کوہاٹ/کرک/جنوبی وزیرستان: کوہاٹ میں پولیس موبائل پر فائرنگ سے ڈی ایس پی سمیت 5 اہلکار اور دو شہری شہید ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق کوہاٹ کے نواحی علاقے شکردرہ کے مقام پر دہشت گردوں کی جانب سے پولیس موبائل پر فائرنگ کی گئی۔
ڈی پی او شہباز الٰہی نے تصدیق کی کہ پولیس موبائل پر دہشت گرد حملے میں ڈی ایس پی اسد محمود، ایس آئی انار گل سمیت 5 اہلکار شہید ہوئے، شہداء میں 2 شہری بھی شامل ہیں جبکہ 3 اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں نے حملے کے بعد پولیس موبائل کو بھی آگ لگا دی اور موقع سے فرار ہوگئے جبکہ پولیس کی بھاری نفری موقع پر طلب کر لی گئی ہے۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کوہاٹ کے علاقے میں پولیس گاڑی پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے حملے کی پرزور مذمت کی اور جام شہادت نوش کرنے والے ڈی ایس پی اسد محمود اور اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور شہداء کے خاندانوں سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی اسد محمود اور دونوں اہلکاروں نے شہادت کا عظیم رتبہ پایا، شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور دونوں اہلکاروں نے اپنا آج قوم کے کل پر قربان کیا، شہداء کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ دکھ کی گھڑی میں شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ادھروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے ڈی ایس پی او اہلکاروں کی شہادت پر خراج عقیدت پیش کیا گیا، انہوں نے آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
دریں اثناء گزشتہ روزکرک میںخوارج نے فیڈرل کانسٹیبلری کے زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو آگ لگا کے ان مریضوں کو زندہ جلادیاتھا۔آگ میں جلا کے شہید کیے جانے والے فیڈرل کانسٹیبلری کے تمام اہلکار خیبر پختونخوا کے مقامی تھے۔
خوارج نے اس واقعے کی پوری فلم بندی کر کے اْس کو سوشل میڈیا پر ڈال دیا۔آگ لگنے کی وجہ سے ایمبولینس کا ڈرائیور اور ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار بھی جھلس گیا۔آگ میں جل کے شہید ہونے والے زخمی اہل کاروں میں فیڈرل کانسٹیبلری کے سپاہی مراد گل، سپاہی ایان خان اور لانس نائیک عادل خان شامل ہیں۔
سپاہی مراد گل شہید اور سپاہی ایان خان شہید کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو سے تھا اور لانس نائیک عادل خان شہید کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے تھا جبکہ دیگر زخمیوں میں حوالدار صابر ولد حکیم شاہ، محمد یوسف ولد شربت خان، حنیف ولد گل زرین اور ایمبولینس ڈرائیور احمد حسین شامل ہیں جو سارے خیبرپختونخوا کے مقامی پختون ہیں جنہیں علاج کے لیے بنوں اور کرک کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں جنوبی وزیرستان میں نامعلوم مسلح افراد نے سرکاری سکول کو بارودی مواد سے اڑا دیا۔پولیس ذرائع کے مطابق تحصیل برمل میں دھماکے سے گورنمنٹ مڈل اسکول شریف خان کوٹ کے دو کمرے، باتھ رومز، مین گیٹ اور ایک طرف چار دیواری مکمل تباہ ہوگئی جب کہ قریبی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بارودی مواد کے دھماکے میں جانی نقصان نہیں ہوا، اِس سے قبل بھی دہشتگردوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول اعظم ورسک کو بارودی مواد سے دھماکے کے ذریعے تباہ کر دیا تھا۔

