عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کی حالیہ معاشی کارکردگی کو مثبت قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں معیشت میں استحکام آیا ہے۔آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام میں سادگی اور شفافیت بڑھانے کی سفارشات کیں اورسرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت پربھی زوردیا۔ واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے بتایا کہ ای ایف ایف پروگرام کے تحت اختیار کی گئی اصلاحات سے مالی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے اور مالی سال 2025 میں پاکستان نے جی ڈی پی کے 1.3 فیصد کے برابر بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جو طے شدہ اہداف کے مطابق ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو گزشتہ برسوں میں شدید معاشی دبائو اور بیرونی ادائیگیوں کے بحران کا سامنا رہا۔مزید برآں پاکستان نے 14 برس بعد پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جو بیرونی شعبے میں بہتری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ حال ہی میں شائع کی گئی، رپورٹ میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں، ٹیکس پالیسی کو سادہ بنانا اہم ترین ٹیکس اصلاحات ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کی معیشت اور معاشی نظم و نسق میں بہتری کا اعتراف حکومت کی معاشی ٹیم کے لیے ایک حوصلہ افزا امر ہے اورحکومتی حلقے اس پیش رفت کو اعتماد کی بحالی قرار دے رہے ہیں جبکہ کاروباری برادری اسے سرمایہ کاری کے لیے مثبت اشارہ سمجھ رہی ہے۔آئی ایم ایف کے اس بیان کے بعدحکومت کو توقع ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ قرضے کی اگلی قسط کے لیے مذاکرات کامیاب رہیں گے اور پاکستان کے لیے آیندہ قسط کے اجرا کی راہ ہموار ہوگی جس سے زرمبادلہ کے ذخائر مزید مستحکم ہوں گے اور معاشی بحالی کا عمل تقویت پائے گا۔بعض معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں پاکستان کی معیشت اور معاشی نظم و ضبط میں بہتری سے متعلق بیان دراصل عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے اس امر پر اظہار اطمینان ہے کہ حکومت پاکستان آئی ایم ایف سے جن شرائط پر قرضہ لے رہی ہے،ان شرائط پر بہت حد تک عمل کیا جارہا ہے،آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکسوں اور محصولات کی وصولیابی کے جواہداف دیے جاتے ہیں،وہ پورے کیے جارہے ہیں اور قرضے کے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے حکومت کی معاشی ٹیم کی کارکردگی بہتر ہے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ گیری کے معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت میںحقیقی معنوں میں کتنی بہتری آئی ہے اور پاکستان کے عوام کے معیار زندگی پر آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرنے سے کتنا مثبت اثر پڑا ہے؟اس بارے میں آئی ایم ایف کی رپورٹ زیادہ کچھ نہیں کہتی البتہ آئی ایم ایف کی اس رپورٹ کے ساتھ ہی ملک میں غربت کی صورت حال سے متعلق خود حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ چھپی ہے جو بتارہی ہے کہ گزشتہ سات برسوں میں(2018ء میں عمران خان حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے نیا معاہدہ کیے جانے کے بعدسے اب تک) پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ 7 سال میں چاروں صوبوں میں غربت میں اضافہ ہوا۔انہوںنے تفصیل بتائی کہ شہری علاقوں میں غربت 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہوگئی۔ پنجاب میں غربت 16.5 فیصد سے بڑھ کر 23.3 فیصد ہوگئی، سندھ میں غربت 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد ہوگئی، خیبرپختوانخواہ میں غربت 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3فیصد ہوگئی، بلوچستان میں غربت 41.8فیصد سے بڑھ کر 47فیصد ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم بہت کم ہوگیا، میکرواکنامک استحکام کے لیے آئی ایم ایف پروگرام نافذ کرنا پڑا، روپے کی قدر گرنے سے مہنگائی نے لوگوں کو بری طرح کچلا، غربت کے خاتمے کے بغیر معیار زندگی بہتر نہیں ہو سکتا۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پالیسی کے عدم تسلسل، کورونا وبا کے علاوہ آئی ایم ایف پروگراموں کو غربت میں اضافے کی وجہ قرار دیا۔
گویا آئی ایم ایف کا بیان ہے کہ اس کی شرائط پر عمل کرنے سے پاکستان کی معیشت میں بہتری آئی ہے جب کہ حکومت پاکستان کہہ رہی ہے کہ ملک میں غربت بڑھی ہے اور آئی ایم ایف کے مطالبے پر ملکی کرنسی گرانے اور ٹیکس بڑھانے کی پالیسی نے عام آدمی کو کچل کر رکھ دیا ہے۔
آئی ایم ایف نے اپنے مذکورہ بیان میں یہ بھی دعوی کیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جس سے عام شہریوں پر دبائو نسبتاً کم ہوا جبکہ اس بیان کے ساتھ ہی شائع ہونے والی دوسری رپورٹ میںوفاقی ادارہ شماریات بتارہا ہے کہ رمضان المبارک کے آغاز پر ہی مہنگائی کی شرح میں بڑا اضافہ ہو گیا، ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح 1.16فیصد تک بڑھ گئی جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی مجموعی شرح 5.19 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ادارہ شماریات کے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کے اعدادوشمار کے مطابق ایک ہفتے میں 17اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ میڈیا رپورٹوں کے مطابق مارکیٹوں میں اشیاء صرف بالخصوص پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں وفاقی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں اور پرائس کنٹرول کے محکمے چند نمائشی اقدامات کے سوا مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔بے قابو مہنگائی اور افراط زر نے عام آدمی کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف بنادیا ہے اور بالخصوص محنت کش و تنخواہ دار طبقہ سخت معاشی دباؤ کی زد میں ہے۔
ایسے حالات میں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی معیشت میں بہتری آنے کی نوید پاکستان میں عام آدمی کے لیے کچھ زیادہ قابل فہم نہیںہے ۔عام آدمی کی نظر میں معیشت کی بہتری کی پیمائش کا سادہ فارمولا یہی ہوتا ہے کہ ملک میں عوام کی حالت زار میں کچھ بہتری آجائے،مہنگائی میں کمی ہو اور بنیادی انسانی ضروریات کی سستی فراہمی یقینی بنائی جائے۔پاکستان کے عوام ٹیکس دینے سے انکاری نہیں ہیں، وہ تو ماچس کی ڈبیا پر بھی ٹیکس دیتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ان ٹیکسوں کے بدلے میں حکومت انہیں کیا دے رہی ہے؟ اگر معیشت بہتر ہو رہی ہے تو اس کا عام آدمی کو کوئی فائدہ کیوں نہیں پہنچتا؟

