غزہ میں38ہزار خواتین وبچیوں کے لرزہ خیز قتل کا انکشاف

نیویارک/غزہ/بیروت/تل ابیب:اقوام متحدہ کے ادارے برائے خواتین (یو این ویمن) نے ایک انتہائی لرزہ خیز رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر2023ء میں شروع ہونے والی قابض اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت سے لے کر دسمبر 2025ء تک غزہ کی پٹی میں 38 ہزار سے زائد خواتین اور بچیاں جام شہادت نوش کر چکی ہیں۔

یہ اعداد و شمار غزہ کی پٹی میں بڑھتی ہوئی انسانی تباہی کی ہولناکی اور غاصب صہیونی دشمن کی جانب سے جاری نسل کشی کو واضح کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس ہولناک جانی نقصان کا مطلب ہے کہ اوسطاً روزانہ تقریباً 47 خواتین اور بچیاں شہید ہو رہی ہیں۔

اس انکشاف نے انسانی حقوق کے حلقوں اور عالمی میڈیا میں صدمے کی ایک لہر دوڑا دی ہے کیونکہ یہ اعداد و شمار نہتے شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی سنگین تصویر پیش کرتے ہیں۔غزہ میں خواتین اور بچیوں پر جنگ کی قیمت کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں تفصیلات فراہم کی گئی ہیں کہ شہدا میں 22 ہزار سے زائد خواتین اور 16 ہزار بچیاں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ تقریباً 11 ہزار خواتین اور بچیاں زخمی بھی ہوئیں جن میں سے بڑی تعداد مستقل معذوری کا شکار ہو چکی ہے جو فلسطینی معاشرے پر اس جنگ کے دیرپا اور تکلیف دہ اثرات کو مزید دوچند کررہی ہے۔

ادھرقابض اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں،ہفتے کی علی الصبح غزہ شہر کے مشرق میں قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے دو بھائی شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ جبالا النزلہ کے رہائشی دو بھائی محمود اور عید ابو وردہ اس وقت شہید اور ان کا تیسرا بھائی زخمی ہوا جب قابض افواج نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع محلہ شجاعیہ میں پانی کو نمک سے پاک کرنے والے پلانٹ (ڈی سیلینیشن پلانٹ) کو نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق دونوں شہداء پانی کے ٹینکر پر کام کرتے تھے اور قابض اسرائیل نے انہیں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ پانی بھرنے کے لیے جا رہے تھے۔بعد ازاں شمالی غزہ کی پٹی میں بھی قابض اسرائیلی فوج کے حملے میں ایک شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض فوج نے شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیا میں تل الذہب کے مقام پر بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر اپنی مشین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی جامِ شہادت نوش کر گیا اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔

علاوہ ازیں خان یونس اور غزہ کے مشرقی علاقوں میں مختلف واقعات کے دوران قابض فورسز کی فائرنگ سے مزید 5 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ قابض اسرائیل کے توپ خانے نے جنوبی پٹی کے شہر خان یونس کے مشرقی حصوں اور غزہ شہر کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری بھی کی۔

اسی طرح قابض اسرائیل کی عسکری گاڑیوں نے غزہ کی پٹی کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں متعدد مقامات پر دوبارہ فائرنگ شروع کر دی ہے۔یونیسیف نے ایک پریس ریلیز میں اطلاع دی کہ یونیسیف کے عملے کو لے جانے والی گاڑیوں پر اسرائیلی حملہ کیا گیا ہے جس میں دو افراد شہید ہو گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں گاڑیاں غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو پینے کا پانی پہنچانے کے لیے استعمال کی جارہی تھیں۔ حملے میں مزید دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یونیسیف نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر واقعے کی تحقیقات کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔

دریں اثناء غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی مسلسل خونی جارحیت اور نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی کے نتیجے میں جانی نقصانات کی مجموعی تعداد میں ایک بار پھر المناک اضافہ ہوا ہے جس کے بعد سات اکتوبر 2023ء سے اب تک شہدا کی تعداد 72,549 اور زخمیوں کی تعداد 172,274 ہو چکی ہے۔

یہ دلدوز اعداد و شمار غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین یومیہ شماریاتی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔علاوہ ازیںغرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل کے جنوب میں قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپوں اور گرفتاریوں کی مہم جاری رکھی۔

ہفتہ کی صبح سویرے مقبوضہ مغربی کنارے کی مختلف گورنریوں میں قابض اسرائیلی فوج نے وحشیانہ کارروائیاں کیں اور گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی جس کے بعد متعدد شہریوں کو اغوا کر لیا گیا۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج نے نابلس کے جنوب مشرق میں واقع قصبے قصرہ میں یوسف فواد حسن نامی لڑکے کے گھر پر دھاوا بولا اور تلاشی کے بعد اسے حراست میں لے لیا۔

نابلس کے مشرق میں واقع گاؤں بیت دجن سے نضال ابو سعادہ نامی شہری کو گرفتار کیا گیا۔ قابض دشمن کے سپاہیوں نے ان کے گھر میں گھس کر سامان کی توڑ پھوڑ کی اور اہل خانہ کو ہراساں کیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قابض فوج نے قصرہ میں کئی دیگر گھروں کی بھی تلاشی لی اور اس بڑی کارروائی کے دوران مزید دو نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔

بیت لحم گورنری میں قابض فوج نے الخضر قصبے پر دھاوا بولا اور البوابہ کے علاقے میں مورچہ بند ہو گئے۔ اسی طرح دوحہ شہر میں مسجد زید بن ثابت کے اطراف میں غاصب فوج کی بکتر بند گاڑیاں گشت کرتی رہیں تاہم وہاں سے کسی گرفتاری کی فوری اطلاع نہیں ملی۔

قلقیلیہ شہر پر حملے کے دوران قابض فوج نے ایک رہائشی عمارت پر قبضہ کر لیا اور اسے فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر کے نہتے شہریوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کردیں۔ادھراسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان میں بھی سیز فائر کی خلاف ورزی جاری ہے، لبنان کے متعدد قصبوں پر شدید بمباری کی گئی۔

لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں خیام، بنت جبیل اور البیادہ پر حملے کیے کیے ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل اور لبنان کی جنگ بندی کے بعد اسرائیل سے جڑے جنوبی لبنان میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھی گئی، اسرائیلی دھمکیوں کے باوجود لبنانی سڑکوں پر نکل آئے۔

عرب میڈیا کے مطابق لبنان کے عوام نے پلوں کی بحالی اپنی مدد آپ کے تحت کی، جنوبی لبنان میں دریا لیتانی پر تباہ شدہ پل دوبارہ بحال کیا۔اسرائیل کے حملے میں موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہوگیا، دو مارچ سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد دوہزار دو سو چورانوے ہوگئی، اسرائیلی وزیراعظم نے جنگ بندی شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی کہہ دیا اہم مقصد حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔

اسرائیل نے جنوبی لبنان سے فوج واپس نہ بلانے کا اعلان کردیاہے، حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر جوابی کارروائیوں کی وارننگ دیدی، حزب اللہ نے کہا کہ انگلیاں ٹریگر پر ہیں، جنگ بندی کو پورے لبنان میں لاگو ہونا چاہئے۔

حزب اللہ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کو نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پر عزم ہے، خواہ وہ فوجی ذرائع سے ہو یا سیاسی۔

کاٹز نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ ہمارا طے کردہ ہدف، جو کہ حزب اللہ کو فوجی یا سیاسی ذرائع سے غیر مسلح کرنا ہے، معرکے کا وہ مقصد تھا اور اب بھی ہے جس کے لیے ہم پرعزم ہیں، کیونکہ اب امریکا کے صدر کی براہ راست شرکت اور اس ہدف کے لیے ان کے عزم کے ساتھ ساتھ لبنانی حکومت پر دبائو بڑھانے سے ایک بڑی سیاسی تحریک بھی پیدا ہوئی ہے۔

کاٹز نے وضاحت کی ہے کہ ایک سیکورٹی زون قائم کر دیا گیا ہے جس پر اسرائیلی فوج کا کنٹرول ہے، یہ سرحدی لائن سے 10 کلومیٹر گہرائی تک پہنچتا ہے اور مغرب میں سمندر کے قریب سے مشرق میں جبل الشیخ کے علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔