ہفتے کے روز ملک بھر میں عیدالفطر نہایت مذہبی جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ منائی گئی۔ملک بھر کی مساجد، عیدگاہوں اور کھلے میدانوں میں لاکھوں فرزندانِ اسلام نے اکٹھے ہو کر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر دعائیں مانگیں۔ رمضان المبارک کی بابرکت ساعات کی سعادت میسر آنے پر رب تعالیٰ کا شکر بجا لایا۔ ملک کی فضا تکبیر و تہلیل سے گونجتی رہی اور دلوں میں شکر، محبت اور اتحاد کے جذبات موجزن رہے۔
یہ عید ایسے وقت آئی ہے جب عالم اسلام شدید اضطراب، بے چینی، تشویش اور خوف کی کیفیت میں مبتلا ہے۔مشرق وسطیٰ میں گزشتہ تین ہفتوں سے جاری جنگ نے پورے خطے کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی جانے والی یہ جنگ ابتدا میں محدود نوعیت کی نظر آتی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ آگ پھیلتی جا رہی ہے اور اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے خطے کے امن کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی پوری کوشش اور سازش ہے کہ جنگ کے شعلے پھیلیں اور پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیں۔ تاہم امریکا اور اسرائیل کی بدترین جارحیت کے باوجود تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورت حال میں ایران ایک مضبوط فریق کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ایران کی صف اول کی سیاسی، عسکری اور مذہبی قیادت کو ختم کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اچانک اور شدید حملوں کے نتیجے میں ایران کی قیادت کو نشانہ بنا کر ایرانی نظام کو اندرونی طور پر توڑ دیا جائے گا اور باقی کام ایرانی عوام خود آگے بڑھ کر کر دیں گے۔ تاہم یہ حکمت عملی بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ نہ صرف یہ کہ ایرانی ریاستی ڈھانچہ قائم رہا بلکہ عوام نے بھی غیر معمولی اتحاد، ثابت قدمی اور اپنی حکومت کے ساتھ وابستگی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے نتیجے میں امریکا اور اسرائیل کو اپنے ابتدائی مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، چنانچہ اب وہ اس غیر متوقع صورتحال میں جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی سازش میں مصروف ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ اس تنازعے کو ایران اور عرب ممالک کے درمیان ایک وسیع جنگ میں تبدیل کیا جائے، تاکہ مسلمان ممالک ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہو جائیں اور آخر میں اسرائیل کے لئے ترنوالہ بن جائیں۔ اس حکمت عملی کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف خطے کا امن تباہ ہوگا بلکہ پوری دنیا پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے، جیسا کہ اس کی ہلکی آنچ پوری دنیا محسوس کرنے لگی ہے۔
ان حالات میں پاکستان نے ایک نہایت اہم اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن، مفاہمت اور مذاکرات کی پالیسی کو ترجیح دی ہے۔ وہ نہ صرف ایران اور عرب ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں فریقوں کو صبر و تحمل اور برداشت کی تلقین کر رہا ہے۔ پاکستان کی یہ کوشش خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی ایک سنجیدہ اور مخلصانہ کاوش ہے، جسے امن پسند حلقے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تاہم خطے میں جاری یہ جنگی صورتحال پاکستان کے اندرونی حالات کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ عید سے قبل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے اہل تشیع رہنماؤں سے ملاقات اور امن و امان کے حوالے سے سخت تاکید اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی کشیدگی کا میدان بننے سے روکنے کیلئے پرعزم ہے۔ یہ ایک دانشمندانہ اقدام ہے، کیونکہ بیرونی تنازعات کو اندرون ملک منتقل ہونے دینا کسی بھی ملک کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، تاہم بعض حلقے فیلڈمارشل کی اس تنبیہ سے یہ تاثر بھی لیتے نظر آرہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں خدا نخواستہ پاکستان کو جاری جنگ کا حصہ بننا پڑ سکتا ہے، جو یقینا اضطراب کا باعث ہے۔ دوسری جانب پاکستان کو افغانستان کے ساتھ کشیدگی کا بھی سامنا ہے۔ افغانستان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے باعث پاکستان کو اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے سرحد پار کارروائیاں کرنی پڑ رہی ہیں۔
پاکستان نے بارہا سفارتی ذرائع سے افغانستان کے ساتھ یہ مسائل حل کرنے کی کوشش کی، تاہم جب بات چیت کی ہر کوشش ناکام ثابت ہوئی تو پاکستان نے بہ امر مجبوری جارحانہ دفاع کی حکمت عملی اپنائی، جس کا سلسلہ فی الحال عید الفطر کے احترام میں عارضی طور پر موقوف کیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمانوں کے درمیان قتل و خون ایک نہایت ناپسندیدہ عمل ہے، جسے فتنہ سے تعبیر کیا گیا ہے، پاکستان اور افغانستان کے بیچ جاری یہ جھڑپیں بھی بلاشبہ ایک ناگوار صورتحال کی غماز ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان یہ کارروائیاں انتہائی مجبوری میں اور کوئی راہ نہ پاکر کر رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ حق بجانب ہے، تاہم اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ناگوار صورتحال ہے، مسلم ممالک کو آپس میں اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور قتل و خون سے گریز ہی کرنا چاہیے۔ خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کو اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر یہ تنازع طول پکڑتا ہے تو اس کے اثرات دونوں ممالک کے عوام پر تباہ کن ہوں گے۔یہ امر بہرکیف قابل غور ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ہے اور اب بھی اس کی طرف سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغان حکومت دہشت گردوں کی سپورٹ بندکرے، جو بالکل بجا اور جائز مطالبہ ہے۔
ان حالات میں بطور خاص افغانستان کی زیرک شخصیات کو آگے آکر اپنی قیادت کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی طرف سے تو بارہا علماء اور معتبر شخصیات امن کا پیغام لے کر گئی ہیں، مگر اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا ہے، اب افغان زعما میں اگر کوئی مدبر اور مصلح ہے تو اسے آگے آنا ہوگا اور خونریزی کو روکنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا، کونکہ مسئلے کی جڑ افغانستان میں ہے۔ عید کے اس موقع پر پاکستانی قوم کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرق وسطی کی جنگ اور پاک افغان کشیدگی کو جلد از جلد ختم کرے اور خطے میں امن و استحکام قائم ہو۔ دعا ہے کہ مسلمان ممالک ایک دوسرے کیخلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں اوراپنی طاقت بیرونی دشمن کے مقابلے کیلئے بچا کر رکھیں۔ اس بار جنگ، خونریزی اور عدم استحکام کے سائے نے عید کی خوشیوں کو ماند کر دیا۔ اگر مسلم دنیا نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا تو یہ تاریک دور ختم ہو سکتا ہے۔ دعا ہے کہ آنے والی عیدیں امن، خوشحالی اور اتحاد کی نوید لے کر آئیں اور امت مسلمہ کو سربلندی عطا ہو۔

