پاکستان پر حملوں کا جواب، اسی زبان میں دیا جائے گا

ریاستِ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردوں کو مزید مہلت نہیں دی جائے گی اور مملکتِ خداداد پر حملوں کا جواب اسی زبان میں دیا جائے گا جیسا کہ گزشتہ سے پیوستہ شب کو افغانستان کے سات مقامات پر موجود دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنا کر ردعمل واضح کیا گیا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان نے پاکستان کے اقدام کو بے گناہوں پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے جبکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ طالبان قیادت نے پاکستان سے بدلہ لینے کے عزائم کا اظہار کیا ہے۔ اگر اس قسم کی اطلاعات میں کچھ بھی سچائی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو مزید حملوں کے لیے مکمل تیار رہنا چاہیے۔ دراصل اصولی بات یہ ہے کہ حفظِ نفس کی طرح ہر ریاست اپنی آزادی و خودمختاری اور سرحدوں کے تحفظ کا مکمل اخلاقی، شرعی اور قانونی حق رکھتی ہے۔ یہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے۔ جغرافیائی حدود کا مسئلہ انسانی تاریخ کے ہر دور میں رہا ہے لیکن عصرِ حاضر میں جب جغرافیائی حدود متعین کرلی گئی ہیں تو ایسے میں کوئی ریاست اپنی سرحدوں کا تحفظ نہیں کر سکتی تو وہ ایک ریاست کی شناخت ہی کھو دیتی ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے ایک سے زائد مرتبہ کہا جا چکا ہے کہ وہ پاک افغان سرحدی حد بندی کو تسلیم نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں یہ پاکستان کے وجود ہی سے انکار کا اعلان ہے۔ معاملہ صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ افغان طالبان ان دہشت گردوں، فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کے کارندوں کی پرورش، ان کی سرپرستی اور پشت پناہی میں بھی ملوث ہیں جوکہ بھارت کے ہاتھوں استعمال ہوکر پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔ پاکستان کے پاس افغان سرزمین سے ہونے والی سہولت کاری کے مکمل شواہد موجود ہیں۔ جن کیمپوں کو پاک فضائیہ نے نشانہ بنایا، ان میں ہونے والے دھماکے یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ وہاں بارود کا بھاری ذخیرہ موجود تھا۔ کیا عام لوگ گھروں میں اتنی بھاری مقدار میں گولا وباردو رکھ سکتے ہیں؟ یہ یقینی طورپر دہشت گردی کے کیمپ تھے جنھیں پاکستان نے حفاظت وطن، عوام کے تحفظ اور جوابی اقدام کے طورپر نشانہ بنایا۔ کیا کوئی بھی ریاست اپنے وجود پر ایسے حملے برداشت کر سکتی ہے جیسا کہ اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں کیے گئے؟ افغان طالبان کو خطے کے امن سے کوئی سروکار نہیں ہوگا لیکن انھیں اپنی اور اپنے ملک کی فکر ضرور کرنی چاہیے۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے دوٹوک الفاظ میں یہ بات کہی ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی برداشت کی انتہا سے آگے بڑھ چکی ہے اور پاکستا ن دفاع کے فطری حق کے تحت اقدامات کر رہا ہے۔ صدرِ مملکت نے اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور ذیلی اداروں کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے اجاگر کیا کہ افغان حکام نے انتباہا ت کے باوجود صورت حال کی بہتری کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ یہ بات بھی غیر مبہم نہیں کہ علاقائی ممالک اب افغانستان کی داخلی صورت حال کو اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان نے وسطی ایشیائی ریاستوں سے تعلقات میں مزید گرم جوشی پیدا کی ہے۔ ایسے میں افغان مسئلے کے حل پر گفت و شنید اور مذاکرات عین قرینِ قیاس ہیں۔ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے متعدد ادوار سے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ وہ کسی بھی امن معاہدے میں سنجیدہ نہیں، نہ ہی ان کے وعدوں پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ دوحہ معاہدے میں وہ پوری دنیا سے وعدہ کر چکے تھے کہ ان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہوگی لیکن اب مکمل ڈھٹائی سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ الٹا پاکستان پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ افغانستان کی طالبان حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں رچا رہا ہے۔ عین یہی زبان بھارتی میڈیا بھی استعمال کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دو ریاستوں کے درمیان امن، مصالحت اور بہتر تعلقات کا فروغ معاہدوں کی پاس داری کے سوا کیوں کر ممکن ہے؟ افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا بنیادی طورپر افغان طالبان کی ذمہ داری ہے۔ اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، جیسا کہ وہ ہو رہی ہے تو ان دو باتوں کے سوا تیسری کیا بات ممکن ہو سکتی ہے کہ اول افغان طالبان خود دہشت گردوں کی پشت پناہ ہیں، ثانیاً وہ ان کے معاملے میں تساہل، لاپروائی اور غفلت سے کام لے رہے ہیں؟ دونوں صورتوں میں پاکستان اپنے وجود پر حملہ کرنے والوں کو نشانہ بنانے میں مکمل طورپر آزاد ہے۔ اگر افغان طالبان یہ بھی تسلیم کرلیں کہ وہ فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کے دہشت گرد گروہوں کے مقابلے سے عاجز ہیں تو بھی شاید انہیں کسی حد تک بے قصور قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ان کی جانب سے مسلسل پاکستان ہی پر الزام تراشی کی جا رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے پاس اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ وہ خود ان دہشت گردوں کی سرکوبی کرے جو دین، جہاد اور شریعت کو خون خرابے، فساد اور تباہی کا عنوان بنا کر پیش کرنے کے درپے ہیں اور کفار و مشرکین کے ہاتھو ں استعمال ہوکر ایک مسلم ریاست کے وجود کو مٹانے کی شرم ناک سازشوں میں ان کے دست و بازو بن چکے ہیں؟

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پراکسی وار کے تحت پاکستان پر ہونے والے حملوں کا جواب نہ دینے کا مطلب اپنے حقِ دفاع کو اپنے ہاتھوں کھونا اور دوسرے الفاظ میں خود کشی کا ارتکاب کرنا ہے۔ یہاں مذاکرات کی منطق خودکش حملوں، انتقام کے نعروں اور لویہ افغانستان کے خوابوں کے سامنے بے معنیٰ ہو چکی ہے۔ افغان طالبان نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ریاست کی بجائے آمرانہ طرزپر قائم غیر منظم گروہ ہیں اور ریاستوں کے مابین تعلقات کی نزاکتوں، سفارتی پیچیدگیوں اور سیاسی معاہدوں کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ ان کا سیاسی فہم نہایت کمزور اور انتظامی صلاحیت محض طاقت کے بے لگام استعمال پر مشتمل ہے۔ ان کا فہم دین بھی انتہائی ناقص ثابت ہورہا ہے۔ افغان طالبان اگر ایک بھولی بسری داستان نہیں بننا چاہتے تو اب بھی ان کے پاس وقت ہے کہ وہ معاہدوں کی پاس داری کرتے ہوئے علاقائی ممالک کی جائز شکایات کا ازالہ کریں، خوارج کی روش پر چلنے کی بجائے مسلم امہ کے اتحاد اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدگی اختیار کریں اور پاکستان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ ترک کر کے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ترک کر دیں، بصورتِ دیگر وہ اپنی سیاسی غلطیوں کی بھاری قیمت چکائیں گے اور نفاذِ شریعت کی جدوجہد کو ایک سعی لاحاصل باور کروا کر اپنا وجود کھو بیٹھیں گے۔