امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق غزہ کے امن کے نام پر قائم ہونے والی بین الاقوامی انجمن میں شامل ممالک تعمیر و ترقی کے لیے محض وسائل اور افراد ہی نہیں بلکہ مالی امداد کے ساتھ ساتھ امن کی خاطر اپنی افواج بھی تعینات کریں گے۔ امریکی صدر کے مطابق غزہ میں عالمی فورس کی تعیناتی کے مقاصد میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہوگا۔ امریکی صدر کے بیان کے مطابق غزہ کے حوالے سے قائم بین الاقوامی انجمن کے اجلاس میں جلد ہی ان فیصلوں کا اعلان بھی کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر کے اعلان پر تاحال بین الاقوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پاکستان جوکہ غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہے، اس بیان پر خاموش ہے تاہم تجزیہ کاروں کے خیال میں پاکستان غزہ میں قیامِ امن کے لیے فلسطینی عوام کی حمایت یافتہ کسی بھی تنظیم کے ساتھ الجھنے کی غلطی نہیں کرے گا کیوں کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے اور بعض سیاسی و مذہبی گروہ فوج کی مخالف میں عوام کو سڑکوں پر لانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، حماس جیسی مقبول جماعت کے خلاف کسی امریکی کارروائی میں شرکت پاکستان کے لیے داخلی طورپر امن و امان کے سنگین مسائل کا سبب بن سکتی ہے جوکہ بذاتِ خود بھارت، اسرائیل اور افغانستان کے مشترکہ اتحاد کے لیے سودمند صورت حال ہوگی۔ البتہ پاکستان اور ترکیے اور سعودی عرب مل کر اس صورت حال کا کوئی حل ضرور تلاش کر سکتے ہیں تاکہ انھیں غزہ میں فلسطینی مجاہدین کے ساتھ الجھانے کا منصوبہ ابتدا ہی میں ناکام ہو جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کا عندیہ دے چکا ہے اور اسی تناظر میں اسرائیلی میڈیا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اتحاد کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے، ان تینوں مضبوط مسلم ریاستوں کو ٹرمپ کے جھانسے میں آکر اپنی ساکھ کو تباہ کرنے کا کوئی شوق نہیں پالنا چاہیے۔
غزہ بورڈ آف پیس کو مستقبل کے لیے ایک نئے عالمی پلیٹ فارم کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے جہاں اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کو منظور شدہ عالمی قوانین سے ہٹ کر نئے فیصلے کیے جا سکیں گے۔ معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے الزامات کی وجہ سے اپنے عوام میں تیزی سے غیر مقبول ہوتے امریکی صدر ٹرمپ کے خیال میں ان کی زیرِ صدارت یہ پلیٹ فارم دنیا میں امن کے قیام کے لیے کوئی اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہے تاہم تاریخی حقائق اور فطری قوانین اس خام خیالی کی حمایت نہیں کرتے۔ امر واقع تو یہ ہے کہ طاقت ریاستوں کو جب عالمی قوانین کے تحت کوئی راستہ نہیں ملتا تو نئے عالمی اتحاد قائم کر کے اپنے مفادات کی تکمیل کی کوئی راہ نکال لیا کرتے ہیں۔ طاقت، بالادستی اور جبر و غلبے کا اظہار کے لیے وہ کمزور ممالک کو اپنا ہم آواز بنانے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔
بورڈ آف پیس بھی ایک ایسا ہی کھیل ہے جس کا مقصد امن کی آڑ میں مخصوص مفادات کی تکمیل اور علاقائی ممالک پر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ نئے عالمی ادارے عسکری اتحادوں، تجارتی معاہدوں اور علاقائی تسلط کے لیے استعمال ہوتے ہیں کیوں کہ ہر بڑی طاقت چاہتی ہے کہ اس کے زیرِ تسلط علاقوں پر اسی کا سکہ رائج رہے اور دیگر قوتوں کو قدم جمانے کا کوئی موقع نہ ملے۔ امنِ عالم کے موجودہ نظریات دراصل اسی فکر کی عملی تطبیق کے لیے ہیں۔ بچوں کی حرمت پامال کرنے والوں کو بھلا انسانیت، امن، سلامتی اور عام لوگوں کے امن و سکون کی کیا فکر لاحق ہو سکتی ہے۔ بالخصوص غزہ کی صورت حال کے حوالے سے تو امریکی صدر کی زبان سے امن کا نام بھی اس لفظ کی تضحیک معلوم ہوتا ہے۔ کیا دنیا اس بات سے بے خبر ہے کہ امریکی ساختہ مہلک ترین میزائلوں کی مدد سے ہی اسرائیل درجنوں بلکہ سینکڑوں فلسطینی بچوں، خواتین اور آزادی و خود مختاری کے ساتھ جینے کا عزم رکھنے والے جواں ہمت نوجوانوں کو دھواں بنا کر اڑا رہا ہے۔ امن کے اعلان کے باوجود آج بھی یومیہ بنیادوں پر فلسطینی عوام کا خون بہایا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے وہاں مستقل عدمِ استحکام، بدامنی، تشدد اور انسانوں کا قتلِ عام جاری ہے۔ ہجرتیں، نقل مکانی، مہاجرین کو درپیش سنگین صورت حال اور دردناک انسانی المیے اس مقدس خطے کے لیے روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ کیا ان ستر برسوں میں امریکا نے کسی بھی موقع پر اسرائیل کو فلسطینی بچوں اور عورتوں کے قتلِ عام سے روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی؟ کبھی نہیں۔ اور یہ امر بھلا ممکن کیسے ہے جبکہ خود امریکی اشرافیہ بچوں اور خواتین کے ہمہ نوعیت استحصال، جبر اور تشدد کو ایک مشغلے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔ اس ظلم، فساد اور جبر کے عادی مجرموں کے ساتھ مسلم ممالک کو قیامِ امن اور سلامتی کی کوئی خوش فہمی نہیں پالنی چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کسی بھی معاہدے کی صورت میں مسلمان بچوں، خواتین اور مریضوں کا تحفظ کس طرح کر سکتے ہیں اور کیسے ظالموں کے چنگل سے قیدیوں کو چھڑایا جا سکتا ہے؟ معاہدے انہی بنیادوں پر ہوں تو وہ فلسطینی عوام کے لیے مستقبل میں آزادی اور خودمختاری کی راہیں کشادہ ہونے کا سبب بنیں گے۔
بحیثیت مسلمان ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پرہیز گاری، خلوص اور انسانوں کا قرار واقعی احترام کیے بغیر کوئی بھی پلیٹ فارم یا عالمی انجمن امن اور سلامتی کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ خود اقوام متحدہ ہی نے اب تک بڑی طاقتوں کے مفادات کا احترام یقینی بنایا ہے جبکہ مسلم امہ کو اس طویل دور میں مسلسل اذیتوں، تکالیف اور استحصال ہی کا سامنا رہا ہے۔ جن مسلم ممالک نے کوئی کامیابی حاصل بھی کی تو وہ اپنے قوتِ بازو پر بھروسے کی وجہ سے کی۔ غزہ میں امن کا قیام بھی اپنے ہی زورِ بازو آزمانے کی وجہ سے ممکن ہوگا بصورت دیگر امریکا جس راہ کا مشورہ دے رہا ہے وہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے تینوں کے لیے دلدل یا کھائی کی جانب جاتا ہے۔ طاقت اخلاق سے جدا ہو جائے تو صرف ظلم ہی باقی رہ جاتا ہے اور امریکا نے اپنی پوری عسکری تاریخ میں ظلم کے سوا کوئی کارنامہ انجام دیا ہو تو اسے سامنے لانا چاہیے۔ یہی کھیل غزہ بورڈ آف پیس کے نام پر بھی کھیلا جائے گا۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ اگر یہ کوئی ٹریپ ہے تو اسے الٹا کیسے جا سکتا ہے؟ بچوں کی حرمت پامال کرنے والی امریکی اشرافیہ عالمی صہیونی تحریک کے اشاروں پر ناچنے کے علاوہ اور کیا کارنامہ انجام دے سکتی ہے کہ پاکستان جوکہ اس وقت مسلم امہ کا بازوئے شمشیر زن اور سب سے بڑی عسکری قوت ہے، ان کے اشاروں پر چلنے کے لیے تیار ہو جائے؟ پاکستان نے متعدد مواقع پر امریکی دباؤ کا سامنا کیا ہے۔ فلسطین کے معاملے پر پاکستان مسلم امہ کی ایک توانا آواز کی حیثیت رکھتا ہے۔ غزہ کے نام پر بننے والے نئے عالمی بورڈ میں بھی پاکستان کو محتاط پالیسی اپنانی چاہیے اور فلسطینی کاز کے حق میں ہی ثابت قدم رہنا چاہیے۔

