غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچپسی میں اضافہ، 220کمپنیوں کی رجسٹریشن

اسلام آباد:پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس سال جنوری سے مارچ کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ ہونے والی 220 کمپنیاں غیر ملکی ڈائریکٹرز نے رجسٹر کراوئیں، جن کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ 657 ملین روپے ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے کمپنیاں رجسٹر کروانے کے رجحان میں مسلسل اضافہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور پاکستان کے ریگولیٹری فریم ورک پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں (جنوری تا مارچ 2026) کے اعدادوشمارکے مطابق غیر ملکی ڈائریکٹرز رکھنے والی زیادہ تر کمپنیاں ٹریڈنگ، سروسز، آئی ٹی، تعمیرات اور مائننگ کے شعبوں میں رجسٹر ہوئیں ہیں، جو معیشت کے روایتی اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

ایس ای سی پی کے ڈیٹا کے مطابق جنوری تا مارچ کے دوران 10 ہزار 318 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہیں، رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں 58.6 فیصد پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیوں ہیں جبکہ 37.9 فیصد سنگل ممبر کمپنیاں تھیں جو کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں فروغ کو ظاہر کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس عرصے کے دوران 50.2 فیصد کمپنیاں پنجاب میں 19.0 فیصد اسلام آباد میں، 15.5 فیصد سندھ میں بقیہ 15 فیصد بلوچستان، خیبر پختونخواہ اورگلگت بلتستان میں رجسٹر ہوئی ہیں۔

شعبوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ کمپنیاں آئی ٹی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر ہوئیں، جن کی تعداد دو ہزار 65 ہے، ٹریڈنگ 1687 اور سروسز 1288 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، اسی طرح رئیل اسٹیٹ اور کنسٹریکشن میں 934 کمپنیاں، سیاحت میں 581، فوڈ اور بیورجز میں497 اور تعلیم میں 363 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

ایس ای سی پی نے بتایا کہ ان تین ماہ کے دوران 95 ہزار 823 کارپوریٹ فائلنگز پراسیس کیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد زائد ہیں، اس سہ ماہی میں پوسٹ انکارپوریشن فائلنگز میں 33 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ بہتر کمپلائنس اور ایک مستحکم کارپوریٹ گورننس کی عکاسی ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق سیکیورڈ ٹرانزیکشنز رجسٹری میں ان تین ماہ کے دوران 6 ہزار سے زائد فنانسنگ اسٹیٹمنٹس فائل کی گئیں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے 5 ہزار سے زائد سرچز کی گئیں، جو ملک میں مالیاتی سورسز کی فراہمی میں اضافے اور بڑھتی ہوئی مالیا تی شمولیت کو ظاہر کرتی ہے۔