انسانیت کے خلاف صہیونی جرائم کی ہولناک داستانیں

غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے 8ہزار شہداء کے جسد خاکی دبے ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں، غزہ کی پٹی میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے انکشاف کیا ہے کہ پٹی کے مختلف علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے اب بھی تقریباً 8 ہزار شہداء کے جسدِ خاکی دبے ہوئے ہیں جبکہ تلاش اور لاشیں نکالنے کی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ محمود بصل نے اپنے بیان میں کہا کہ شہری دفاع کا عملہ انتہائی پیچیدہ حالات اور محدود وسائل کے باوجود اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے کئی آفت زدہ مقامات تک رسائی میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 3 ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں جن کے انجام کے بارے میں کوئی یقینی خبر معلوم نہیں۔

قابض و ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی جانب سے دوسالہ جنگ کے دوران غزہ میں انسانیت کے خلاف جن ہولناک جرائم کا ارتکاب کیا گیا، عالمی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی اطلاعات ان کی مکمل تفصیلات کا تاحال احاطہ نہیں کر پائی ہیں اور وقفے وقفے سے وہاں سے جس طرح کی داستانیں موصول ہورہی ہیں، ان سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک انتہائی منظم نسل کشی تھی جوصہیونی درندوں نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کی اور جنگ بندی کی آڑ میں اس وقت بھی کر رہے ہیں۔ کیاغزہ میں 8ہزار سے زائد کلمہ گو فلسطینیوں کے شہداء کے تاحال بے گوروکفن ملبے تلے موجود ہونے کا انکشاف دنیا کے آٹھ ارب انسانوں اور بالخصوص دو ارب مسلمانوں کے لیے باعث شرمندگی نہیں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں جس شقاوت و سنگدلی کے ساتھ صہیونی فوج نے انسانیت کی حرمت کوپامال کیا ہے، وہ رہتی دنیا تک پورے عالم انسانیت کے ماتھے پر کلنگ کا ٹیکا اور امت مسلمہ کی پیشانی پر لگا انمٹ داغ ہے۔ مستقبل کا مورخ دنیا کی مبغوض ترین قوم کی جانب سے غزہ میں انسانیت کے خلاف بدترین جنگی جرائم کے ارتکاب کے دوران نام نہاد عالمی برادری، انسانیت کی علمبردار قوتوں اور انسانی حقوق کے بھاشن دینے والے عالمی اداروں کی بے حسی اور خاموشی پر ضرور نفرین بھیجے گا۔

بات صرف قصہ ماضی تک محدود نہیں۔ اس وقت بھی غزہ کے بیس لاکھ نفوس قیامت سے گزر رہے ہیں۔ چنانچہ غزہ سے ملنے والی تازہ اطلاعات کے مطابق شدید سردی، خوراک کی قلت اور ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے انسانی المیے کی شدت میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ غزہ سے متصل رفح بارڈر پر خوراک، ادویات اور ضروری وسائل سے لدے بیسیوں نہیں سینکڑوں ٹرک موجود ہیں جنھیں صرف چند کلو میٹر ہی سفر طے کرنا ہے لیکن عالمِ اسلا م کے ستاون ملک بھوک، زخموں اور بیماریوں سے شہید ہونے والے بچوں، عورتوں اور بیماروں کی دادرسی کے لیے امدادی سامان کو اسرائیل کی مرضی کے بغیر مصر کی سرحد سے غزہ تک پہنچانے کی سکت بھی نہیں رکھتے۔ قابض صہیونی فوج جنگ بندی کے باوجود روزانہ بیسیوں اہداف پر بم مار کر فلسطینیوں کا چن چن کا قتل کر رہی ہے اور اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔

بلاشبہ یہ منظر تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے رقم ہوچکا ہے کہ بدترین محاصرے کا شکار فلسطینیوں نے امریکا کی مکمل پشت پناہی رکھنے والی شیطانی طاقت سے نہ صرف ٹکرلی بلکہ اس کی فوجی قوت کا بھرم توڑ کر ثابت کردیا کہ ذہانت، ہمت و حوصلے، ثابت قدمی اور مشکلات کا سامنا کرنے کی وہ صلاحیت جو اسلام اپنے ماننے والوں کو عطا کرتا ہے، آج بھی خاکستر میں پوشیدہ چنگاری کی مانند نمودار ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب یہ افسوس ناک نظارہ بھی تاریخ میں محفوظ ہوچکا کہ تیل، معدنی وسائل، بے پناہ دولت اور اسلحہ کے انبار رکھنے کے باوجود مسلم ممالک اپنے بچوں کے قتلِ عام کو رکوانے میں ناکام رہے۔ کھلی دہشت گردی، علانیہ نسل کشی، عالمی قوانین اور انسانی اخلاقیات کی صا ف صاف خلاف ورزی اور بدترین مظالم کو بچشمِ خود ملاحظہ کرنے کے باوجود اسلامی ممالک پر مسلط کھرب پتی بادشاہتیں غزہ کے مظلومین کی داد رسی کے لیے کچھ کرسکے نہ بھاری بھرکم افواج رکھنے والے اسلامی ممالک صہیونی درندگی کا راستہ روک سکے۔ عالمِ اسلام پر چھائی ہوئی افسوس ناک بے بسی اور مسلم ریاستوں کی بے وقعتی کی بنیادی وجہ ‘بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست’ کے ظاہری مقتضی پر عمل کے سوا اور کچھ نہیں۔ ستاون اسلامی ممالک جغرافیائی حد بندیوں کے اسیر اور قومیتوں اور مذہبی و لسانی شناختوں کے تعصبات میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ غزہ کے معصوم بچوں اور عورتوں کی حالتِ زار کو فراموش کرچکے ہیں، لیکن انھیں یہ بات یاد رکھ لینی چاہیے کہ بہت جلد یہ وقت ان پر بھی آسکتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی امداد کے خواہاں ہوں گے لیکن وہاں سے انھیں کوئی جواب نہیں مل پائے گا۔ عالمی سیاست پر کفریہ قوتوں کا غلبہ مسلمانوں کے لیے کس ذلت و رسوائی، اذیت اور دردناک صورتِ حال کا سبب بنتا ہے غزہ کی صورتِ حال سے یہ سب واضح ہے۔

اسرائیل کا سرپرست امریکا دوسال جنگ کے دوران بھی ناجائز صہیونی ریاست کی پشت پر رہا اور اس وقت بھی وہ اسرائیل کی خاطر ساری دنیا سے جنگ مول لینے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ آج اگر امریکی صدر ٹرمپ ایران کو نہ صرف جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں بلکہ ان دھمکیوں کو موثر بنانے کے لیے اپنے دو بڑے بحری بیڑے بھیج چکے ہیں تو اس کا مقصد بھی سوائے اس کے اور کیا ہے کہ اسرائیل کو کسی ممکنہ خطرے سے بچایا جا سکے۔ غزہ امن بورڈ کے نام پر امریکی صدر ٹرمپ نے جو کھیل شروع کیا ہوا ہے، بہت سے عالمی مبصرین کے مطابق اس کا بھی اصل مقصد اور ہدف بھی ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کو تحفظ دینا اور اپنی جدی پشتی سرزمین کے دفاع کی جائز جنگ لڑنے والے فلسطینی مسلمانوں کو نہتا کرنا ہے۔ اسرائیل دوسال تک تاریخ کی بدترین دہشت گردی برپا کرنے اور ہزاروں ٹن کا بارود غزہ پر برسانے کے باوجود فلسطینی مقاومت کو سرنڈر کروانے اور غیر مسلح کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ، اب یہ مشن چند اسلامی ممالک کے ہاتھوں مکمل کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ پاکستان سمیت متعدد اسلامی ممالک شاید حالات کے جبر کا شکار ہوکر نام نہاد امن بورڈ کا حصہ بن چکے ہیں اورحالیہ رپورٹوں کے مطابق انڈونیشا امریکی صدر ٹرمپ کے ایما پر اپنی فوج بھیجنے پر بھی تیار ہے تاہم فلسطینی مقاومتی تنظیموں نے یہ واضح کیا ہے کہ جب تک اسرائیلی فوج غزہ سے نہیں نکلتی مقاومت اسلحہ نہیں رکھے گی اور یہ کہ امن فوج کا کردار صرف جنگ بندی کی نگرانی کرنے اور اسرائیلی فوج اور فلسطینی شہریوں کے درمیان حفاظتی دیوار بننے تک محدود ہونا چاہیے۔ ایسے میں پاکستان سمیت اسلامی ممالک پر یہ لازم ہے کہ وہ اگر اس مشکل وقت میں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوسکتے تو کم از کم ان کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہ بنیں، ان کے دفاع کے لیے نہیں پہنچ سکے تو کم سے کم اب ان کے ساتھ جنگ کے لیے بھی نہ جائیں۔