسرائیلی طیاروں کی بمباری کو دھمکی آمیز پیغام ہی سمجھنا چاہیے کیوں کہ قبل ازیں اسرائیلی طیارے ایران کی حدود میں پاکستانی سرحدوں کے بالکل قریب پروازیں کرچکے ہیں جس پر پاک فضائیہ نے نہایت مستعدی کے ساتھ جوابی اقدام کا پیغام بھی دیا ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان پر اسرائیل کی جانب سے کسی ایڈونچر کی کچھ زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی کیوں کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہے تاہم ایران میں حکومت کی تبدیلی یا اقتدار کی منتقلی اورافغانستان میں بھارتی پراکسی کی مدد سے پاکستان کے خلاف خطرناک اقدامات کے امکانات موجود ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان میں بدامنی، تشدد، انارکی اور سیاسی انتشار برپا کرنے کی بھی متعدد کوششیں کی جاچکی ہیں اور مزید بھی کی جاسکتی ہیں۔ افغانستان مسلسل پاکستان کے خلاف استعمال ہورہاہے اور ا س کی قیادت یہ سمجھنے کے لیے تیار ہی دکھائی نہیں دیتی کہ ”لویا افغانستان ”دراصل ”اکھنڈ بھارت ”ہی کا تسلسل ہو گا نیز یہ کہ افغان جنگجو گوریلا جنگ کے ذریعے پاکستان کو ایک حد سے زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتے لیکن پاکستان ان کی توقع سے بہت بڑھ کر جوابی اقدامات کی صلاحیت رکھتاہے۔ سیاسی بصیرت سے محروم دکھائی دینے والی افغان قیادت کی جانب سے بھارتی پراکسی کا حصہ ہوتے ہوئے اسرائیل کے مزید امن دشمن منصوبوں میں شراکت بھی اب خلافِ قیاس نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اپنے دفاع، علاقائی استحکام، امن کے قیام اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے جہاں ایران کی موجودہ قیادت کے ساتھ روابط رکھتے ہوئے اقتدارکی تبدیلی کے امریکی منصوبے کو ناکام بنانا ہوگا وہاں افغانستان کی دہشت گردی پھیلانے کی صلاحیت کو بھی اس حد تک کمزور کرنا ہوگا کہ وہ امن دشمن اقدامات کی بجائے محض اپنی بقاکی فکر ہی میں رہے۔ پاکستان اگر دنیا میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کررہا ہے تو خود اس کا داخلی امن اور سلامتی کا تحفظ نیز اس کے عوام کی حفاظت بھی اہم ترین مقاصد میں شامل ہیں۔
اس وقت دنیا میں مضبوط معیشت، اعلیٰ دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کی حامل فوجی قوت، وسائل پر تسلط اور مزید معاشی طاقت کے حصول کا ایک تسلسل دیکھا جارہاہے۔ یہ تسلسل دنیا کو مزید جنگوں، باہمی آویزش اور تصادم کی جانب دھکیل رہا ہے اوراس عمل میں اسرائیل اور بھارت جیسی دہشت گرد حکومتیں اور ریاستیں امریکا جیسی طاقتوں کے ساتھ مل کر دنیا میں فتنہ و فساد پھیلا رہی ہیں۔ جنگوں کا یہ سلسلہ محض معاشی مفادات ہی تک محدود نہیں بلکہ ان میں نظریات اور کچھ دیگر عوامل بھی کارفرما ہیں۔ اس عالمی فساد نے عام انسانوں کی زندگیوں میں مشکلات اور مصائب بھر دیے ہیں۔ عالمی اشرافیہ کو دنیا کے امن سے کوئی غرض نہیں، وہ اپنے محفوظ قلعوں اور حفاظتی انتظامات میں رہتے ہوئے دنیا کو جنگوں کی جانب دھکیل رہی ہے۔ ان حالات میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششیں لائق ِ تحسین ہیں اورعام انسانوں کو پاکستان کے اس کردار کی قدر کرنی چاہیے۔ خود اہلِ وطن کو بھی اس امر پر شکر ادا کرنا چاہیے کہ پاکستان تاریخ کے اس نازک موڑ پر محفوظ ہاتھوں میں ہے جو کہ ملک کے تحفظ اور بقا کے لیے بساط بھر کوشش کررہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں امن اور سلامتی کا ماحول قائم رکھنے کے لیے تمام طبقات مل جل کرجدو جہد کریں۔ وسائل کا درست استعمال کیا جائے، ہر سطح پر سادگی اور قناعت کو فروغ دیا جائے اوردفاعی اور اقتصادی شعبوں میں مزید پیش رفت جاری رکھی جائے۔

