پاکستان نے سرحد پار سے مسلسل دہشت گردی کے بعد افغانستان کے مشرقی علاقوں میں بڑا انٹیلی جنس بیسڈ فضائی آپریشن کرتے ہوئے شدت پسندوں کے سات اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر حملہ کیا، جہاں زوردار دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔ کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
بالآخر پاکستان کا صبر جواب دے گیا۔ تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق پاکستان نے وہ قدم اٹھایا جس کے بارے میں پاکستان پہلے سے انتباہ کرتا آرہا تھا۔ سرحد پار سے نہ رکنے والی دہشت گردی، خودکش حملوں اور سیکورٹی تنصیبات پر یلغار کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر خارجی دہشت گردوں کے محفوظ اور خفیہ ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نشانہ بنایا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے رمضان المبارک سے قبل ہی خبردار کیا تھا کہ اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہوتی رہی تو رمضان کے دوران بھی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ افسوس کہ دہشت گرد باز آئے اور نہ ہی ان کے سہولت کاروں کو عقل آئی۔ نتیجتاً رمضان المبارک کے دوران بنوں کینٹ پر حملہ ہوا، جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس کے بعد پاکستان کا ردعمل ناگزیر اور منطقی تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہوئی ہو۔ افغانستان میں امریکی اور دیگر بیرونی افواج کی موجودی کے دوران بھی سرحد پار سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا اور پاکستان نے اس کی بھاری قیمت چکائی۔ ہزاروں جانیں قربان ہوئیں، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا اور سماجی ڈھانچہ متاثر ہوا، تاہم یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ بیرونی افواج کے انخلا اور طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد دہشت گردی میں کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پاکستان کو یہ خوش فہمی تھی کہ افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے گی، سرحد پر امن قائم ہوگا اور خطہ معاشی تعاون اور رابطوں کی نئی راہوں پر گامزن ہوگا، مگر بدقسمتی سے معاملہ برعکس ہوگیا اور افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں پہلے سے زیادہ تیزی آگئی۔
عالم یہ ہوا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق صرف ایک سال میں افغانستان سے پاکستان میں پانچ سو سے زائد حملے کیے گئے، جن میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ یہ اعداد و شمار کسی بھی ذمہ دار ریاست کیلئے ناقابل قبول ہیں۔پاکستان نے حالات بہتر کرنے کیلئے سفارتی اور سیاسی راستے آزمانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کابل کی عبوری حکومت کے ساتھ بات چیت کے کئی ادوار ہوئے۔ علما، قبائلی عمائدین اور بااثر شخصیات کو ثالث بنایا گیا۔ ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں طویل مذاکرات ہوئے، بعد ازاں سعودی عرب نے بھی مفاہمت کی کوشش کی لیکن ہر بار نتیجہ صفر رہا۔ افغان حکام کی جانب سے نہ تو قابل تصدیق اقدامات سامنے آئے اور نہ ہی دہشت گرد گروہوں کیخلاف مؤثر کارروائی دیکھنے میں آئی۔ اس کے نتائج خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بدترین شورش کی صورت میں سامنے آئے۔ آئے دنسیکورٹی فورسز، پولیس اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ خودکش حملوں اور بارودی سرنگوں نے امن و امان کو چیلنج کیا۔ ایسے میں ریاست کے پاس اپنے دفاع کے سوا کیا راستہ بچتا ہے؟ بدقسمتی سے افغان طالبان کی قیادت امریکا جیسی طاقت کو ”شکست” دینے کے بیانیے کے رومانس سے باہر آتی نظر نہیں آتی۔ اس رومانس نے انہیں اپنے متعلق شدید غلط فہمیوں سے دوچار کر دیا ہے، چنانچہ وہ پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ وہ پاکستان کو بھی ”سبق” سکھاسکتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ خطے کے امن کے لئے خطرناک بھی ہے۔ بلاوجہ کے احساس برتری اور فتح کے برخود غلط غرور نے اگر پالیسی سازی پر اثر انداز ہونا جاری رکھا تو اس کے نتائج سب کیلئے نقصان دہ ہوں گے۔
طالبان حکام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دہائیوں کی جنگ کے بعد افغانستان اور پورے خطے کے پاس تاریخی موقع ہے کہ وہ بندوق کی آواز کو کاروبار اور ترقی کی آواز سے بدلنے کی سوچ اپنائیں اور غربت و بے روزگاری کیخلاف مشترکہ حکمت عملی کی طرف آئیں۔ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر امن یک طرفہ نہیں ہوتا۔ افغانستان سے حملے ہوں گے تو پاکستان خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ اب بھی وقت ہے کہ افغان حکام حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کریں، دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی کریں اور دوحہ معاہدے سمیت بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ امن سے بڑی فتح کوئی نہیں۔ جنگ و جدل، قتل و خون اور مسلسل بے یقینی کسی کے مفاد میں نہیں۔ اگر خدا نخواستہ ضد، بے بصیرتی اور غیر لچکدار پالیسیوں کے باعث افغانستان دوبارہ عدم استحکام کی دلدل میں دھنس گیا تو اس کی ذمہ داری طالبان حکام پر عائد ہوگی۔
سید سلمان گیلانی کا انتقال
معروف نعتیہ شاعر اور برجستہ مزاحیہ اسلوب کے حامل سید سلمان گیلانی طویل علالت کے بعد 74 برس کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات سے دینی و ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سید سلمان گیلانی ایک ایسے خانوادے کے چشم و چراغ تھے جس نے تحریک ختم نبوت کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ تحریک ختم نبوت کے حدی خواں سید امین گیلانی کے سپوت تھے، جن کی مترنم آواز اور ولولہ انگیز شاعری نے ختم نبوت محاذ، تحریک نظام مصطفی اور ملی تاریخ کی متعدد تحریکات میں روح پھونکی۔ اس عظیم وراثت کو سید سلمان گیلانی نے نہ صرف سنبھالا بلکہ اپنے منفرد انداز اور دلنشین لہجے کے ساتھ آگے بڑھایا۔ انہیں شاعرِ ختم نبوت کا لقب بھی ملا۔ ان کی شاعری میں عقیدت کی چاشنی، محبتِ رسول کی وارفتگی اور سلامت فکر نمایاں تھی۔ علمائے کرام اور سیاسی زعما نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

